ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیراہتمام وائس چانسلروں کااجلاس

ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیراہتمام وائس چانسلروں کااجلاس
January 05 11:24 2018 Print This Article

قومی ہم آہنگی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کر تا رہوں گا۔ڈاکٹرمختاراحمد،چیئرمین ایچ ای سی پاکستان

خیبر پختونخواہ کے وائس چانسلرز نے فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے اعلی تعلیمی کمیشن کی کھل کرتعریف کی

لاہور(علی ارشد سے ) ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی سرکاری و نجی جا معات کے وائس چانسلروں کی اکیسویں میٹنگ کا نعقاد مقامی ہو ٹل میں کیا گیا۔ اجلاس کا مقصد ملکی جامعات میں گورننس اور معیار ی تعلیم کے معاملات پر غور و خوض کرنا تھا۔ میٹنگ کی سربراہی ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد و چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی ڈاکٹر معصوم یسین زئی اور چئیر مین ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پا کستان ڈاکٹر مختار احمد نے کی۔

ملک کے تین صوبوں سے تعلق رکھنے وا لے سرکاری و نجی جا معات کے سربراہان نے اجلاس میں ویڈیو لنک اور بذات خود شر کت کی جن میں وائس چانسلر لمز ڈاکٹر سہیل نقوی، وا ئس چانسلر قا ئد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر جا وید اشرف، وا ئس چانسلر پمز اسلام آباد ڈاکٹر جا وید اکرم، وا ئس چانسلر فا طمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، ریکٹر ور چوئل یونیورسٹی ڈاکٹر نوید اے ملک، وا ئس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی قاضی ڈاکٹر محمد سعید سمیت بڑی تعداد میں سربراہان نے شر کت کو یقینی بنا یا۔

چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی ڈاکٹر معصوم یسین زئی نے اجلاس کا آغاز کر تے ہو ئے بتایا کہ باہمی روابط کو مستحکم کرنے اور شعبے کے مسائل کے حل کے لئے اتفاق و ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ اعلٰی تعلیمی شعبے کی ترقی کے سفرسے بھی آگاہ کیا گیا۔ میٹنگ سے خطاب کر تے ہو ئے چئیر مین ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پا کستان ڈاکٹرمختار احمد کا کہنا تھا کہ اعلی تعلیمی کمیشن جامعات اور الحاق شدہ کالجوں میں گورننس اور معیار تعلیم کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ جا معات کے تدریس کے معیار میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے تاہم ہمیں ابھی بہت کام کرنا ہے ۔ الحاق شدہ کالجوں میں کوالٹی انہانسمنٹ سیلز بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو پرکھا جا سکے ۔ پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبہ کو آگے لے کر جانا اور مضبوط احتساب کے ساتھ جامعات کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مختار احمد نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح ملک میں اعلی تعلیمی شعبے کے لیے پیہم کام کرنا ہے ۔ وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک بشمول موریشس ، بنگلہ دیش اور بیلاروس نے اعلی تعلیمی کمیشن کے ماڈل پر اعلی تعلیمی ادارے قائم کرنے میں پا کستان سے مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں ٹیم ورک کے علاوہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور اعلی تعلیمی کمیشن تعلیم کے ذریعے قومی یگانگت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے ۔ ملک کے اعلی تعلیمی اداروں کا دوسرا بڑا مسئلہ پنشن کے واجبات ہیں ۔جامعات کے سربراہ معاشی معاملات سے متعلق درست اسٹڈی کروائیں اور معاشی معاملات کا حل تلاش کریں یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیمی کمیشن کی مکمل معاونت حاصل ر ہے گی۔
اجلاس کے دوران تمام وائس چانسلروں نے اعلی تعلیمی کمیشن کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر تے ہو ئے ویثرن کی تعریف کی اور اپنی جامعات کے مسائل سے آگاہ کیاجس پر ڈاکٹر مختار احمد نے اعلی تعلیمی کمیشن کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اعلی تعلیمی کمیشن جامعات کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے ۔ ما سوائے پنجاب پاکستان کےتمام صوبوں کی جا معات کے سربرہان نے اعتماد اور عزم کااظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ہا ئر ایجوکیشن کمیشن پا کستان کی دانشمندانہ اور فیاضانہ معاونت کے سبب صوبوں کی جامعات ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔

