ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے 15سال

ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے 15سال
ستمبر 15 16:53 2017 Print This Article

تحر یر : عامر اسما عیل

ستمبر 2002ء میں پاکستان میں ہایئر ایجو کیشن کمیشن کی بنیاد رکھی گئی ۔ پاکستان میں ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے قیام کا مقصد ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ اور ترقی کیلئے کردار ادا کرنا تھا تاکہ ملک تعلیم یافتہ اقوام کی صف اور مضبوط معیشت کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔ اکتوبر ۲۰۰۲ میں ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بطور بانی چیئر مین ہایئر ایجو کیشن کمیشن کی کمان سنبھالی ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کی بطور ماہر تعلیم خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے جب ہایئر ایجو کیشن کمیشن پاکستان کے پہلے چیئر مین کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں تو اسوقت پاکستان کی جامعات کسمپر سی کا شکار تھیں اور کوئی ایک جامعہ بھی دنیا کی 500یا 1000بہترین جامعات کی فہرست میں شامل نہیں تھی ۔جامعات میں تحقیقی کلچر نام کی کوئی چیز موجو د نہ تھی لیکن چند سالوں میں بطور چیئر مین ہایئر ایجو کیشن کمیشن ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ایچ ای سی کو اپنے پاؤں پر لا کھڑا کیا یہ وہ وقت تھا جب ایچ ای سی کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ جامعات تعلیم و تحقیق اور بہتری کی منازل طے کرنا شروع ہوچکی تھیں ۔چھ سال کے قلیل عرصہ میں پاکستان کی جامعات کا شمار دنیا کی صف اول 250,300,اور 400جامعات میں ہونے لگا جوکسی معجزہ سے کم نہیں تھا یقیناًاس کے پس پشت ڈاکٹر عطاء الرحمن کی شبانہ روز محنت، لگن اور دلچسپی کار فرما تھی جس نے پاکستان میں اعلی تعلیمی شعبہ کو ایک نئ راہ دکھلائی ۔ جامعات کا معیار انکی عمارتوں سے نہیں بلکہ اعلی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل استاتذہ سے ہوتا ہے جوبین الاقوامی مقابلے کیلئے تحقیقی ماحول پیدا کر سکیں ۔جامعات کی درجہ بندی انکی تحقیقاتی پیداوری صلا حیت پر منحصر ہوتی ہے بلکہ یہ شمار بندی پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد اور معیا ر پر کی جاتی ہے ۔جامعات کے عالمی شماریات کے اہم جزو ، جامعات میں کی جانیوالی تحقیقات کے بین الاقوامی حوالے ،ان جریدوں کا معیار جن میں ان جامعات کی تحقیقات شامل ہوں ، ایجادات پر بین الاقوامی اسناد ، پی ایچ ڈی کرنیوالے طلباء کی تعداد،پی ایچ ڈی اساتذہ کا تناسب ،بین الاقوامی اعزازات او ر دیگر عوامل شامل ہیں ۔ بطور چیئر مین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمن کو کئی بار حکومتی عدم تعاون سے دلبرداشتہ ہوکر استعفی دینے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی اور وہ درست بھی تھے ۔ اکتوبر2008ء میں انہوں نے احتجاجاً اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا کیونکہ ایچ ای سی کے وظیفوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلباءوطالبات کے وضائف حکومت نے بند کردئے تھے اور وہ طلباء بیرون ممالک بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کے استعفی کے بعد پیپلز پارٹی حکومت نے سندھ کے شہر حید رآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید لغاری کو ہایئر ایجو کیشن کمیشن کے نئے چیئر مین کا عہدہ سونپ دیا ۔ ڈاکٹر جاوید لغاری کا شمار بی بی شہید کے قریبی ساتھیوں میں ہوتاتھا۔وہ اسوقت نیویارک کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھے جب انہیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے پاکستان واپس بلایا تھا ۔اس سے قبل وہ بینظیر شہید کے مشیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی رہ چکے تھے ۔ڈاکٹر جاوید لغاری پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور بنانے میں بھی بی بی شہید کی معاونت کرتے رہے، انہیں 2006میں پیپلز پارٹی کی جانب سے چھ سال کیلئے سینیٹ کا رکن منتخب کر لیا گیا وہ قائم مقام چیئر مین سینٹ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ڈاکٹر جاوید لغاری کا بطور چیئر مین ہایئر ایجو کیشن کمیشن کردار انتہائی دلچسپ رہا۔ انہوں نے جب کمیشن کی ذمہ داری سنبھالی تو اسوقت جعلی ڈگریوں کا شور اور واویلا جاری تھا چناچہ ڈاکٹر جاوید لغاری نے اپنی ہی حکومت کیخلاف قدم اٹھا یا اور جعلی ڈگریوں کے حامل اراکین اسمبلی کے نام ظاہر کئے جس پر انہیں شدید سیاسی مخالفت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ڈٹے رہے ۔انہوں نے بلا امتیاز تمام جعلی ڈگری ہولڈر اراکین اور وزراہ کی ڈگریاں معطل کردیں۔ پاکستان میں جعلی ڈگری کے حامل افراد سے چھٹکارا حاصل کرنے کا سہرا یقیناًڈاکٹر جاوید لغاری کے سر جاتا ہے جنہوں نے ڈاکٹر بابر اعوان بننے سے انکار کردیا اور حق اور سچ پر ڈٹ گئے گو کہ انہیں اسی جرم کی پاداش میں سینیٹ سے احتجاجا مستعفی اور اپنے خاندان کی مخالفت بھی مول لینا پڑی لیکن انہوں نے یہ کارنامہ بڑی خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔وہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کے بعد دوسری شخصیت تھے جنہوں نے سرکاری دباؤ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیاجس پرانہیں عوام میں بڑی پذیرائی ملی ۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے کے ساتھ ساتھ یہ وقت پاکستان کے اعلی تعلیمی کمیشن کے لئے عظیم وقت تھا ۔ٹائمز ہایئر ایجوکیشن کی رینکنگ میں پاکستانی جامعات دن بدن بہتری کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ پاکستان کی جامعات کا شمار دنیا کی صف اول کی 100بہترین جامعات میں ہوچکا تھا ۔ جامعات کو اپنے معاملات میں مکمل خود مختاری حاصل تھی ۔پاکستان میں اعلی تعلیمی کمیشن کے کیلئے یہ واحد چیئر مین تھے جنہوں نے ایچ ای سی کا مکمل بجٹ تحقیق اور ترقی کیلئے جامعات کو سونپا اور خرچ کیا ۔ اسی دوران کئی بار اس ادارے کو حکمرانوں کی جانب سے تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ کسی صورت بھی ایچ ای سی آزاد اور سیاسی دباؤ سے باہر نکل کر کام نہ کرسکے چنانچہ ڈاکٹر جاوید لغاری کی مدت مکمل ہونے کے بعد حکمرانوں نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا اور سیاسی بنیاد پر پاکستان کے سب سے بڑے اعلیٰ تعلیمی ادارے کو ڈاکٹر مختار احمد کو سونپ دیا گیا ۔ تعیناتی کے وقت تعلیمی حلقو ں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ مختلف مکاتب فکر کی جانب سے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا ۔ تعلیمی حلقوں کے تحفظات درست نکلے اور آج چار سال بعد پاکستان میں اعلی تعلیم کا شعبہ دن بدن تنزلی کی جانب گامزن ہے جس کی ساری ذمہ داری ہایئر ایجوکیشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے ۔ جامعات کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ماننے سے انکار نے اس ساری صورت حال کو جنم دیا ۔اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبہ جات براہ راست صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ 20اپریل 2010کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کے بعد پاکستان کے گزٹ کاحصہ بنادیاگیا تھا اس آئینی ترمیم کے تحت 280آرٹیکل میں سے 102میں ضروری ترامیم کی گئی تھیں جسکی روشنی میں اڑتالیس وفاقی قوانین بشمول ایچ ای سی ایکٹ 2002میں آئین کے مطابق ترامیم اور وفاقی مقننہ کی لسٹ 2 کے تحت نئے ادارے کمیشن برائے سٹینڈرڈز ان ہائر ایجوکیشن کاقیام تھا جس پر چھ سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ۔اٹھارہویں آئینی ترمیم پر تنقید کرنے والوں نے اسے تقسیم در تقسیم کا فارمولہ قرار دیا لیکن اگر بین الاقوامی ممالک کا جائزہ لیا جائے توکینیڈا کے معروف بین الاقوامی ادارے ’’ فورم آف فیڈریشن ‘‘ کے مطابق 12میں سے 10وفاقی ممالک میں اعلی تعلیم کے شعبہ میں انتظامی معاملات ، مالیاتی معاملات سمیت اکیڈ یمک پروگرامز کی منظوری کی ذمہ داری وفاقی اکائیوں کے پاس ہے جبکہ وفاقی حکومت کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے پنجاب اور سندھ نے اعلی تعلیم کے فروغ اور صو بوں میں اعلی تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے صو بائی ہائیر ایجو کیشن کا قیام کیا۔ مگر صو بائی ہائیر ایجو کیشن کے قیام کے بعد اختیارات کی منتقلی میں وفاقی ایچ ای سی کا 2002ء کا آرڈیننس گلے کی ہڈی بن چکا ہے ، اس آرڈیننس کے مطابق وفاقی ہائیر ایجو کیشن جامعات کے قیام ، وائس چانسلرز کی تقرری اور مالیاتی امور کی خو د نگرانی کرے گا لیکن چیئر مین سینٹ رضا ربانی کی سربراہی میں اٹھارہویں ترمیم کے عملد رآمد کمیشن نے وفاقی ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002ء کو آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم قرار دیا ہے کمیشن کے مطابق مذکو رہ بالا تمام اختیارات ترمیم کے بعد براہ راست صوبوں کے اختیارات ہیں جسمیں وفاقی ایچ ای سی کی مداخلت مناسب نہیں ۔یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ اختیارات کی عدم منتقلی سے صوبائی حکومتیں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے اپنا فعال کردار ادا کرنے سے قاصر رہیں گی ۔ اگر وفاقی ہائیر ایجو کیشن کی سال 2016/17ء کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نوحہ کناں ہونے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا ۔معروف بین االا قوامی ادارے ٹا ئمز ہا ئیر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ جامعات کی عالمی درجہ بند ی 2016ْ/17/میں ایک بھی پاکستانی جامعہ دنیا کی بہترین 600جامعات اور ایشیاء کی 100بہترین جامعات میں شامل نہیں ہے۔ یو نیو رسٹیوں کی رینکنگ کے مطابق پاکستان کے بر عکس 600صف اول کی جامعات میں 21کاتعلق چین،3سعودی عرب،2ملائیشیا ،8انڈیا،1ایران ،8تا ئیوان جبکہ 12کاتعلق ترکی سے ہے ،پاکستانی جامعات پہلی صرف 980 یونیورسٹیوں میں شامل ہیں کا مسیٹس انسی ٹیوٹ آف انفار میشن ٹیکنا لوجی اسلام آباد، نیشنل یو نیورسٹی آف سا ئنس اینڈ ٹیکنا لو جی ، یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی جبکہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد 601-800جبکہ یونیو رسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد،بہا والدین زکریا یونیورسٹی ملتان ،انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور،کراچی یونیورسٹی،یونیورسٹی آف لاہور 701ویں نمبر پر ہیں جبکہ ایشیاء کی 100بہترین جامعات میں بھارت کی 10جامعات شامل ہیں۔ درجہ بندی میں اکیڈمک اور ملازمین کی شہرت ،فیکلٹی طالب علم کی شرح ،بین الاقوامی طلباء کی تعداداور بین الاقوامی فیکلٹی کی موجودگی سمیت تحقیقی موادکی اشاعت کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی ادارے مایوس کن رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں جیسا کہ گلوبل کمپیٹیٹونس رپورٹ کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں 140میں سے 124ویں نمبر پرہے جبکہ ہمسایہ ممالک بھارت 90،چین28 اور ایران 69 نمبر پر ہیں ۔ افسو سناک امر یہ ہے کہ 90ارب سے زائدسالانہ بجٹ کا حامل اور 183 سرکاری جامعا ت کے معاملات کا نگران ادارہ ہائیر ایجو کیشن کمیشن ہے جس کی بہتری کیلئے جا ری اربوں کے فنڈز میں سے گزشتہ برس 48 فیصد فنڈز خرچ ہی نہیں کئے جا سکے ۔ ہائیر ایجو کیشن کمیشن کو مختلف منصو بوں کی مد میں 2762.30ملین جاری کئے گئے جسمیں سے صرف1437.63ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ ملک کے سب سے زیادہ 27جامعات اور 22سب کیمپسسز والے صوبہ پنجاب کیلئے وفا قی ایچ ای سی کی جانب سے کل بجٹ کا صرف 11فیصد جاری کیا گیا، جو جامعات کے ترقیا تی اور ریسر چ پر وگراموں کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ۔ قومی خزانے سے کروڑوں کے فنڈز استعمال کرکے کانفرسسز کا انقعا د بے سود ہے تاوقتیکہ کے اصل مسائل کی طرف توجہ نہ دی جائے ۔حیران کن طور پر وفاقی ایچ ای سی کے کمیشن ممبران کی تعداد تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے اکتوبر 2016ء کے بعد تاحال ہائیر ایجو کیشن کمیشن کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ فاقی ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002ء کے آرٹیکل 6کیمطابق ایچ ای سی کا کمیشن 18ممبران پر مشتمل ہے جسمیں چیئرمین ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی ،دو وفاقی سیکرٹریز ، چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سمیت دس ماہرین شامل ہوتے ہیں ۔