پنجاب ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 11ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا ہوشرباانکشاف

پنجاب ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 11ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا ہوشرباانکشاف
اکتوبر 12 17:30 2017 Print This Article

۱

لاہور(سٹاف رپورٹ)۔ ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اکاونٹس میں تقریباً 11ارب روپوں کی بے ضابطگیوں کاانکشاف ہواہے۔آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی مالی سال2016-2015کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ ہائیرایجوکیشن کے اکاونٹس میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیوں میں غیرقانونی ادائیگیاں،منظوری کے بغیر اضافی فنڈزکااستعمال،غیرمنظورشدہ بینک اکاونٹس  میں رقوم کی منتقلی،سامان کی خریدمیں مشکوک ادائیگیاں،غیرمنظورشدہ بھرتیاں اورتنخواہوں کی ادائیگی اورریکارڈ کی عدم فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔

آڈیٹر جنرل پاکسنا ن نے پنجاب حکومت کے اکاونٹس میں کل 36ارب روپے کی بے ضابطگیوں کاپتاچلایا ہے جن کاتقریباً ایک تہائی یعنی 11ارب کی خردبرد صرف ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اکاونٹس میں ہے۔

آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کومعاملے کی چھان بین کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں کے مشکوک معاملات  میں غیرقانونی بھرتیاں،تنخواہو ں کی غلط ادائیگیاں اورپبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(پی پی آراے) کے قوانین کی پابندی نہ کرنا سرفہرست ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق صرف دو بے ضابطگیوں کا مجموعی فراڈمیں39فیصدحصّہ ہے اورمالی سال 2006-2005کے علاوہ ہرسال  پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ہدایات کونظراندازکیاگیا اورہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی غیرتسلی بخش رہی۔

سرپلس فنڈزکی مشکوک ادائیگیاں996.3ارب مالیت کی ہیں ۔سیکنڈری بورڈگوجرانوالہ،سیکنڈری بورڈسرگوددھا،سیکنڈری بورڈ فیصل آباد،سیکنڈری بورڈ ڈی جی خان،لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،کنیئرڈکالج لاہوراورلارنس کالج گھوڑا گلی مری میں سب سے زیادہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہےاوریہ ادارے غیرقانونی سرمایہ کاری میں بھی ملوث پائے گئےہیں۔پنجاب حکومت کے ماتحت اداروں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بینک اکاونٹس صرف بینک آف دی پنجاب میں رکھیں لیکن کچھ اداروں کے اکاونٹس دیگربینکوں میں پائے گئے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ کمزورانتظامی کنٹرول اورقانون کی پابندی نہ کرنا مالی بے ضابطگیوں کی بڑی وجوہات ہیں۔

دوسری بڑی مالی بے ضابطگی ارب روپے کے مالی معاملات کا حساب نہ دیناہے۔رپورٹ کے مطابق سیکرٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،گورنمنٹ کالج فارویمن مدینہ ٹاون فیصل آبا،ڈائریکٹرکالجز ایجوکیشن راولپنڈی،گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج سمن آبادفیصل آباد،گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج فارویمن سرگودھا اور سیکنڈری بورڈ بہاولپورنے آڈٹ کے لئے متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ریکارڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان اداروں کے مالی معاملات کا جائزہ نہیں لیاجاسکا۔آڈیٹرجنرل کی طرف سےاس حوالے سے ذمہ دارافراد کے خلاف قانونی کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیاہے کہ پنجاب کے  خودمختاراداروں نے اپنی خودمختاری کولامحدودکرلیا ہےجو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

This article originally appeared in The Express Tribune and has been reproduced with permission

Comments

comments