سری کانت بولا: نابیناشخص کاآنکھوں والوں کے لئے سبق

سری کانت بولا: نابیناشخص کاآنکھوں والوں کے لئے سبق
January 01 20:37 2018 Print This Article

انتخاب: اےآرساجد

کسی نے سچ کہاہے کہ اگرانسان کے اندرعزم وہمت ہوتودنیاکی کوئی بھی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔اللہ تعالیٰ بھی ان کی مددکرتاہے جواپنی مددآپ کرتے ہیں۔کوئی بھی مجبوری یالاچاری بھی حوصلہ مندلوگوں کاراستہ نہیں روک سکتی۔حوصلہ مندلوگ نہ صرف خودآگے بڑھتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کے لئے بھی راہبرکاکام کرتے ہیں۔ایساہی سری کانت بولانے کیاہے جوبغیرآنکھوں کے پیداہوالیکن کتنے ہی آنکھوں والوں کی رہبری کررہاہے۔اس کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ ترقی کے لئے وسائل کی بجائے صرف عزم وہمت درکارہے۔جب وہ پیداہواتو نہ صرف بہت کمزورتھابلکہ پیدائشی اندھا بھی تھا۔اس کے والد کی تنخواہ تقریباً پندرہ سو روپے ماہانہ تھی۔ پورے خاندان کا خیال تھا اس بچے کوپالنامشکل ہے اس لئے اس کا گلہ دبا کر اسے قتل کر دینا چاہیے لیکن اس کاوالد نیک دل انسان تھا اس لئے اس نے بچے کو معذوری کے باوجود نہ صرف قبول کر لیا بلکہ اس کی ہرطرح سے مددبھی کی۔ اس نے بچے کونہ صرف پالنے بلکہ اعلیٰ تعلیم دینے کا بھی فیصلہ کیا۔اس نے بچے کا ہاتھ تھاما اور اسے چلنا‘ پھرنا ،بولنااور ٹٹول کر چیزوں کی ماہیت کو سمجھنا سکھا دیا۔ سری کانت کی عمرجب سکول جانے کی ہوئی تواس کے والد نے اسے گاؤں کے سکول میں داخل کروا دیا لیکن سکول میں اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روارکھا جاتا تھا۔بیٹھنے کے لئے اسے آخری بینچ پرملتا تھا۔ اساتذہ بھی اس سے بات کرناپسند نہیں کرتے تھے ۔کھیل کے میدان میں بھی بچے اس کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر یتے تھے۔

اس کے والدکواس کی حالت دیکھی نہ گئی تو اس نے اسے حیدرآبادمیں معذور بچوں کے سکول میں داخل کروادیا۔سری کانت سکول کے بورڈنگ ہاؤس اور کمرہ جماعت تک محدود ہوکررہ گیا۔اسے اللہ تعالیٰ نے ذہانت کی دولت سے خوب نوازرکھا تھا۔اس نے میٹرک میں 90 فیصد نمبر لے لئے۔وہ انٹر میڈیٹ میں سائنس مضامین پڑھنا چاہتا تھا لیکن سائنس کے مضامین کیلئے آنکھیں ضروری ہوتی ہیں اور قدرت نے اسے اس نعمت سے محروم کر رکھا تھا لہٰذا صوبے کا کوئی کالج اسے سائنس میں داخلہ دینے کوتیار نہیں ہوا۔سری کانت نے اس پر مایوس ہو نے کے بجائے اس انکار کو چیلنج سمجھا اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا‘ یہ کوشش بارآور ثابت ہوئی اورکالجزاسے داخلہ دینے پر مجبور ہوگئے ۔یہاں اسے ایک اچھااستادمیسرآگیا جس نے اس کیلئے لیکچرز کی آڈیو کیسٹیں تیار کرنا شروع کر دیں‘ سری کانت یہ کیسٹیں سنتا گیا اور کامیاب ہوتا گیا۔کالج میں اس نے شطرنج اور کرکٹ بھی سیکھ لی اور اس میں بھی اپنالوہامنوایا۔اسی دوران سری کانت کو صدر ڈاکٹرعبدالکلام کے منصوبے ’’لیڈ انڈیا‘‘ میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔سری کانت نے انٹرمیڈیٹ میں98 فیصد نمبر لے کرکمال کردیالیکن مشکلات ایک دفعہ پھرآڑے آئیں کیونکہ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ وہ میرٹ پر بھی پورا اترتا تھا لیکن انسٹی ٹیوٹ نے آج تک کسی نابینا طالب علم کو داخلہ نہیں دیا تھااسی لئے سری کانت کو انکار کر دیا گیا‘ اس نے بہت کوشش کی‘ عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے لیکن اس دفعہ عدالتوں سے بھی اسے ریلیف نہ مل سکا اور وہ گھر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا۔

