پنجابی ادبی سنگت

پنجابی ادبی سنگت
اگست 06 18:29 2017 Print This Article

تحریر۔ حافظ جنید رضا

پپنجابی ادبی سنگت لگ بھگ نوے سال سے ہفتہ وار اجلاس منعقد کروا رہی ہے۔یہ اب تک ہونے والے ادبی اجلاسوں میں سب سے قدیم مجلس ہے۔یہاں پنجابی ادب کے بڑے نام شرکت کرتے رہے۔اس سال اس کے اجلاس سرفراز صفی اور حافظ محمد جنید رضا کروا رہے ہیں۔ماہ جولائی کا پہلا اجلاس ڈاکٹر سعید بھٹہ کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ جس میں نصیر احمد نے غزل اور اسلم شوق نے افسانہ پڑھا۔نصیر احمد کی غزل کو سراہا گیا لیکن سرفراز صفی نے کہا ان کی مجموعی شاعری زیادہ اچھی ہے۔آج یہ اپنے معیار کے مطابق شاعری کرنے میں ناکام رہے ۔ جو آدمی اتنے اچھے شعر کہتا ہو ، اسے اپنے معیار سے نیچے نہیں آنا چاہیے۔ اسلم شوق کے افسانے پر اس کے موضوع کو پرانا خیال کیا گیا۔حافظ محمد جنید رضا کا کہنا تھا۔ اگر سب لوگوں کو نوکری مل گئی اور اچھے پیسے مل گئے تو ٹھیک نہیں تو یہ موضوع آج بھی اہم ہے۔دوسرے اجلاس کی صدارت طاہرہ سرا نے کی۔ اس میں عبیرہ احمد نے نظم پڑھی اور صابر علی صابر نے افسانہ پڑھا۔ عبیرہ احمد کی نظم کو سب نے سراہا۔ اس میں اپنے رب سے مخاطب ہو کرباتیں کی گئیں تھی۔اس سے رزق مانگا گیا تھا۔ صابر علی صابر کے مختصر افسانے کو حاضرین نے کمزور افسانہ کہا۔ ڈاکٹر امجد طفیل کا کہنا تھا مختصر افسانہ منٹو نے بھی لکھا لیکن یہ افسانہ نہیں بن سکا۔ ہارون عدیم نے کہا، اسے افسانہ ہر گز نہیں کہا جاسکتا جب کہ زاہد ہما شاہ نے کہا، اسے مختصر جان کر رد کرنا درست نہیں۔ اگر یہ اپنے معنی و مفاہیم ظاہر کر رہا ہے تو یہ مکمل افسانہ ہے۔افسانے کی پرانی تعریفیں بھول جائیں۔ جس کے تحت کہانی کا آغاز اور انجام ہوتا ہے۔ کہانی مختصر ہو سکتی ہے۔ عالمی ادب میں سے مثالیں مل جاتی ہیں۔ کافکا کی کہانایاں اکثر مختصر ہیں، علامتی ہیں لیکن دنیا میں سب سے بڑی کہانیاں سمجھی جاتی ہیں۔جناب صدر نے خود بھی کہانی کو پسند کیا اور کہا اس میں علامتی رنگ اپنایا گیا ہے۔تیسرے اجلاس کی صدارت محمد عباس مرزا نے کی۔ اس میں شاعری مسعود خان ارحم اور مضمون ارسطو اسکندر اعظم کا تھا۔ارسطو نے پروفیسر واصف لطیف کی کتاب پر ایک مضمون لکھا۔پروفیسر واصف لطیف جی سی یونیورسٹی میں پنجابی زبان کے استاد ہیں۔ارسطو کے مضمون کو طالب علمانہ کوشش قرار دیتے ہوئے۔اس کو کئی تجاویز دی گئیں۔جس پر عمل پیرا ہو کروہ اس مضمون کو درست کر سکے گا اور آئندہ اس سے بہتر مضمون لکھ سکے گا۔مسعود خان ارحم پختہ شاعر ہیں لیکن اس قدر مشکل زبان لکھی ہے۔مضامین میں بھی دور کی بات کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سرفراز صفی نے کیا۔زاہد ہما شاہ نے کہا اکثر مصرعے دو لخت محسوس ہو رہے ہیں۔حافظ محمد جنید رضا نے کہا اتنی پرانی اور گہری پنجابی پڑھ کر ہی لطف آگیا۔مجموعی طور پر جنابِ صدر نے غزل کو پسند کیا۔کہا تنقید میں پڑھنے کے لئے شاید انتخاب درست نہیں ہو سکا۔ ماہِ جو لائی کی آخری اجلاس میں ماہانہ مشاعرہ ہوا، جس کی صدارت عدل منہاس لاہوری نے کی۔بارش کے باعث چند شعرا تشریف لا سکے ۔ ان میں سب سے پہلے سیکرٹری سرفراز صفی اور جائنٹ سیکرٹری حافظ محمد جنید رضا نے اپنے اشعار سنائے بعد ازاں عمر فاروق، احمد شہزاد، زاہد ہما شاہ اور جنابِ صدر نے اپنے کلام سے نوازا۔