ملک میں اعلی تعلیم کا فروغ کمیشن کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔خیبر پختونخواہ کے وائس چانسلرز نے فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے اعلی تعلیمی کمیشن کی تعریف کر تے ہو ئے کہا کہ اعلی تعلیمی کمیشن نے جامعات کو پالیسی سے متعلق رہنما اصولوں پر مبنی مستقبل کا وژن دیا ہے ۔ صوبہ سندھ سے وائس چانسلرز نے بھی اعلٰی تعلیم کے شعبے میں جاری پیش رفت پر اپنی رائے دی اور اپنی متعلقہ جامعات کے معاملات اجلاس کے سامنے رکھے ۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن پا کستان کے 21 ویں وا ئس چانسلرز میٹنگ اجلاس کا انعقاد چئیر مین کمیٹی میٹنگ ڈاکٹر معصوم یا سین زئی اور سربراہ ایچ ای سی پا کستان ڈاکٹر مختار احمد کی قیادت میں کیا گیا۔ اجلاس میں پا کستان کے تینوں صبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی سرکاری و نجی جا معات کے سربراہا ن نے بھر پور انداز میں شر کت کی۔ اجلاس کا انعقاد مقامی ہو ٹل میں ظہرانے کے بعد کیا گیا۔ صوبہ پنجاب نے سرکای سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو مسترد کر تے ہو ئے پنجاب کی تمام سرکاری و نجی جا معات کے وا ئس چانسلروں کو محکمہ ہا ئر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کر دہ مراسلے کے بعد اجلاس میں شر کت سے سختی سے روکتے ہو ئے با ئیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ مرا سلے میں کہا گیا کہ 18 ویں تر میم کے بعد و فاقی اور صوبائی ہا ئر ایجوکیشن کمیشنز کا فیصلہ مشترکہ مفا دات کونسل نے ابھی تک واضع نہیں کیا گیا۔ محکمہ کی جانب سے پنجاب  جا معات کے سربراہان کو اجلاس میں شر کت کے لیے چانسلر و گورنر پنجاب کی اجا زت سے مشرو ط کر کے شر کت کی صورت میں قانونی کار وائی کی جا ئے گی۔

ملک و قوم کی اعلی تعلیم کے شعبے میں ایسی رکاوٹوں کا کھڑا کرنا انتہا ئی افسوس کی بات ہے۔ڈاکٹرمختاراحمد

سرکاری سطح پر پنجاب کی جانب سے اجلاس کا با ئیکا ٹ کر نے پر ڈاکٹر مختار احمد نے دی ایجوکیشنسٹ کے نمائندے سے بات کر تے ہو ئے کہا کہ ملک و قوم کی اعلی تعلیم کے شعبے میں ایسی رکاوٹوں کا کھڑا کرنا انتہا ئی افسوس کی بات ہے۔ اجلاس کا مقصد کسی کے خلاف فیصلہ کرنا نہیں تھا بلکہ 18ویں تر میم کے بعد وا ئس چانسلروں کی اہم ترین معاملے پر آراء لینا تھا۔ قومی ہم آہنگی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کر تا رہوں گا۔ تعلیم کے مقدس پیشے کو سیاست سے دور رکھنا ہو گا۔

اجلاس میں دیگر صوبوں کے 30 سے زائد سربراہان نے ویڈیو لنک اور بذات خود شرکت کر کے ہا ئر ایجوکیشن کمشن پا کستان پر مکمل اعتماد کااظہار کر کے تعاون کا یقین بھی دلایا۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب عمر رسول نے حکو مت کی نما ئندگی کے لیے شر کت کی۔ اجلاس کے شرکاء کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو پنجاب کی طرف سے اجلاس کے با ئیکاٹ اور مرا سلے کے با رے پو چھے جا نے پر انہوں نے مکمل لا علمی کا اظہار کیا۔

Print this entry

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: