سلمان حیدرنے چھہ ماہ پہلے ہی نظم کے ذریعے اپنے اغواء سے آگاہ کردیا تھا

by Asad Saleem | جنوری 8, 2017 7:49 صبح

صفحے سے باہر ایک نظم…

ابھی میرے دوستوں کے دوست لاپتہ ہورہے ہیں
پھر میرے دوستوں کی باری ہے
اور اس کے بعد۔۔
میں وہ فائل بنوں گا
جسے میرا باپ عدالت لے کر جائے گا
یا وہ تصویر جسے میرا بیٹا صحافی کے کہنے پر چومے گا
یا وہ چپ جو میری بیوی پہنے گی
یا وہ بربراہت جو میری ماں تصویر پر پھوکنے سے پہلے گنگنائے گی
یا وہ عدد جس میں کسی قید خانے میں پکارا جاؤ گا
یا وہ گناہ جو کبھی سرزد ہی نہ ہوا
یا وہ اعتراف جس پر میں نے اغوا ہونے سے پہلے دسخط کردئیے تھے
یا وہ فیصلہ جو اعتراف سے پہلے لکھا جا چکا تھا

یا وہ سزا جو مجھ پر اور میرے لوگوں پر برابر تقسیم کر دی گئی

یا وہ قانون جس کی بساند سے تہذیب یافتہ نتهنے گهن کهاتے ہیں
یا وہ کمیشن جو اس قانون کا پرفیوم چهڑک کر میز پر بیٹھتا ہے
یا وہ نظم جو میرے دوست کا دوست کل لکهے گا
ہاں میں ایک نظم ہوں
میرے سامنے والے صفحے پر ایک تصویر قید ہے
جس کے ادھ کھلے ہونٹوں کی ایک باچھ پر بوسہ کهلا ہوا ہے اور دوسری گنگناہٹ سے لتهڑی ہوئی ہے
اس کے برابر فریم میں ایک فائل ہے اور ساتھ والی دراز میں؟؟؟
شاید گناہ اعتراف اور سزا رکهے گئے ہوں
میں وہ دراز نہیں کھول سکتا
اس کے لیے مجهے اپنے صفحے سے نکلنا پڑے گا
نظموں کا صفحوں سے باہر نکلنا جرم ہے
کتابوں کو الماریوں سے رہا کروانے کی طرح سنگین۔۔۔

سلمان حیدر
27 جولائی  2016

Comments

comments

Source URL: http://urdu.educationist.com.pk/?p=172