ینگ لٹریری سرکل کے تحت محفل مشاعرہ

ینگ لٹریری سرکل کے تحت محفل مشاعرہ کا نعقاد کیا گیا۔ یہ مشاعرہ تیرہ جولائی بہ روز جمعرات شام سات بجے پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سعادت نے کی۔ اس میں غلام حسین ساجد ڈاکٹر امجد طفیل اور زاہد حسن مہمانان خصوصی تھے۔سینئر شعرا میں صادق جمیل، طارق اسد، جاوید قاسم ، عدنان محسن، زوہیر لطیف اور ضمیر حیدرتھے جبکہ ابھرتے ہوئے شعرا میں عدنان فاروق، مشتاق احمد، زوہیب عالم اوررانا کفیل تھے۔نظامت کے فرائض حافظ محمد جنید رضا نے ادا کئے۔اس مشاعرے میں سب شعرا نے اپنی ایک ایک منتخب غزل سنائی۔دو گھنٹے کے اندر اندر تمام شعرا نے اپنا کلام سنا یا۔آخر پر غلام حسین ساجد صاحب نے بھی ایک ہی غزل سنائی۔ جس پر انھیں مزید کلام سنانے کی فرمائش کی گئی۔جس پر انھوں نے اپنے مزید شعر عطا کئے۔جناب صدر نے اپنی ایک غزل سنائی ۔ اس کے بعد حاضرین کی فرمائشوں پر غزلیں سناتے رہے۔ حاضرین کی اکثریت ان کے طلبا پر مشتمل تھی۔اس لئے وہ اپنے شعروں کا پہلا مصرعہ پڑھتے تو دوسرا حاضرین خود سنا دیتے۔جناب صدر کا کلام سن کر محفل برخاست کی۔ ینگ لٹریری سرکل کے زیر اہتمام ملک کے نامور شاعر، نقاد اور مترجم پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔یہ محفل ستائیس جولائی بہ روز جمعرات شام سات بجے پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ جس میں شہر لاہور کے سینئر ادبا نے اظہار خیال خیال کیا۔ ان میں ڈاکٹر ضیاء الحسن، ڈاکٹر غلام حسین ساجد، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر غافر شہزاد، عابد حسین عابد، شفیق احمد خاں اور عقیل اختر شامل ہیں۔اس تقریب کی نظامت حافظ محمد جنید رضا نے کی۔شرکا میں زاہد مسعود، سلیم سہیل، آفتاب جاوید، حسین شمس، اظہر حسین، نوازش ملک، مشتاق احمد، آغر ندیم سحر،محمد وقاص، ضمیر حیدر ضمیر، عثمان اسلم نایاب اور عدیل مرتضٰی شامل تھے۔مجموعی طور پر بات کرتے ہوئے مقررین نے سعادت سعید صاحب کی نظموں کو نئے اسلوب کی حامل قرار دیا۔ان میں موضوعاتی تنوع کی نشان دہی کی۔محفل کے اختتام پر صاحب شام نے اپنی نظمیں سنائیں۔حاضرین نے اس پر کھل کر داد دی۔ جس کے بعدحافظ محمدجنیدرضا نے ینگ لٹریری سرکل کی جانب سے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