آڈیٹر جنرل آ ف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کیمطابق مالیاتی سال 2015/16میں ایچ ای سی اپنے مجموعی بجٹ 1903.127ملین کا صرف 21فیصد ہی ترقیاتی کاموں پر لگا سکا ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کیلئے مختص 65فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کیا جا سکا یعنی جن منصو بہ جات کیلئے فنڈز مختص کئے گئے تھے ان پر عملدرآمد ہی یقینی نہیں بنایا جاسکا جو ایچ ای سی کی کار کر دگی پر سوالیہ نشان ہے ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کیمطابق موجودہ وفاقی ایچ ای سی کے پاس اعلی تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے کوئی کوئی خاطر خواہ پالیسی اور وژن نہیں ۔تعلیم تو ضروری ہے اور اعلی تعلیم اس سے بڑھ کر ،اسکے بغیر ترقی اور مضبوط معیشت کا خواب دیکھنا ممکن نہیں ۔اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرناہوگا وفاقی ہایئر ایجو کیشن کو صوبائی ہایئر ایجو کیشن کی آئینی حیثیت انہیں دینا اور تسلیم کرنا پڑے گا اور بین الاقوامی سطح پر ماضی کی طرح اپنا لوہا منوانے کیلئے اسی طرز کے میرٹکی بنیادپر قابل سربراہ تلاش کرناہونگے جو پالیسی اور وژن رکھتے ہوں اور سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر خالصتاً اعلی تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے کام کرسکیں ۔ جامعات میں اسوقت بیس ہزار سے زائد پی ایچ ڈی اساتذہ تو موجود ہیں لیکن تحقیق سے عاری ۔ہم عالمی جامعات کے ہم پلہ آنا چاہتے ہیں تو ہر سال دو ہزار طلباء کو بیرون ممالک دنیا کی بہترین جامعات میں تحقیق کیلئے بھیجا جانا چاہیے اور واپس وطن لوٹنے پر انکے شعبہ جات سے متعلق انہیں روزگار فراہم کیا جانا چاہیئے ۔ ملک کی چند مخصوص اور اہم قابل ذکر جامعات میں تحقیقی مراکز بین الاقوامی طرز پر بنانا ہونگے جہاں تحقیق کے کلچر کو عام کرنے میں مدد مل سکے اور سینکڑوں طلباء تحقیقی کام پر مگن رہیں ۔ جبکہ قومی سطح پر تحقیق کیلئے بھی مراکز قائم ہونے چاہئے جن پر اہم سہولیات بہم موجود ہوں تاکہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے کیلئے بین الاقوامی طرز پر تحقیقی مراکز سے اس کمی کو بھی پورا کیا جاسکے جسکا سالانہ بجٹ ایک ارب سے زائد مختص کیا جائے۔جامعات کی گرانٹ کو ہر سال بڑھا کر انکی خود مختاری کو تسلیم کرنا یقیناًاعلی تعلیمی شعبہ کیلئے ترقی کا ضامن ہے ۔15سال مکمل ہونے کے بعد بھی ہم نوجوان نسل کو ریسرچ کی جانب راغب کرنے سے محروم ہیں جسکا آسا ن اور بنیادی حل قابل اور تحقیق کا شوق رکھنے والے طلبا ء کو مناسب روزگار کے ذریعے انکی معاشی پسماندگی سے آزاد کرنا ہے تاکہ نئے آنیوالے طلبا ء روزگار نہ ہونے کے خوف سے بالاتر ہوکر تحقیق کو اپنا پیشہ بنائیں ۔آج جبکہ ایچ ای سی اپنے پندرہ سال مکمل کر رہی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اس اہم اعلی تعلیمی شعبہ کے ساتھ کئے گئے وعدے اور دعوے پورے کرسکے اگر ہاں تو پھر آئے روز طلباء اور اساتذہ اپنی ڈگریاں بیچنے اور سڑکوں پر آنے کیلئے کیوں مجبور ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کونسی غلطیاں اور کوتاہیوں ہیں جنکا سدباب کرکے پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبہ کو بہتر بنا یا جا سکتا ہے ۔ارباب اقتدار کو سر جوڑنا ہونگے کہ پاکستان میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے بیرون ملک سے طلباء کب آئیں گے، کب ہمیں انکی جامعات میں تحقیق کے طلباء بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں سوچنا ہوگا کیونکہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہو اکرتی ہے ۔ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس شعبہ میں ملکی مفاد اور بقا کی خاطر سیاست نہیں کرینگے یہاں میرٹ کی بالا دستی قائم کرینگے کیونکہ یہ پاکستان کا معاملہ ہے ۔اگر ہم واقعی ان اصولوں پر 15سال گزرنے کے بعد بھی عمل پیرا ہونے کا عہد کرلیں تو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ تابناک پاکستان کی تاریخ لکھنے کے لئے مورخ منتظر ہیں۔

Amir Ismail is social and youth activist. He is currently working as Coordinator (Lahore) with Inter University Consortium for Promotion of Social Sciences Pakistan, an autonomous largest alliance of Pakistani universities

Comments

comments