پنجاب میں مستقل وا ئس چانسلرز کی تعیناتی نہ ہوناایک سنگین مسئلہ ہے

پنجاب میں مستقل وا ئس چانسلرز کی تعیناتی نہ ہوناایک سنگین مسئلہ ہے
November 08 08:14 2017 Print This Article

13414611_10209878227653435_2097309522_n

انٹرویو۔ علی ارشد

دی ایجوکیشنسٹ: پنجاب کی تیرہ سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وا ئس چانسلرز کی تعیناتی نہ ہونا کتنا بڑا المیہ ہے؟ 
ڈاکٹر مختار احمد: وا ئس چانسلر کسی بھی یونیورسٹی کی سب سے بڑی انتظامی پو زیشن ہے۔ پنجاب کی جا معات میں عارضی سربراہان کی تعیناتی کودو سال ہونے کے قریب ہیں اور تا حال کو ئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ پنجاب میں ہا ئر ایجوکیشن کے ساتھ اس سے بڑا مذاق نہیں ہے۔ گورنر پنجاب / چانسلر ملک محمد رفیق رجوانہ کو بذریعہ خط وا ئس چانسلرزکی مستقل تعیناتی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر چکا ہوں اور اس خدشے سے بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر ہا ئر ایجوکیشن میں بگاڑ یا خرابی پیدا ہو ئی تواس میں پنجاب کا بہت بڑا کردار ہو گا۔ مستقل وا ئس چانسلرز کی تعیناتی ایک سنجیدہ انتظامی مسئلہ ہے جس کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے۔ نان پی۔ ایچ ۔ڈی ڈگری ہولڈرزکبھی بھی جا معات کے سربراہان نہیں ہو سکتے ما ضی میں بھی اس کی پریکٹس کی جا چکی ہے۔ سرچ کمیٹی کی طرف سے دی جانی والی سفارشات کو من وعن تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہمیں فر دوا حد کو نہیں بلکہ ملک کے اعلی تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا ہے ۔
دی ایجوکیشنسٹ: عالمی درجہ بندی کیوایس رینکنگ میں پاکستانی جامعات کے حوالے سے اعداد وشمار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ 
ڈاکٹر مختار احمد: خوش آئند بات ہے کہ پاکستان سے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور قا ئد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا پہلی پا نچ سو جا معات میں شمار ہے لیکن ہمیں نمبر گیم کی طرف جا نے کی بجا ئے کوا لٹی آف ایجوکیشن کی طرف توجہ کرنی ہو گی۔جامعات میں پی۔ ایچ ۔ ڈی اساتذہ کی اشد ضرورت ہے جن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے چھتیس ہزار پی۔ ایچ ۔ڈی اساتذہ کی ضرورت ہے۔ ایسی ریسرچ کو فروغ دینا ہو گا جس سے معا شرے کی فلاح ہو سکے۔ بدقسمتی سے نمبر گیم حاصل کرنے کے لیے غیر معیاری ریسرچ ہو رہی ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ:یو نیورسٹیوں کے غیر قا نونی کیمپسسزکے حوالے سے کیا حکمت عملی بنا ئی گئی ہے؟ 
ڈاکٹر مختار احمد: اس حوالے سے اشتہارات جا ری کر کے طلبہ اور انکے وا لدین کوآگاہ کیا جا تا ہے ۔ پاکستان میں156 ایسے ادارے مو جود ہیں جو کہ غیر قا نونی طور پر کام کر رہے ہیں ۔ بغیر این۔ او۔سی اورہا ئر ایجوکیشن کمیشن کے قوا ئد و ضوابط پر پورا نہ اترنے وا لے کو اداروں کیمپسسز کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گا۔ویثرن 2025 کے مطابق ہر ضلع کی سطح پر یونیورسٹی کا کیمپس کھولا جا ئے گالیکن ایچ۔ای۔سی کے بنا ئے گئے قوائد وضوابط کو ہر صورت مد نظر رکھتے ہوئے کیمپس کھولنے کی اجازت ہو گی۔
دی ایجوکیشنسٹ: جا معا ت میں اعلی تعلیم یا فتہ افراد میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور منفی سوچ کو کس طرح قابو کیا جا سکتا ہے؟ 
ڈاکٹر مختار احمد: مو جودہ حالات کے تناظر میں یہ بہت بڑا اور سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے ایچ۔ای۔سی پاکستان نے تمام وا ئس چانسلرز کی موجودگی میں ایک مشاورتی کا نفرنس بھی منعقد کی اورپھر چیف آف آ رمی سٹاف جنرل قمر جا وید با جوہ کی سر برا ہی میں بھی جا معات کے سر براہان کے ساتھ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ نو جوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اوران کو انتہا پسندی، منفی سر گرمیوں سے روکنے میں والدین کے سا تھ ساتھ اساتذہ کا اہم کردار ہے۔ اساتذہ ہی معا شرے کو سنوار سکتے ہیں اور بگاڑ بھی پیدا کر سکتے ہیں ۔ جا معات میں ہم نصابی سر گر میوں کا فروغ ، ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے لیے طلبہ کی سوسائٹیز کو بنانا چا ہیے جن میں طلبہ و طالبات کی شرکت کو یقینی بنا یا جا ئے۔
دی ایجوکیشنسٹ: ایچ۔ ای۔ سی کے آئندہ آنے والے بڑے منصوبے کون کونسے ہیں ؟
ڈاکٹر مختار احمد: آنے والے چند سالوں میں ویثر ن 2025 کے تحت ملک بھر میں تین سو نئی جا معات قا ئم کی جا ئیں گی۔ ہا ئر ایجوکیشن کو مزید فروغ دینے کے لیے ہمارا منصوبہ ہے کہ 150کمیونٹی کالجز ہر ضلع میں قا ئم کیے جا ئیں جن کاالحاق ہرضلع میں قا ئم کر دہ ایک سکلڈ یونیورسٹی کے ساتھ ہو گا۔ یہ کمیونٹی کالجز ٹیکنیکل، ووکیشنل اور سپورٹنگ سکلڈ سٹاف تیار کریں گے جن کی مستقبل میں اشد ضرورت ہے۔ ان کالجز کی فنڈنگ کا کچھ حصہ ہا ئر ایجوکیشن کمیشن ادا کرئے گا جبکہ با قی کی فنڈنگ اور دیگر ریسورسز صوبائی حکومتیں ادا کرئیں گی۔ ایچ۔ ای۔سی کی جانب سے بڑے پیمانے پراساتذہ اور طلباء کو ہا ئی سپیڈ براڈ بینڈ اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل لائبریریاں ، سمارٹ کلاس رومز اور سمارٹ سب کیمپسسز کے قیام کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

Print this entry

Comments

comments