شرف سرگودھوی ٹرسٹ

کے تحت پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔ جس کی صدارت سرفراز سید نے کی۔اس میں مجھے اظہا ر خیال کا موقع دیا گیا۔انھیں بتایا سعادت سعید صاحب مجھے دو سال پڑھاتے رہے ہیں۔انھوں نے پہلی نظم کی اصلاح کی اور اسے جی سی یونیورسٹی کے موئقر جریدے ’’راوی‘‘۲۰۱۲ء ؁ میں لگایا۔بعد ازاں ان کی نظمیں فیس بک پر پڑھنا شروع کیں۔ان کی نئی آنے والی کتاب ’’من ہرن‘‘ پر ایک مضمون لکھا۔وہ عالمی حالات سے بہ خوبی واقف ہیں۔ان کو شاعرانہ انداز میں اپنی نظموں کا موضوع بناتے ہیں۔جدید نظم کے تین بڑے نام ہیں ،راشد، میراجی اور مجید امجد۔ان کے اثرات جدید نظم پر سب سے زیادہ ہیں۔ان سے استفادہ کرنا غلط نہیں۔سوال یہ ہے، آپ نے کیا اضافہ کیا۔اس نظم میں سعادت سعید صاحب ایسے الفاظ لائے ہیں۔جنھیں برتنا ان جیسے مشاق شاعر کا ہی کام ہے۔اس کے بعد کنول فیروز نے پرانی یادیں تازہ کیں۔ نجیب احمد نے کہا، حلقہ ارباب ذوق میں سعادت سعید صاحب مثبت تنقید کرتے تھے۔ان کے پیش نظر مصنف کی اصلاح ہوتی تھی۔آخر پر سرفراز سید نے کہا، سعادت سعید نے جتنی اچھی نظم کہی ہے اتنی ہی اچھی غزل کہی ہے۔جس کے بعد محفل مشاعرہ ہوا۔اختتام پر ندا سرگودھوی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

