“اساتذہ کا عالمی دن”

“اساتذہ کا عالمی دن”
اکتوبر 07 10:54 2017 Print This Article

مر کزی سیکرٹری جنرل پنجاب ٹیچرز یونین کا شف شہزاد چوہدری.
تعلیم میں کمرشلائزیشن اور پیسے بنانے کے عمل نے استاد اور شاگرد کا با عزت رشتہ تباہ کر دیا ہے۔

فیڈریشن آف آل پا کستان اکڈیمک ستاف ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کے صدر ڈاکٹر جا وید احمد۔
پا کستان میں اساتذہ کی عزت و احترام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو نی چا ہیے۔
استاد کی خدمات اور عزت کسی دن کی مناسبت کا محتاج نہیں ہونا چا ہیے۔

ڈاکٹر محبوب حسین.
حکومت تعلیم کو اپنی بنیا دی ترجیحات میں شامل کر ئے۔

لاہور (علی ارشد) تر قی یا فتہ قو میں اور مہذب معا شر ے اپنے اساتذہ کی عزت و تکریم کا نتیجہ ہیں ۔ استاد بہترین معا شرے کی تشکیل کا بنیا دی جزو ہے جس کے بغیر عملی میدان میں کامیابی لا حاصل ہے۔ مر کزی سیکرٹری جنرل پنجاب ٹیچرز یونین کا شف شہزاد چوہدری نے عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے با ت کر تے ہو ئے کہا کہ پو ری دنیا میں اساتذہ کا کرادار قا بل فخر ہے۔ استاد ہی معاشرے کو مہذب و تعلیم یا فتہ بنانے میں اپنا بھرپور کردارادا کرتا ہے۔اساتذہ کی عزت و وقار کا اندازہ اس وا قع سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں جرمنی کے ایک شہر میں ڈاکٹرز اورمعزز ججز نے ہڑتال کی صورت میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ انکی تنخواہیں اساتذہ کے برابر کی جا ئیں جس پر جر من چا نسلر انجیلا مرکل نے نا پسندیدگی اور نا خوشی کااظہار کر تے ہو ئے ڈاکٹرز کی تنخواہیں اساتذہ کے برابر کر نے سے انکا ر کر دیا اور یہ تنبیہ  کہ جن اساتذہ کے بدلے آج یہ مقام حاصل ہوا ہے انکے برابر تنخواہ لینا اساتذہ کی عزت پر آنچ کے مترادف ہے۔

