ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 4یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی عائدکر دی

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 4یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی عائدکر دی
اگست 23 11:03 2017 Print This Article

اسلام آبا د(23اگست): ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے4یونیورسٹیوں کو کسی بھی پروگرام میں طلبہ کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، ان یونیورسٹیوں پر یہ پابندی اکیڈمک بے ضابطگیوں اور بد انتظامی کی وجہ سے اور اس سلسلے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بارہا یاد دہانی کے باوجود عدم تعمیل کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔

ان اداروں میں پریسٹن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (PIMSAT)کراچی ، امیرئیل کالج آف بزنس سٹڈیز لاہور، گلوبل انسٹیٹیوٹ لاہوراور الخیر یونیورسٹی شامل ہیں۔ان اداروں کے نہ صرف مرکزی کیمپسز بلکہ ذیلی کیپمسز ، برانچزاور ان سے ملحقہ کالجز بھی کسی بھی پروگرام میں کسی بھی سطح پر طلبہ کو داخلہ دینے کے اہل نہیں ہیں۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر 2016میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ریویو پینلز نے ملک بھر میں یونیورسٹیوں کا دورہ کیا تاکہ معیار اور گورنس کا جائزہ لیا جا سکے۔ وہ جامعات جن کے بارے میں اطمینان بخش رپورٹ نہیں موصول ہوئی انھیں اپنی کمزوریاں دور کرنے کی ہدایت کی گئی تاہم ان اداروں نے بار بار یاددہانی کے باوجود تعمیل نہیں کی لہذا انھیں کسی بھی پروگرام میں طلبہ کو داخلہ دینے سے روک دیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن باقاعدہ طور پرقومی اور علاقائی اخبارات اور سوشل میڈیا پر والدین اور طلبہ کیلئے خصوصی انتباہی پیغامات نشر کرتا رہتا ہے تاکہ عوام الناس کو آگاہ کیا جائے کہ وہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ سے منظور شدہ ا داروں اور تسلیم شدہ پروگرامز کی فہرست ضرور ملاحظہ کریں۔طلبہ کو مسلسل ہدایت کی جاتی ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے ایسی جامعات یا ان سے الحاق کے دعویدار اداروں سے حاصل کی گئی اسناد یا سرٹیفکیٹس وغیرہ کی تصدیق ہر گز نہیں کی جائے گی ۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے منظور شدہ اور غیر شدہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر رکھی ہے جہاں سے طلبہ اور والدین داخلہ سے قبل کسی بھی ادارے کی حیثیت ملاحظہ کر سکتے ہی۔ یہ فہرست hec.gov.pk/site/HEIsپر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ان تمام ایکریڈیشن کونلسز کی فہرست بھی موجود ہے جو متعلقہ ڈگری پروگرام کو منظور کرنے کیذمہ دار ہیں۔ان میں پاکستان بار کونسل (PBC)، پاکستان کونسل آف آرکیٹکٹس اینڈ ٹاؤن پلینر(PCATP)، پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)، پاکستان نرسنگ کونسل (PNC)، پاکستان فارمیسی کونسل ، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC)، نیشنل کونسل فار ہومیو پیتھی (NCH)، نیشنل کونسل فار طب(NCT)، نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچرز ایجوکیشن(NACTE)، نیشنل ایگریکلچرل ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل (NAEAC)، نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل(NCEAC) اور نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل(NBEAC) شامل ہیں۔

طلبہ اور والدین مختلف اداروں کے کئی اکیڈمک پروگروموں کی حیثیت کا پتہ کر سکتے ہیں کہ وہ جس مخصوص پروگرام میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ منظور شدہ پروگرام ہے یا نہیں ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان کوالیفیکیشن رجسٹر (PQR) بھی تشکیل دیا ہے جو کہ سرکاری و نجی جامعات بشمول ان کے ذیلی کیمپسز اور ملحقہ کالجز میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ پروگراموں کی فہرست پر مشتمل آن لائن ڈیٹا بیس ہے۔ پاکستان کوالیفیکیشن رجسٹر (PQR) کا مقصدہر ایک گریجویٹ کیلئے لازمی علم کی مختلف سطحوں ، صلاحیتوں اور اہلیتو ں کی وضاحت کرنا ہے۔یہ رجسٹر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مختلف پروگراموں اور اقدامات سے جڑا ہو اہے جن میں اسناد کی تصدیق ، مقامی و غیر ملکی سکالر شپس، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ سپروائزرز کی تقرری ، قومی تحقیقی گرانٹ اور سوشل سائنسز کیلئے تھیمیٹک ریسرچ گرانٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر جامعات نے چند ایک جامعات کی جانب سے رد عمل کا فی سست ہے لہذا انھیں بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد پاکستان کوالیفیکیشن رجسٹرمیں اپنے پروگراموں کا اندراج یقینی بنائیں تاکہ وہ بھی مندرجہ بالا عمل کا حصہ بن سکیں۔

Comments

comments