اردو سائنس بورڈ کے لیکچر

اردو سائنس بورڈ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سے ملاقات ہوئی۔جس میں انھوں نے بتایا، انھیں جہاں علمی معاملات میں محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کے ساتھ انھیں اس عمارت پر محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ہر ماہ ایک علمی نوعیت کا لیکچر ہوتا ہے۔ جس میں طلبا کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔پہلی بار داخلی دروازے پر ایک کمرہ بنایا جا رہا ہے۔ جس میں سیکورٹی گارڈ گرمی سردی سے محفوظ رہے گا۔اس کے بعد ایک سٹڈی روم بنایا جا رہا ہے۔ جہاں بیٹھنے کے لئے آرام دہ صو فے ہوں گے۔ ان پر سکون سے پڑھائی کی جا سکے گی۔اب تک اردو سائنس بورڈ دو رسالے منظر عام پر لے آیا ہے۔تیسرا جلد آنے والا ہے۔متعدد مقامات پر رعائتی کتب کے کتاب میلے کا اہتمام کر چکا ہے۔یہاں بورڈ کی اپنی کتابیں پچاس فی صد رعائیت پر ملتی ہیں۔ایک موبائل بک شاپ کاہتمام کیا جا رہا ہے۔یہ اپنی نوعیت کی واحد موبائل بک شاپ ہے۔یہ آس پاس کے علاقوں میں جائے گی اور عوام کو کم قیمت پر کتابیں فراہم کرے گی۔یاد رہے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔اب ان کا تقرر ڈائرکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ ہو گیا ہے۔یہاں پر اکثر وہ اوینٹل کالج کا تذکرہ کرتے ہیں۔ان کا رادہ ہے، وہ یہاں اپنا مقررہ وقت پورا کرنے کے بعد دوبارہ اپنے ادارے میں جائیں گے اور طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے۔ان کے تقرر پر اخبارات کے کالموں میں اس عمل کا خیر مقدم کیا گیا اور فیس بک پر انھیں مبارک بادوں سے نوازا گیا۔کالموں میں جس بہتری کی ان سے امید کی گئی تھی۔اس کا ثبوت انھوں نے بہت کم عرصے میں دے دیا۔امید کی جا سکتی ہے، اب سے تین سال بعد اردو سائنس بورڈ حیرت انگیز طور پر بدل گیا ہو گا۔یقیناََ یہ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی قابلیت اور اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۲۷ جولائی بہ روز جمعرات اردو سائنس بور ڈ میں ڈاکٹر ناصر عباس نئیر ( ڈائرکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ ) کی صدارت میں ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔جس میں محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر چوہدری محمد اسلم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی روئیوں پر اثرات کے موضوع پو لیکچر دیا۔ جس میں اساتذہ، طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس تقریب کی نظامت حافظ محمد جنید رضا نے کی۔لیکچر کے بعد حاضرین نے مہمان مقرر سے سوالات کئے۔شرکا نے اس لیکچر کو معلومات سے بھرپور قرار دیا۔شرکا میں ڈاکٹر ضیا ء الحسن، ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی،شاہ زیب خان، محمد نصراللہ، سرفراز احمد، مشتاق احمد، محمد جاوید، قمر علوی، سدرہ صابر، محمد زبیر اور عبداللہ شامل تھے۔لیکچر کے بعد مہمانوں کو اردو سائنس بورڈ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نئے تعمیر شدہ بک سٹور پر لے گئے۔جہاں حاضرین کو خصوصی قہوہ پلایا گیا۔اس کے ساتھ نئی بک شاپ پر قارئین کے لئے کتب پڑھنے کا بہترین انتظام کیا گیا۔وہاں بیٹھ کر طلبا و طالبات کے ساتھ نہایت خوش گوار موڈ میں گفتگو ہوئی۔

