انٹری ٹیسٹ دوبارہ کروانے کا اعلان:اکیڈمیز کے لئےپیسے کمانے کا ایک اور موقع

انٹری ٹیسٹ دوبارہ کروانے کا اعلان:اکیڈمیز کے لئےپیسے کمانے کا ایک اور موقع
اکتوبر 07 21:00 2017 Print This Article

تحقیق وتحریر

اے آرساجد & اسدسلیم

لاہور:حکومت پنجاب اورلاہورہائی کورٹ نےمیڈیکل کالجوں کےانٹری ٹیسٹ کودوبارہ منعقد کروانے کا اعلان کیاہے۔اس اعلان سے طلبا اوروالدین میں تشویش کی لہردوڑگئی ہے جبکہ اکیڈمی مافیاکی ایک بارپھرچاندی ہو گئی ہےکیونکہ انکو پیسے کمانے کا ایک اور موقع مل گیاہے، انٹری ٹیسٹ مافیا نے دوبارہ سے ٹیسٹ تیاری کلاسسزشروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ لاہور کی مشہور اکیڈمی نے طلبا کے داخلے بھی شروع کردئیے ۔پہلے سے ۳۵ ہزار فیس دے کر تیاری کرنے والوں کو دوبارہ تیاری کرنے کے لیئے ۳ ہزار جبکہ نئے آنے طلبا سے ۹ ہزار روپے فیس وصول کی جائے گی۔ والدین کا کہنا ہے کہ پہلے بھی ۳۵ ہزار فیس دی تھی اب ۳ ہزار کس بات کا لیا جا رہا ہے؟

تعلیم سے متعلقہ سنجیدہ حلقوں کا کہناہے کہ ایک ایسے وقت میں جب مافیاکے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں دوبارہ ٹیسٹ کاانعقادکرنااوروہ بھی اسی یونیورسٹی انتظامیہ کی زیرنگرانی جومبینہ طورپرعرصہ سات سال سےاس گھناونے دھندےمیں ملوث ہے تعلیم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔وائس چانسلرکابراہ راست ملوث ہونا ہمارے تعلیمی نظام میں بہت بڑی خرابیوں کی نشاندہی کرتاہے۔

دوبارہ داخلہ ٹیسٹ سے اس دفعہ والے غیرقانونی طورپرپاس ہونے والوں کوتوروکاجاسکتاہے لیکن جوپچھلے سات سالوں میں داخل ہوئے اوران میں سے توکئی ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں کوکیسے قانون کی گرفت میں لایاجاسکتاہے؟یہ سوال بھی تعلیمی حلقوں میں زیربحث ہے۔

جبکہ اب سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں کاعمل تقریباً مکمل ہوچکاہے جس سے میڈیکل انٹری ٹیسٹ پاس نہ کرنیوالوں کی مشکلات میں مزیداضافے کاخدشہ ہے کیونکہ ان کوپرائیویٹ اداروں میں داخلہ لیناپڑے گا جوکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والوں کے لئےجوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔

والدین اوراساتذہ کی بڑی تعدادجوشروع ہی سے اس ٹیسٹ کے خلاف تھی اوراسے عام طبقے کومیڈیکل کالجوں میں داخلے سے روکنے کی سازش قراردیتے ہیں نے ایک دفعہ پھرمطالبہ کیاہے کہ اب اس ٹیسٹ کاکوئی جوازباقی نہیں ہے کیونکہ جس بنیادپراس ٹیسٹ کاآغازکیاگیاتھا وہ خرابیاں اس کے اندربھی پیداہوچکی ہیں۔لیکن کیاکیاجائے اکیڈمی مافیااس کوآسانی سے ختم نہیں ہونے دیں گے۔یہ بھی سسنے میں آیاہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے افسران بھی اکیڈمیزکے شئیرہولڈرزہیں اور وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کاآمدنی کاذریعہ ختم ہو۔ذرائع نے یہ بھی بتایاہے کہ دھندے میں ملوث ڈپٹی کنٹرولزیوایچ ایس صائمہ تبسم کی اپنی بھی ایک اکیڈمی ہےجہاں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروائی جاتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں یوایچ ایس انتظامیہ نے اس معاملے کویہ کہ کردبانے کی کوشش کی کہ پیپرزلیک نہیں ہوئے بلکہ کچھ لوگوں نے مذاق میں ایساکہااوران کوگرفتاربھی کروادیاگیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایف آئی اے نے اس واقعے میں ملوث کرداروں کوبے نقاب کرناشروع کردیا۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس دھندے میں ملوث افرادکے خلاف تھانہ مسلم ٹائون میں ایف آردرج کروادی گئی ہے.حیران کن طورپردھندے کے ماسٹرمائنڈسابقہ وائس چانسلرجنیدسرفرازاورڈپٹی کنٹرولرامتحانات صائمہ تبسم کے نام ایف آئی آرمیں شامل نہیں ہےجس سے ان کے اثرورسوخ کاباآسانی اندازہ کیاجاسکتاہے۔

ایف آئی اے کے افسران بڑی تندہی سے اس دھندے میں ملوث افرادکے خلاف کاروائی کررہے ہیں۔آج اس دھندے میں ملوث ایک عہدیدارکوملتان ائیرپورٹ سے بیرون ملک فرارہونے کی کوشش میں گرفتاربھی کیاگیاہے۔جبکہ انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبرلینے والے پہلے ۴۰۰طلباوطالبات کے موبائلزکاآڈٹ بھی کروایاجارہاہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایاہے کہ ان میں سے اکثرکے سابقہ وائس چانسلراوراس گھناونے دھندے کے ماسٹرمائنڈاوراس کی ٹیم سے رابطوں کاانکشاف ہواہے۔اب تک ۲۱سے زائدافرادکوحراست میں لیاجاچکاہےاورابھی بہت سی مزیدگرفتاریاں متوقع ہیں۔

ایم بی بی ایس کے فرسٹ پراف کے پرچے بھی آوٹ ہونے کی خبریں زیرگردش ہیں اوراس بات کاخدشہ بھی ظاہرکیاجارہا ہےکہ اس دھندے میں ملوث افرادکی جڑیں بہت گہری ہیں اوران کا میڈیکل کالجزکے سارے امتحانات میں منفی کردارہے۔

دی ایجوکیشنسٹ انتظامیہ آپ کی رائے کوخوش آمدیدکہتی ہے۔کسی بھی قسم کی معلومات یارائے

contact@educationist.com.pk

پربھیجی جاسکتی ہے۔

Comments

comments