’آبادی میں اضافہ اور انسانی وسائل کی ترقی‘‘ کے موضوع پر 18ویں قومی ریسرچ کانفرنس کاانعقاد

’آبادی میں اضافہ اور انسانی وسائل کی ترقی‘‘ کے موضوع پر 18ویں قومی ریسرچ کانفرنس کاانعقاد
December 20 16:38 2017 Print This Article

لا ہور (سٹاف رپورٹ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پاپولیشن ایسوسی ایشن پاکستان اورپنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے ’’آبادی میں اضافہ اور انسانی وسائل کی ترقی‘‘ کے موضوع پر 18ویں قومی ریسرچ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت وزیر برائے پاپولیشن ویلفیئر پنجاب مختار احمد بھرت، آسٹریلین ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن،صوبائی وزیر برائے ماحولیاتی تحفظ بیگم ذکیہ شاہنواز،اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کے نمائندے مقدر شاہ ،پاپولیشن کونسل کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ذیبا اے ستار،پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین اور جی سی یو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ سمیت سئنیر فیکلٹی ممبران، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شر کت کی۔ کا نفرنس سے خطاب میں صوبائی وزیر مختار بھرت کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2017ء کی مردم شماری کے حقائق نے خطرے کی گھنٹی بجا ئی ہے،پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی شکار ہے ،اگر آبادی کی بڑھنے کی شرح 2.4فیصد سے کم نہ ہوئی تو ہم 2030ء کے بعداپنی آبادی کے لیئے خوراک مقامی وسائل سے پوری نہیں کر سکیں گے۔

پنجاب حکومت اگلے پانچ سال کے لیئے پاپولیشن پالیسی بنا رہی ہے جس میں کانفرنس کی تجاویز اور سفارشات کو شامل کریں گے۔ حکومت کو مرم شماری سے پہلے آبادی کی شرح نمو میں اتنی زیادہ اضافے کی امید نہ تھی لیکن یہ حقائق پاکستان کی ترقی کے لیئے بڑا چیلنج ہیں۔ پاپولیشن کونسل کی کنٹری ڈاکٹر ذیبا اے ستار نے حکومت پر ذور دیا کہ وہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرے ۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے جہاں نوجوانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے،لیکن اگر ہم گلوبل یوتھ ڈیویلپمنٹ انڈیکس پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا 179ممالک میں 155واں نمبر ہے جبکہ تعلیم میں ہم156ویں،صحت میں77واں اورہم نوجوانوں کی سیاست میں شرکت کے حوالے سے 165ویں نمبر پر ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ تما م پالیسیوں اور پروگراموں میں نوجونواں کو ترجیح دیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 4کڑوڑ سے زائد نوجواان خواتین کو معاشی دھارے کا حصہ بنایا جائے،جس کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں۔ شر کاء سے اپنے خطا ب میں صوبائی وزیر بیکم ذکیہ شاہنواز کا کہنا تھا کہ شرع آبادی پر قابو پانے کے لیئے حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کا بھی اہم کردار ہے، فیملی پلاننگ اور خواتین کی صحت کے حوالے سے شعور کے لیے یونین قونسلوں کی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاپولیشن ایسی ایشن کے صدر اورپنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین کا کہنا کہ پاپولیشن کے حوالے پالیسی ساز اداروں میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔انہوں نے قومی پاپولیشن کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ 2017کی مردم شماری میں جو حقائق سامنے آئیں ہیں انہوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ کا نفرنس سے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی صدر شہنا وزیر علی نے کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

Print this entry

Comments

comments