محمد سلیم الرحمٰن صاحب کی ایک تحریر

محمد سلیم الرحمٰن صاحب کی حال ہی میں ایک تحریر آن لائن اخبار میں چھپی ہے۔جس میں کراچی سے چھپنے والے ایک رسالے پر اظہا خیال کیا گیا۔ اس میں بلاگز دئیے تھے۔ان بلاگز پر بہت اچھا تبصرہ کیا گیا۔ایک دو بلاگزکو تو ناول اور ڈرامے کے لئے بہترین قرار دیا۔ان سے پیر کے روز ملاقات ہوتی ہے۔وہ Readings ریڈنگز نامی ایک کتب خانے پر تشریف لاتے ہیں۔یہ اپنی طرز کا واحد کتب خانہ ہے۔جہاں پڑھنے والوں کو بے حد سہولت دی گئی ہے۔اس میں بیٹھ کر آپ یہاں کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔اس سے ملحقہ چائے خانے میں جا کر کچھ دیر چائے پئیں اور تازہ دم ہو کر پھر پڑھنے لگ جائیں۔اس ماہ کے پہلے پیر ان سے ملاقات ہوئی۔ اس میں ان کے مزاح سے بھرپور پر لطف جملے سننے کو ملتے رہے۔اس دن ان سے ملنے محمد عباس ، محمد عاصم بٹ، ڈاکٹر امجد طفیل، زاہد حسن ، ڈاکٹر رفاقت علی شاہد ،سلیم سہیل، محمد فرقان، محمد عمیر اور محمد شفیق تھے۔اس کے بعد دوسرے پیر کو ان سے ملاقات ہوئی۔جس میں انھیں بتایا۔ آج کل پی ایچ ڈی کی تیاری کر رہا ہوں۔انشاء اللہ جلد ایم فل مکمل ہو گا۔اس کے بعد پی ایچ ڈی کے امتحان کی تیاری کروں گا۔اس دن کچھ دیر گپ شپ ہوئی۔تیسرے پیر کو محمد شفیق صاحب بتانے لگے۔وہ سر گزشت پڑھ رہے ہیں۔یہ زیڈ اے بخاری کی ہے۔انھیں کمال کی حقیقت نگاری لگ رہی ہے۔زندگی کی بے تکلف تصویر کشی انھیں بڑی پسند آئی۔بات سرمد صہبائی کی ہوئی۔تو عمیر صاحب سے کہا، ماہ میر ضرور دیکھیں۔اس میں ایمان علی نے ایک گانے پر کلاسیکی رقص کیا ہے۔اس میں اس نے بھارتی شاہکار فلم دیوداس یاد کروا دی۔جس پر وہ کہنے لگے،آپ بھارت کی نمبر ون ڈانسر مادھوری کا مقابلہ پاکستانی اداکارہ سے کر رہے ہیں۔جس پر انھیں کہا، سرمد صہبائی نے اس گانے کی بہت تیاری کی ہے۔ مجھے لگتا ہے وہ ایک شاہکار بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔سرمد صہبائی کی قابلیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ایمان علی نے جس طرح اپنا معیار قائم کیا ہے۔اس سے کسے مفر ہے۔بہ ہر حال مجھے یقین ہے، یہ فلم ادبی ذوق رکھنے والوں کو خوب بھائے گی۔اتنے میں ایک صاحب دوسرے سے کہنے لگے، مجھے چھوڑ آئیں۔ جس پر محمد سلیم الرحمٰن نے لطیفہ سنایا،کہنے لگے ۔ ایک مرتبہ جوش صاحب سے کسی نے کہا۔ آئیں آپ کو چھوڑ آؤں۔ جس پر انھوں نے جواب دیا ، مجھے گھر دروازے پر اتارنا، آگے چلا جاؤں گا۔ چھوڑے تو کتے جاتے ہیں۔اس بر محل لطیفے نے ایسا لطف دیا۔جس پر کافی دیر سب کے چہروں پر مسکراہٹ رہی۔ اسے سنایا کچھ اتنے لطیف انداز سے جس نے اس کا لطف دوبالا کردیا۔ماہِ جولائی کے آخری پیر کو شام چھ بجے ہی محمد سلیم الرحمٰن صاحب کو ملنے گیا۔ ان کے آنے سے پہلے محمد عمیر صاحب آگئے اور بر صغیر کی موسیقی پر بات کرنے لگے۔ان کے ساتھ ان کے دوست تھے جو کئی راگ جانتے تھے۔کافی دیر وہ ان راگوں کو سننے کے بعد حاصل ہونے واکی کیفیات پر بات کرتے رہے۔کچھ دیر بیٹھ کر ماہِ اگست میں ہونے والے امتحانات کی تیاری کی۔اس کے بعد محمد سلیم الرحمٰن صاحب تشریف لائے۔ان کے آتے ہی اکرام اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس کے بعد ڈاکٹر رفاقت علی شاہد، زاہد حسن، سلیم سہیل، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل ، ڈاکٹر فرقان اور آدم شیر آئے۔