اسی دوران اسے امریکا کی یونیورسٹی میساچیوٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو اس کے بارے میں معلوم ہوا جس پر یونیورسٹی نے اسے سو فیصد وظیفہ آفر کر دیا۔ سری کانت بولا نے یہ پیش کش قبول کر لی اور امریکا چلا گیاجہاں اس نے گریجوایشن مکمل کی۔امریکا کی بے شمار یونیورسٹیوں،اداروں اور کمپنیوں نے اسے نوکری کی آفر کی لیکن اس نے بھارت واپسی کا فیصلہ کیا۔ بھارت آنے سے پہلے اس نے یونیورسٹی کے استادوں سے ملاقات کی اور ایک ایسے ادارے کا منصوبہ ان کے سامنے رکھا جو نابینا نوجوانوں کو نوکری بھی دے اور انہیں ہنر بھی سکھائے‘ استادوں کو یہ منصوبہ پسند آیا انہوں نے یہ پراجیکٹ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ میں پیش کر دیاجس نے اس کی منظوری دے دی۔یوں یونیورسٹی نے سری کانت بولا کو منصوبے کیلئے ابتدائی رقم دے دی ۔اس نے حیدر آباد میں ایک چھوٹا سا دفترلیا،کچھ کمپیوٹر رکھے اور معذور لوگوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دینا شروع کر دی۔یہ ادارہ ترقی کی راہ پرچل پڑا‘ سری کانت نے اس میں چند دوسرے شعبے بھی متعارف کرا دیئے۔اس کے جذبے کو دیکھ کر بھارت کے کھرب پتی رتن ٹاٹا نے اس کی کمپنی میں سرمایہ کاری کر دی اور یوں اس کی کمپنی دیکھتے ہی دیکھتے ’’بولانت انڈسٹریز‘‘ میں تبدیل ہو گئی‘ یہ کمپنی ان پڑھ اور معذور لوگوں کو ملازمت دیتی ہے‘ یہ انہیں کاغذ کو ری سائیکل کرنے اور درختوں کے پتوں سے پیکنگ مٹیریل بنانے کا ہنر سکھاتی ہے۔ ہنر سیکھنے کے بعد یہ لوگ کمپنی کیلئے اشیاء بناتے ہیں جنہیں بڑے بڑے گروپ خریدتے ہیں۔ سری کانت کی کمپنی چار سال میں تین ریاستوں آندھرا پردیش‘تلنگانہ اور کرناٹکا تک پھیل گئی‘ ملازمین کی تعداد تقریباً پانچ سوتک پہنچ گئی ہے۔ یہ تمام لوگ معذور ہیں‘ صرف مینجمنٹ کے لوگ نارمل ہیں۔ کمپنی کی مالیت 50 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جوجلدایک ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔سری کانت بولا کی خواہش ہیکہ اس کی کمپنی میں کم از کم 20 ہزار معذور لوگ ملازم ہوں‘ ان میں سے آدھے لوگوں کے پاس ذاتی گھر اور ذاتی گاڑیاں ہوں اور کمپنی کی مالیت 20 ارب روپے سے زیادہ ہو۔

سری کانت بولا دن رات اس مشن کی تکمیل میں سرگرم ہے‘ اس کی ترقی سے اس کے والدین بھی خوش ہیں اور وہ بہن بھائی بھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے نارمل پیدا کیا تھا لیکن وہ مکمل ہونے کے باوجود زندگی میں اس جتنی ترقی نہ کر سکے‘ وہ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل نہ کر سکے اور زندگی میں خوشحالی کی منزل بھی نہ پا سکے ۔یہ نارمل بہن بھائی آج سری کانت بولا کی کامیابی پرپھولے نہیں سماتے اور بڑے فخرسے بتاتے ہیں کہ وہ سری کانت بولا کے بھائی ہیں۔ سری کانت بولا کی زندگی میں ہمارے لئے بھی سبق ہے کہ اگروہ معذوراورلاچارہوتے ہوئے بھی اتنی ترقی کرسکتاہے تو ہم جو ہرحوالے سے مکمل ہیں اس کی طرح زندگی کی دوڑمیں آگے کیوں نہیں نکل سکتے؟۔ کاش ہم لوگ سری کانت بولا جیسے لیڈر کی تصویر اپنے پاس رکھ لیں اور روز اس تصویر کو دیکھیں اور اپنے آپ سے سوال کریں کہ میں کیوں ترقی نہیں کرسکا،کیوں زندگی کی دوڑمیں آگے نہیں نکل سکاباوجوداس کہ کے مجھے اللہ تعالی نے مکمل جسمانی اورروحانی تندرستانی عطاکی ہے۔سری کانت کی زندگی ہم سب آنکھوں والوں کی آنکھیں کھولنے کوکافی ہے ۔ہمارے لئے اس میں بہت سے اسباق موجودہیں۔آئیے عہدکریں کہ ہم اپنی صلاحیتوں کادرست استعمال کریں گے اوردوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں گے،نہ صرف اپنی زندگی کوبہتربنائیں گے بلکہ باقی لوگوں کی زندگی میں بھی خوشگوارتبدیلیاں لائیں گے۔اللہ ہم سب کاحامی وناصرہو۔آمین۔

Print this entry

Comments

comments