پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کولا فری سکولز کی مہم میں تیزی آگئی: رپورٹ اسدسلیم

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کولا فری سکولز کی مہم میں تیزی آگئی: رپورٹ اسدسلیم
ستمبر 09 15:24 2017 Print This Article
ڈی پی ایس سکول ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پرنسپل مسز مقبول جاوید کو صاف ستھری کینٹین اوربہترین غذا کی موجودگی پر 5ہزار کا انعام
لاہور (محمد اسدسلیم)؛  پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں 14اگست سے تمام قسم کی کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے۔۔تمام تعلیمی اداروں اور ان کے احاطے کے 100میٹر کے اندر قسم بھی کینٹن ،دوکان یا ڈرنک کارنر کو بوتلیں سپلائی کرنے پر بھی پابندی عائد۔
کولا فری سکولز کے اقدام کو یقینی بنانے کے لئےپنجاب فوڈ اتھارٹی  کے روزانہ کی بنیاد پر چھاپوں کا سسلہ بھی جاری۔
صوبہ بھر میں 519کی چیکنگ ، انٹرنیشنل سکول آف کورڈوبا ، الائیڈ سکول ، سر سید سکول سمیت 19سیلصوبہ بھر کے 8ڈویژنز میں کل 519سکولوں کی چیکنگ کی گئی اور،کینٹینوں پر موجود اشیاء خودونوش کے معیار کو چیک کیا گیا۔ سکول کینٹینوں پر کولا و انرجی ڈرنکس کے علاوہ گٹکا،سپاری اور دیگر مضر صحت اشیاء کی موجودگی اور اشیاء خوردنوش کے معیار کی بھی چیکنگ کی گئی۔ ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق لاہور میں48، راولپنڈی میں41، ملتان میں39، گوجرانوالہ میں35، فیصل آباد میں41، ساہیوال میں24، بہاولپور میں27، سرگودھا میں 19جبکہ ڈی جی خان میں22سکولوں کی چیکنگ کی گئی۔ مجموعی طور پر 109سکولوں کو ناقص صفائی اور مضر صحت اجزاء کی موجودگی پر وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔چکوال 7، اٹک میں5، سیالکوٹ میں15،جہلم میں15، منڈی بہاؤالدین میں 32،اوکاڑہ میں14، خانیوال میں 8، راجن پور میں 5 اور لیہ میں 13سکولوں کو چیک کیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے فیصل آباد ، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مختلف سکولوں کی چیکنگ کی اور ڈی پی ایس سکول ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پرنسپل مسز مقبول جاوید کو صاف ستھری کینٹین اوربہترین غذا کی موجودگی پر 5ہزار کا انعام جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سلطان فاؤنڈیشن سکول سمیت 6کو وارننگ نوٹس جاری کیے۔راولپنڈی کی ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے سر سید سکول کینٹین کوگٹکا اورکاربونیٹیڈ ڈرنکس فروخت کرنے کی بناء پر سیل کر دیا۔جرانوالہ کی ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے کامونکی ٹاؤن میں انٹرنیشنل سکول آف کورڈوبا اور کھیالی شاہ پورمیں واقع الائیڈ سکول کنٹین سے کاربونٹیڈ اور انرجی ڈرنکس کی موجودگی کی بنا پر سیل کر دیا ۔کامونکی میں واقع فوسٹر سکول سسٹم کو کاربونیڈ ڈرنکس کی موجودگی کی بناپر 5000 روپے جرمانہ اور اشیا ء خوردونوش کو تلف کر دیا ۔پہلے مرحلے میں نوٹس دیے ، دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں کنال بینک سکیم میں موجود دی ائیرفاونڈیشن سکول ،گیٹ وے ٹو سکسیس سکول ،دی سلک سکول ٹومارو ،ماڈل ٹاؤن میں دی گرینڈ چارٹر سکول ،،سید سکول سسٹم ،ریگل چوک پر واقع ریگل حلیم کارنر ،ریگل بینظیر دہی بھلے،شاہدرہ میں دارِ ارقم سکول ،دی ایجوکیٹرز سکول ،اور متعدد سکولز کی کینٹین سے کاربونیٹیڈ انرجی ڈرنک کے مکمل خاتمے اور صفائی کے نظام میں بہتری لانے کی ہدایات دی گئی  جبکہ
پہلے مرحلے میں لاہور گرائمر، بون ڈوسکو، یونیک سکول وحدت روڈ کو 10 ہزار فی کس انعام بھی  دیا گیا
انعام حاصل کرنے والے سکولوں کی کینٹینوں پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے وضع کردہ قوانین کے مطابق اشیاء خوردونوشاور صفائی پائی گئی
تمام کینٹینوں کو کولا، انرجی و کاربونیٹڈ ڈرنکس کی عدم دستیابی پر تعریفی اسناد بھی دی گئیں ۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں اور کالج انتظامیہ سے ملاقات بھی کی۔سکولوں اور کالجوں کی کینٹینوں پر کولا و انرجی ڈرنکس کے مکمل خاتمے یقینی بنانے پر اتفاق
 ملاقات میں سکول اور کالج کے اردگرد بھی کولا و انرجی ڈرنکس کی دستیابی پر کڑی نظر رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا
ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے اس حوالے سے بتایا کہ کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کے بچون کی صحت ، خصوصا ہڈیوں کی نشوونما پر پڑنے والے منفی اثرات کے پیش نظر دنیا بھر کے 120ممالک میں سکولوں اور ان کے اردگرد کولڈڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد ہے جن میں نہ صرف امریکہ برطانیہ جیسے ممالک بلکہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں بھی شامل ہیں۔جدید ممالک میں اس پابندی کا اطلاق 2006سے ہی کر دیا گیا تھا ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی سائینٹیفک پینل نے پنجاب ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹشن فوڈ سٹینڈرڈ ریگولیشن 2017ء تیار اور پاس کروا کر سکولوں میں سپلائی ہونے والی خوراک کو ریڈ، ییلو اور گریں کے درجوں میں تقسیم کیا ہے۔ سائنٹیف پینل نے مکمل تحقیق اور دنیا بھر کے ماہریں سے مشاورت کے بعد کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کو ریڈ کیٹگری میں شامل کر کے ان پرپابندی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس پر فوری عمل درآمد کروانے کی سخت ضرورت پر ضرور دیا ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی بورڈ نے اس ضمن میں بورڈ کی منظوری کے ساتھ خصوصی آپریشن ٹیمیں تشکیل دے کر صوبے بھر میں جامع آپریشن کی مکمل حمایت کی ہے۔ نورالامین مینگل نے مزید بتایا کہ پابندی پر عمل درآمد کروانے کے لیے بورڈ کی اجازت اور حمایت سے 701خصوصی آپریشن ٹیمیں بھی تشکیل دی جا چکی ہیں۔ علاوہ ازیں14 اگست سے 13 ستمبر تک صوبہ بھر میں کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس پر پابندی اورعمل درآمد مہینہ کے طور پر منایا جائے گا اور تمام آپریشن ٹیمیں کولڈ ڈرنکس پر کگائی جانے والی پابندی پر عمل درآمد کروانے کے لیے متحرک رہیں گی۔
بچوں کی صحت کے محافظ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے لیے محترم اور انعام کے حقدار ہیں
والدین اور ڈاکٹرز نے پابندی کو خوش آئند قرار  دے دیا۔
دی ایجوکیشنسٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید سبزواری نے بتایا کہآئیں ھم سب ملکر ھر اس چیز کو روک دیں جو ھماری دھڑکن روک سکتے ہیں !
بچوں اور نوجوان لڑکے، لڑکیوں میں دل کی دھڑکن کا بہت زیادہ تیز ھو جانا ، دل کا رک رک کر چلنا ، دل کا ڈوبنا ، شدید گھبراہٹ کا ھو نا،اس کی بہت بڑی وجہ انرجی ڈرنکس ENERGY DRINKS کا استعمال ہے۔ شعبہ امراض قلب کیے ایمرجینسی وارڈ میں لائے جانے والے نوجوان مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی اہم وجہ انر جی ڈ ر نکس کا استعمال ہے۔ سب سے بڑا المیہ وہ اچانک اموات ہیں جو نوجوان افراد میں انرجی ڈرنکس کے پینے کے بعد دل کے اچانک رکنے کی وجہ سے ھو رھی ھیں ۔ یہ ھم سب کا فرض ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو انرجی ڈرنکس ENERGY DRINKS کے اس جان لیوا اثر کے بارے میں بتائیں اور حکو متی سطح پر انرجی ڈرنکس کی تشہیر اور ان کے استعمال پر مکمل پا بندی عائد کی جائے۔
جبکہ دوسری جانب میری لینڈکے ماہرین نے ایک سروے کے بعد خبردار کیا ہے کہ جو نوجوان 20 کی دہائی میں انرجی ڈرنکس بے تحاشہ پیتے ہیں وہ آگے چل کر شراب نوشی اور دیگر نشہ آور اشیا کے عادی بن سکتے ہیں۔مریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے مرکز برائے صحتِ نوجوانان سے وابستہ ڈاکٹر ایمیلیہ آریا کہتی ہیں کہ انرجی ڈرنکس کے زائد استعمال اور منشیات کے درمیان ایک اہم تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔
ماہرین نے اس کے لیے 1099 افراد کا جائزہ لیا جو پہلے کالج میں سالِ اول کے طالبعلم تھے اور ان کی اوسط عمر 18 برس تھی۔ اس کے بعد 21 سے 25 سال پورے ہونے پر ان کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ ان میں سے 51 فیصد افراد نے مسلسل انرجی ڈرنکس کا استعمال کیا جن میں شراب نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال ذیادہ دیکھا گیا یعنی 18 سے 20 سال کی عمر سے انرجی ڈرنکس پینے والوں میں اگلے پانچ سے سات سال میں نشہ آور اشیا کی لت نوٹ کی گئی جبکہ کم انرجی ڈرنکس پینے والوں میں یہ تناسب کم پایا گیا۔
ماہرین کے مطابق انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال کرنے والے نوجوانوں میں کوکین اور دیگر خطرناک نشے کا استعمال بھی نوٹ کیا گیا۔ اس سے قبل ماہرین خبردار کرچکے ہیں کہ انرجی ڈرنکس کا استعمال فوری طور پر دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر کے بلڈ پریشر میں اضافے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

Comments

comments