سب سے پہلے تو ڈاکٹر رفاقت علی شاہد گفتگو ہوئی۔ان سے دو تین الفاظ کے معنی پوچھے جو انھیں نہیں آئے۔ان میں سے ایک لفظ حقہ تھا۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ڈاکٹر رفاقت علی شاہد عالم نہیں ہیں۔ وہ عالم ہیں لیکن اس وقت وہ محمد سلیم الرحمٰن صاحب کے سامنے بیٹھے ہیں۔اس وقت سب لوگوں میں سے کوئی بھی بولتا تو گویا اس کی مثال سورج کو چراغ دکھانے کی تھی ۔کیا پر لطف منظر تھا، ڈاکٹر رفاقت علی شاہد ایک شاگرد کی طرح بیٹھے تھے اور محمد سلیم الرحمٰن صاحب ایک استاد کی طرح تھے۔وہ مسکراتے ہوئے سوال کرتے، انھیں معلوم تھا، اس کا جواب مشکل ہے۔ جواب نہ آنے پر حاضرین ایسے ہی خوش ہوتے، جیسے کمرہ جماعت میں بیٹھے طلبا اس وقت خوش ہوتے ہیں۔ جب استاد ان کے دوستوں سے سوال پوچھے اور جواب نہ آنے پر انھیں نصیحت کرے۔اس سب دوست خوش ہوں کہ ان کے حصے کی نصیحتیں بھی انھیں دی جا رہی ہیں۔کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر گئے۔جس کے بعد ڈاکٹر نبیل احمد نبیل ایک دو کتابیں لایا اور ان پر دستخط کروائے۔ اتنے میں عقیل اختر صاحب آئے۔ ان کو سب سے چھوٹے بیٹے نے محمد سلیم الرحمٰن صاحب سے ایک کتاب پر دستخط لئے۔سلیم سہیل کا کہنا تھا، حسین مجروح صاحب نوجوانوں پر نالاں ہیں، وہ سینئرز کی عزت نہیں کرتے۔ان کی بات کو جواب تا یہی بنتا ہے کہ دراصل باقاعدگی سے آنے والے تو درست ہیں لیکن جو نوجوان کبھی کبھی آتے ہیں، وہ اپنا حلقے پر زیادہ حق سمجھتے ہیں اور حلقے میں آکر ادیبوں پر احسان کرتے ہیں۔ محمد سلیم الرحمٰن صاحب کو بتایا، انھیں خواجہ محمد زکریا صاحب اورسعادت سعید صاحب اکثر اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ جس پر انھوں نے بہت متانت بھری مسکراہٹ سے نوازا۔آخر پر سب دوستوں کو چائے پیش کی۔انھیں اورینٹل کالج سے شائع ہونے والے ادبی مجلے ’’سخن‘‘ کی ایک کاپی عنائیت کی۔ جسے انھوں نے بلا جھجھک قبول کیا۔اٹھنے سے پہلے شفیق صاحب سے دریافت کیا۔ ان کے ایک دوست کو افسانہ لکھنا کا کہا تھا۔ وہ اس نے لکھا یا نہیں۔جس پر انھوں نے بتایا، وہ جلد ہی انھیں دے دے گا۔اصل میں’’سویرا‘‘ کے نام سے نکلنے والے رسالے کی ادارت ایک طویل عرصے سے ان کے پاس ہے۔بہ قول ڈاکٹر ضیا ء الحسن وہ لمز یونیورسٹی کے رسالے ’’بنیاد‘‘ اور محمد سلیم الرحمٰن کے رسالے’’ سویرا‘‘ کو آج کل سب سے زیادہ معیاری سمجھتے ہیں۔محمد سلیم الرحمٰن جہاں ایک بہترین مترجم، شاعر ، افسانہ نگار اور مضمون نگار ہیں۔ وہاں وہ بہترین مدیر ہیں۔ایک وقت تھا، شاہد احمد دہلوی ’’ساقی‘‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے۔ ان کے بعد احمد ندیم قاسمی ’’فنون‘‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے۔آج کل محمد سلیم الرحمٰن ’’سویرا‘‘ کے نام سے ایک رسالہ نکال رہے ہیں۔یہ ادبی رسائل کو شائع کرنے کا اہتمام کرنا یقیناًحقیقی ادبی خدمت ہے۔زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے ادبی رسائل کی اشاعت ناگزیر ہے۔ماہِ جولائی ادبی لحاظ سے بہت مصروف ماہ تھا۔ یہ اس ماہ کی سرگرمیوں کا پہلا حصہ تھا۔ دوسرا حصہ کچھ دنوں میں آجائے گا۔ اس میں ماہِ جولائی میں پڑھی جانے والی کتب پر مختصر تبصرہ شامل ہوگا ۔

Comments

comments