اساتذہ طلبہ و معاشر ے کی کردار سازی کے سپہ سالار ہیں ۔ ڈاکٹر اللہ بخش ملک

۔ سیکر ٹری سکول ایجوکیشن پنجاب۔ عالمی سطح پر اساتذہ کو انتہائی قدر کی نگا ہ سے دیکھا جا تا ہے جبکہ پا کستان میں سرکاری اساتذہ کو گذشتہ چند سالوں سے بہت ڈی گریڈ کیا گیا ہے۔ غیر تدریسی سرگرمیوں پر اساتذہ کی ڈیوٹیاں انکے وقار میں کمی پیدا کرر ہی ہیں ۔ سرکاری اساتذہ کے خلاف آئے روز پیڈاایکٹ کے تحت ہزاروں کا روائیاں جا ری ہیں جنکی اس وجہ حکومت خود ہے۔ معا شرے میں استاد کو درجہ چہارم کے برابر سمجھا جا نے لگا ہے ۔ یہ پو ری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کا شف شہزاد کا مزید کہا تھا کہ تعلیم میں کمرشل ازم اور پرا ئیویٹ سیکٹر نے لاکھوں روپے فیسیں وصول کر کے طلبہ اور انکے والدین کو اس کیفیت کا شکار کر دیا ہے جیسے وہ استاد کو بھاری فیسوں کے عوظ خرید کر پڑھ رہے ہیں ۔ تعلیم میں کمرشلائزیشن اور پیسے بنانے کے عمل نے استاد اور شاگرد کا با عزت رشتہ تباہ کر دیا ہے۔ عالمی ٹیچرز ڈے کی منانسبت سے اور پوری اساتذہ برادری کی جانب سے پیغام بھی ہے اور مطالبہ بھی کہ استاد کو پا کستان میں اسی طرح مقام اور عزت دی جا ئے جیسے بین الاقوامی سطح پر دی جا تی ہے۔3.5 لاکھ اساتذہ کی ڈھائی سال کی سخت مشقت کے بعد سرکاری اساتذہ کو گریڈ 9 سے 14 اور 14 سے 16 میں تر قی دلوانے کی کا میابی حاصل ہو ئی ہے۔ ورلڈ ٹیچرزڈے کی مناسبت سے نما ئندہ دی ایجوکیشنسٹ سے بات کر تے ہو ئے سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر اللہ بخش ملک کا کہنا ہے کہ حکومت اساتذہ کو انکا جا ئز اور با عزت مقام دینے میں ہمہ وقت کو شاں ہے جس کی سب سے بڑی کا وش سرکاری سطح پر حکومت اور محکمہ کی جانب سے آج عالمی ٹیچرز ڈے کے مو قع پر پہلی بار پنجاب بھر سے بہترین کا رکر دگی دیکھانے والے اساتذہ کو سٹار ٹیچرز ایوارڈ اور نقد انعام رقم وزیر اعلی پنجاب خود دیں گے۔ محکمہ اساتذہ کو با عزت نگاہ سے دیکھتا ہے اور انکی تریم کی حفاظت کے لیے بھی سر گر م عمل ہے۔ ڈاکٹر اللہ بخش ملک کا مزید کہنا تھا کہ اساتذہ کی حالیہ بھر تی نہا یت میرٹ اور اعلی تعلیم یا فتہ افراد پر مبنی ہے۔ اساتذہ طلبہ و معاشر ے کی کردار سازی کے سپہ سالار ہیں ۔ اساتذہ کے ہا تھوں قوم کی آبیا ری ممکن ہے۔کالج اساتذہ کی نما ئندگی کر تے ہو ئے پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدرحافظ عبدلخالق نے کہا کہ تعلیم میں کمرشل ازم آنے سے اساتذہ کی معا شر ے سے عزت ختم ہو گئی ہے۔ کمرشل اداروں نے تعلیم کے نام پر اساتذہ کی عزت کو طلبہ میں ختم کیا ہے۔ تر قی یا فتہ قوموں کی بنیادی وجہ اساتذہ کی عزت و تکریم ہے۔ پا کستان میں بد قسمتی سے انحطاط کے کام ٹیچرز سے لیے جا تے ہیں ۔ بہترین استا د وہ ہے جو کلاس میں طالبعلم کو سوالات کا مو قع دے اور اسکی شخصیت میں تر بیتی نکھار پیدا کر ئے ۔ آج کے دن کی مناسبت سے یہ پیغام دینا چا ہوں گا کہ حکومتی سطح پر اساتذہ کی عزت و احترام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو نا چا ہیے۔ جا معات کی نما ئندگی کر تے ہو ئے فیڈریشن آف آل پا کستان اکڈیمک ستاف ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کے صدر ڈاکٹر جا وید احمد نے عا لمی یوم اساتذہ کے حوالے سے با ت کر تے ہو ئے کہا کہ آج کا دن اساتذہ کی خدمات کو سراہنے کے حوالے سے انتہا ئی احسن قدم ہے لیکن استاد کی خدمات اور عزت کسی دن کی مناسبت کا محتاج نہیں ہونا چا ہیے۔ تعلیم میں کمرشل ازم نے اساتذہ کی عزت و وقار کی تمام حدوں کو تباہ کیا ہے۔ اساتذہ کے کمرشلا ئزیشن کا شکار ہونے سے قبل طلبہ اور استاد کے درمیان نالج اور تدریسی عمل کا بانڈ بہت مضبوط تھا بد قسمتی سے آج کا استاد ہر وقت بہتر معا وضے کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔ ہم اپنے اساتذہ کے جو تے سیدھے کر نے میں بھی فخر محسوس کر تے تھے۔ استاد اور شا گرد کے حقیقی رشتے کو کمرشل ازم نے ختم کر دیا ہے جس سے اخلاقی قدریں بھی پا مال ہو رہی ہیں ۔ آج کا معا شرہ تعلیم یا فتہ ہے مگر بدقسمتی سے تربیت یا فتہ نہیں ہے۔ پرا ئیویٹ سیکٹر میں اخلاقی قدریں ماڈرن ازم اور فیشن کے نام پر طلبہ کے مابین بری طرح پا مال ہو ئی ہیں جس کا تعلیم کے ساتھ کو ئی تعلق نہیں ہے۔ بیرون دنیا سے ایجوکیشن ضرور لینی چا ہیے لیکن اپنا کلچر اور تہذیب نہیں بھولنی چا ہیے۔ اس دن کی منا سب سے تمام اساتذہ کو انکی خدمات پر مبارکباد دیتا ہوں اور یہ دن تجدید عہد کا دن ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کے لیے رول ماڈل ہو نا چا ہیے۔ پنجاب یونیورسٹی سے معروف تا ریخ دان اور اساتذہ تنظیم کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محبوب حسین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے اور پا کستان کے تمام اساتذہ کو نیک خواہشات کا اطہار کیا۔ پا کستان میں حکومتی سطح پر تعلیم سیاسی نعرہ سے بڑھ کر کو ئی اہمیت نہیں رکھتی۔ حکومت اپنے معاملات کو سلجھانے کے لیے ایک دن میں تما م تر پلیٹ فارمز سے معاملات مکمل کر تی ہے لیکن 2 سال کا عرصہ گذرنے کے با وجود پنجاب کی 14 جا معات مستقل سربراہان کی منتظر ہیں ۔ آج کے دن کی مناسبت سے یہی پیغام ہے کہ حکومت تعلیم کو اپنی بنیا دی ترجیحات میں شامل کر ئے۔ 1973 کے آئین میں واضع طو رپر معیاری تعلیم اور صحت حکومت کی بنیادی تر جیح لکھی گئی ہے لیکن کمرشلا ئزیشن تعلیم اور استاد کی معا شرے سے عزت کو تباہ کر دیا ہے اور سب سے بڑا نقصان تعلیم کی کمرشلائزیشن سے طلبہ کی اخلاقی قدروں کے ختم ہو جا نے کا ہواہے۔ اساتذہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض پر بھی توجہ دیں ۔ اچھا استاد تہذیب یا فتہ معا شر ے کا ضامن ہو تا ہے۔

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: