سینئر صحافی انور ساجدی کا بلوچستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ

سینئر صحافی انور ساجدی کا بلوچستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ
ستمبر 28 23:12 2017 Print This Article

ساجدانور

1انور ساجدی صاحب کا شمار بلوچستان کے سینئر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آج کل وہ ’’روزنامہ انتخاب‘‘ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر اپنے 40سالہ تجربے کی بنیاد پر کمال مہارت رکھتے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ سب سے مشہور کتاب ’’نواب بگٹی کو کیوں قتل کیا گیا‘‘پاکستان میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ صحافت کی دنیا میں 40 سال خدمات کی بناء پر آج کل بلوچستان کے صحافیوں کی تنظیم کے نائب صدر بھی ہیں۔بلوچستان میں جاری بغاوت اور فوجی آپریشنوں پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ بلوچ نفسیات سے بھی واقف ہیں اور حکومتی رویوں سے بھی آگاہ ہیں۔ بلوچستان، پاکستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ علاقہ ہے اور پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل کشمکش کی صورتحال میں ہے۔ بلوچیوں پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے علیحدگی کے خواہش مند ہیں جس کے کچھ دھڑے اقرار بھی کرتے ہیں جبکہ حکومت پر الزام ہے کہ وہ ماورائے عدالت قتل، حکومتی معاملات میں فوج کی دخل اندازی اور لوگوں کے اغوا میں شامل ہے۔ انور ساجدی صاحب 40 سال سے بلوچستان میں صحافت کر رہے ہیں اور ان معاملات پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مشورے بھی مفید ہوتے ہیں۔ وہ نواب اکبر بگٹی کے بہت قریبی ساتھی رہے جس کی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اس مسئلے کو انور ساجدی سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا۔
سوال : ساجدی صاحب بلوچستان میں پہلی انسرجنسی 1948 ء میں شروع ہوئی اس میں کیا شکوے تھے؟
جواب: اس وقت بلوچستان کے 2 حصے تھے، ایک تھا سٹیٹ آف قلات اور دوسرا تھا برٹش، بلوچستان کلات سٹیٹ 1948 ء میں پاکستان میں شامل ہوا۔ پاکستان میں شامل ہونے کے بعد جو نیشنلسٹ بلوچ تھے ان کی قیادت آغا عبدالکریم خان کر رہے تھے وہ خان آف قلات کے چھوٹے بھائی تھے تو انہوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور افغانستان چلے گئے۔ وہ پہلی انسر جنسی یا بغاوت تھی۔
دوسری بغاوت پاکستان کے خلاف 1958 ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد جب خان آف قلات کو گرفتار کیا گیا اور اس پر الزام تھا کہ وہ پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ 1959-60 ء میں ایک اور بغاوت ہوئی جس میں تین چار بڑے لیڈر ابھرے جن کو لوگ جانتے ہیں باقی کسی کو نہیں جانتے۔ ان میں نواب خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور میر شیر محمد مری عرف جنرل شیروف جو کہ گوریلا کمانڈر تھے۔
تیسری بغاوت فروری 1973 ء میں جب پیپلز پارٹی نے سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت بلوچستان میں برطرف کر دی تو اس کے بعد ایک مسلح جدوجہد ہوئی جو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء آنے تک کم و بیش جاری رہی اور موجودہ بغاوت جو بلوچستان کے طول و عرض میں چل رہی ہے اصل میں شروع ہوئی ساحل و مسائل کے مسئلے پر جو گوادر پورٹ ڈویلپ کر رہی تھی جس میں بلوچ کہہ رہے تھے کہ ہماری آبادی بہت کم ہے اور یہ کراچی جیسا شہر بن جائے گا اور ڈیمو گرافک چینج آجائے گی اور بلوچ اقلیت میں چلے جائیں گے تو ایک تحریک شروع ہوئی۔
سوال: ساجدی صاحب موجودہ بغاوت میں عام بلوچ بھی حصہ لے رہے ہیں جبکہ ماضی میں نواب اور سردار ہی ہوتے تھے۔ آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟

