زلزلے سے تباہ شدہ سکول12 سال بعدبھی تعمیرنہ ہوسکے

زلزلے سے تباہ شدہ سکول12 سال بعدبھی تعمیرنہ ہوسکے
اکتوبر 10 05:23 2017 Print This Article

1اے آرساجد

پشاور: خیبرپختونخواہ اوروفاقی حکومتیں 2005کے زلزے سے مسمارہونے والے سکولوں کو12سال گزرنے کے بعدبھی تعمیرنہیں کرسکیں حالانکہ انہیں اس مقصدکے لئےبین الاقوامی اداروں سے ڈھیروں فنڈز مل چکے ہیں۔سکولوں کی تعمیرنہ ہونے سے صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثرہورہی ہیں۔

8اکتوبر2005کےزلزلے سے صرف خیبرپختونخواہ صوبے میں3669سکول مسمارہوگئے تھے۔زلزلے کے فوری بعدوفاقی حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی قائم کی تاکہ متاثرین کی فوری داررسی کی جاسکے۔اس کے علاوہ متعددبین الاقوامی تنظیموں اوراداروں نےزلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے جانفشانی سے کام کیااوران کی خدمت میں کوئی کسرنہ اٹھارکھی۔

بعدازاں خیبرپختونخواہ حکومت نے متاثرین کی بحالی اوردوبارہ آبادکاری کے لئے (Earthquake Reconstruction and Rehabilitation Authority (ERRAکے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔اس ادارے کے دئیے گئے اعدادوشمارکے مطابق9491ارب روپے کی لاگت سے 1698سکولوں کی تعمیرنوکاکام مکمل کیاگیاجبکہ 1227 سکولوں کی تعمیرفنڈزکی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکی۔

صوبائی وزیرتعلیم عاطف خان نے میڈیانمائندوں سے بات چیت کے دوران بتایاکہ وفاقی حکومت سکولوں کی تعمیرکے سلسلے میں اپنے کئے گئے وعدوں کوپوراکرنے میں ناکام رہی ہےجس سے صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کابہت زیارہ حرج ہورہاہے۔1500سکولوں کی تعمیرمکمل کرنے کے لئے تقریباً 10ارب روپے درکارہیں۔سابقہ وزیراعظم نوازشریف نے 2004میں ان سکولوں کی تعمیرکاوعدہ کیاتھاجو ابھی تک پورانہیں ہوسکا۔اس مقصدکے لئے وزیراعظم اوروفاقی وزیرتعلیم کومتعددخطوط بھی لکھے جاچکے ہیں۔وزیرموصوف نے یہ بھی کہاہے کہ صوبائی حکومت نےاپنے وسائل سے 8ارب کی لاگت سے زلزلے سے متاثرہ 760سکولوں کی تعمیرمکمل کی ہے۔

علاقے کےلوگوں کے مطابق دونوں حکومتیں سکولوں کی تعمیرنومیں غیرسنجیدہ ہیں اوران کے درمیان تعلقات کی سردمہری سے حالات مزیدگھمبیرہوتے جارہے ہیں۔

Comments

comments