پنجاب اورسندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلززکی تعیناتی حکمرانوں کے لئےایک چیلنج

October 21 11:10 2017 Print This Article

۱سٹاف رپورٹ

بالآخرپنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کامعاملہ دوبارہ زیربحث آگیا۔

ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے صوبےکی یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرکی تعیناتی کے لئے سفارشات وزیراعلیٰ کودو ماہ پہلے سےبھیجی ہوئی ہیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرزکی تعیناتی کے سلسلے میں پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی  کی میٹنگ جمعہ کوہوئی جس میں فیصلہ کیاگیا کہ قوائدوضوابط طے کرنے باری سمری پنجاب کابینہ سے منظورکروائی جائے گی جس کے بعدوائس چانسلرزکی تعیناتی کاطریقہ کارتبدیل ہوگا۔

ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے۳۱اگست کوبھیجی گئی سمری تب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے دفترمیں بغیرکاروائی کے پڑی ہوئی ہے۔ کمیٹی کی اس ضمن میں اب تک دو میٹنگزبھی ہوچکی ہیں۔کمیٹی کی سفارشات کے مطابق وائس چانسلر کی عمرکی حدبارےاختیارصوبے کے چیف ایگزیکٹوکومنتقل ہوجائے گااور۶۵سالہ عمرکی بالائی حد کی پابندی نہیں رہے گی۔

جن یونیورسٹیوں میں یہ سفارشات لاگوہوں گی ان میں پنجاب یونیورسٹی،جھنگ یونیورسٹی،ساہیوال یونیورسٹی،غازی یونیورسٹی،خواتین یونیورسٹی ملتان،ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور اوراوکاڑہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

سمری میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بارے میں قوانین چانسلریعنی گورنرمنظورکریں گےاوروزیراعلیٰ اس ضمن میں گورنرکومنظوری بارےرائے دیں گے۔ سمری میں یہ بھی کہاگیاہے کہ منظوری کے بعدہریونیورسٹی کاعلیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیاجائے گا ۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی،غازی یونیورسٹی،ساہیوال یونیورسٹی اوراوکاڑہ یونیورسٹی کے پہلے سے موجودقوانین بھی تبدیل ہوجائیں گے۔

گورنر کا بطور چانسلر کردار ختم کرکے وزیراعلی کو چانسلر مقرر کیا جارہا ہے

دوسری طرف سندھ کی سرکاری جامعات اور اداروں میں ترمیم کے لئے مسودہ بھی تیار کرلیا گیا ہے، جس میں گورنر کا بطور چانسلر کردار ختم کرکے وزیراعلی کو چانسلر مقرر کیا جارہا ہے، مسودہ میں جامعات کی سینڈیکیٹ میں رکن قومی اسمبلی کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے جبکہ اب صرف ایک رکن صوبائی اسمبلی سینڈیکیٹ کا رکن ہوگا۔

مسودہ میں سیکرٹری جامعات،سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو سیکرٹری ٹو چانسلر مقرر کیا جارہا ہے جو براہ راست وزیراعلی(چانسلر)کو سمری بھیج سکے گا، مسودہ میں صوبے کی تمام جامعات کے ایکٹ کو یکساں کیا جارہا ہے تاہم سینڈیکیٹ کیلئے ماہرین ارکان کا تقرر متعلقہ شعبوں سے ہوگا جس کی منظوری وزیراعلی سندھ دیں گے یعنی میڈیکل کی جامعہ میں میڈیکل کا ماہر، انجینئرنگ کی جامعہ میں انجینئر، زراعت کی جامعہ میں ماہر زراعت سینڈیکیٹ کا رکن ہوگا جبکہ المنائی کے سربراہ کو بھی سینڈیکیٹ میں نمائندگی دے دی گئی ہے۔ ترمیمی مسودہ میں رجسٹرار، ناظم امتحانات، ڈائریکٹر فنانس اور دیگر اہم عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعلی کے بجائے سینڈیکیٹ کی اجازت سے مشروط کردیا گیا ہے۔

وزیراعلی سے قبل رجسٹرار اور ناظم امتحانات مقرر کرنے کا اختیار وائس چانسلر کو حاصل تھا

وزیراعلی سے قبل رجسٹرار اور ناظم امتحانات مقرر کرنے کا اختیار وائس چانسلر کو حاصل تھا جس پر بہت تنقید کی گئی اور جامعات کے اساتذہ نے کئی مرتبہ احتجاج بھی کیا ۔ واضح رہے کہ موجودہ دور حکومت میں سندھ کی جامعات کے سینڈیکیٹ میں دوسری مرتبہ ترمیم کی جارہی ہے پہلی ترمیم ڈاکٹر عشرت العباد جب گورنر تھے اس وقت ہوئی جب گورنر سندھ سے وائس چانسلر مقرر کرنے کا اختیار لے کروزیراعلی کو دے دیا گیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ کے بطور چانسلر اختیارات انتہائی محدود ہوگئے تھے لیکن اب موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر کے دور میں جامعات کے ایکٹ میں دوسری ترمیم کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں گورنر سے چانسلر کا عنوان وزیراعلی کو منتقل ہوجائے گا۔

 

Print this entry

Comments

comments