جواب: دیکھیں موجودہ بغاوت نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس وقت سے آج تک حالات خراب ہیں۔ آپ کو علم ہوگا کہ ایک اور بڑے لیڈر جس کا نام غلام محمد بلوچ تھا اپنے 2 ساتھیوں سمیت تربت میں ماورائے عدالت قتل ہوئے اور لاشیں پھینکی گئیں۔اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں فیوڈل لارڈز ہیں، یہ سردار ہیں۔ بھائی سردار تو ساٹھ ستر ہیں اور وہ سب حکومت کے ساتھ ہیں۔ سوائے ایک آدھ سردار کے جو ساتھ نہیں تھے تو اس میں جسے لوگ بغاوت یا آزادی کی جنگ کہتے ہیں اس میں تو عام لوگ ہیں اور ان کے لیڈر بھی عام لوگ ہیں۔

سوال: انور ساجدی صاحب بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کیا ہے؟
جواب: اس وقت افغانستان میں وار آن ٹیررچل رہا ہے اور وہاں مقیم امریکی افواج کے لئے رسد کی ترسیل بلوچستان کے راستے سے ہوتی ہے۔ اس کے بارڈر بلوچستان اور ایران کے ساتھ لگتے ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ اس کی سرحد ہے۔ یہ تین اہم سٹریٹجک مقامات پر یہ ہے اور اس کے بغیر پاکستان کا کوئی تصور نہیں ہے اور اس کے بغیر افغانستان میں وار آن ٹیرر لڑنے کا بھی کوئی تصور نہیں ہے۔
سوال: اس وقت بلوچستان کے حالات کیا ہیں؟
جواب: اس وقت تو جنگ کی سی کیفیت ہے۔ ہر طرف لوگ مر رہے ہیں، دھماکے ہو رہے ہیں اور لاشیں گرائی جارہی ہیں۔ مسلکی بنیادوں پر بھی اور لسانی بنیادوں پر بھی۔
سوال : حکومت کا الزام ہے کہ اس میں بھارت کا ہاتھ ملوث ہے آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: حکومت تو ہر وقت کہتی رہتی ہے مگر انہوں نے ثبوت کبھی فراہم نہیں کئے، چاہیے تو یہ کہ الزام کے ساتھ ثبوت بھی فراہم کئے جائیں تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر قبول کیا جائے۔
سوال: اس لڑائی میں پشتونوں کا کیا کردار ہے؟
جواب: پشتون اس وقت نیوٹرل ہیں کیونکہ بلوچ شمالی بلوچستان کو جو کوئٹہ سے شروع ہو کر شمال کی طرف جاتا ہے اسے تاریخی طور پر پشتون زمین تسلیم کرتے ہیں۔
سوال: ساجدی صاحب بلوچستان کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا صوبائی خود مختاری/ یا غربت مٹانے سے بلوچ مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟
جواب: بلوچ قوم جب صوبائی خود مختاری مانگتی تھی تب انہیں صوبائی خود مختاری نہیں دی گئی۔ حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت سے کام لیا گیا اور انہوں نے بلوچستان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ لوگوں کو اب تک ان کے مسائل کا حق نہیں دیا گیا۔ اب ان کا ایک نقاطی مطالبہ ہے۔آج بھی اگر حکومت سنجیدگی دکھائے تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
سوال: آغاز حقوق بلوچستان جو دیا گیا تھا وہ آپ کی نظر میں بلوچ قوم کے زخم پر مرہم کاکام کر پایا؟
جواب: وہ ایک مذاق تھا۔ صرف چند نائب قاصدوں یا چوکیداروں کی نوکریاں دے کر آپ قوموں کو اس طرح خوش نہیں کرسکتے۔بلکہ آپ کو پوری قوم کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔
سوال: بلوچستان کا مسئلہ کون حل کرسکتا ہے؟
ج: با اختیار لوگ ہی حل کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ بلوچ ہوں یا حکومت پاکستان کے بااختیار لوگ۔
ان لوگوں کو راضی کیا جائے جو بغاوت کر رہے ہیں ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں اور ان سرداروں کوبھی چاہئے کہ وہ کچھ لچک کا مظاہرہ کرے اور مذاکرات کی میز پر آکر سیاسی طور طریقے سے عوام کے فلاح و بہود کے لئے کام کرے۔
سوال: اس چوہے بلی کے کھیل میں نقصا ن کس کا ہو رہا ہے؟
جواب: اس میں صرف عام عوام کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہر جگہ اگر کچھ غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں تو عام غریب لوگ ہی اپنے جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دی ایجوکیشنسٹ کا صاحب رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔آپ بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔اپنی رائے کے اظہارکے لئے

contact@educationist.com.pk

پرای میل لکھیں۔شکریہ

Comments

comments

  Categories: