17 نجی اسکولوں کو غیر مجاز فیس بڑھانے پر جرمانہ

17 نجی اسکولوں کو غیر مجاز فیس بڑھانے پر جرمانہ
اکتوبر 05 17:17 2017 Print This Article

 لاہور: فیسوں میں اضافے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر 17 نجی اسکولوں کوروزانہ کی بنیاد پر 20،000 روپے جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ مزید اسکولوں کی سماعت جمعہ کو ہوگی.

ضلعی تعلیمی اتھارٹی(ڈی اے اے)  کو والدین کی جانب سے بچوں کی فیس میں ہوشربا اضافہ کے خلاف شکایات موصول ہورہی ہیں جس پر ان کے خلاف کاروائی کاآغازکردیاگیاہے۔

پنجاب نجی تعلیمی اداروں (پروموشن اور ریگولیشن) (تعدیلات) آرڈیننس 2017 کے مطابق، تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے اسکولوں کو 5 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی ہے اور ڈی اے اے کی منظوری کے بعد صرف 8٪ تک اضافہ ہوسکتا ہے. تاہمبہت سے والدین شکایت کر رہے ہیں کہ بہت سے اسکول، موجودہ تعلیمی سال کے دوران فیس میں غیرمجازاضافہ کر رہے ہیں.

احتجاج کادائرہ کارپھیلنے کے بعدضلعی تعلیمی اٹھارٹی لاہور  نے ان نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی شروع کی جو قانون کے خلاف ورزی کررہے تھے۔اتھارٹی کی جانب سے  سکولوں کو فیس میں اضافے کے دفاع کا موقع دیا گیا تھا.

ڈی ای اےلاہور نے بدھ کو 17 نجی اسکولوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پرسزا دی اور ان کو والدین کو اضافی وصول کی گئی فیس کی واپسی کے لئے 30 دن کی مہلت دی ہے۔ اسکولوں کو ہر روز 20،000 روپیہ جرمانہ کیاگیاہے جو 30 دن تک جاری رہے گا۔ اور اگر وہ حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو 2 کروڑ روپے تک جرمانہ کیاجائے گا۔واضح رہے کہ ڈی اے اے کوضلع بھرسے 40 سے زائد اسکولوں کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اخباری نمائندے کےرابطہ کرنے پر لاہور ڈی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بشیر زاہد گورایہ نے تصدیق کی کہ کچھ اسکولوں کو جرمانہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزیدکہا  کہ قانون کی خلاف ورزی پر کسی کو معاف نہیں کیاجائے گا۔

فیسوں میں اضافے پر جب شوربڑھاتو پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے معاملے کو دیکھنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کی قیادت پنجاب ایڈیشنل چیف سکریٹری شمیل احمد خواجہ کررہے ہیں.

Comments

comments