پنجاب کی جامعات کے وائس چانسلرز کیسے ہونے چاہیں؟

پنجاب کی جامعات کے وائس چانسلرز کیسے ہونے چاہیں؟
جولائی 30 09:18 2017 Print This Article

ڈاکٹر محبوب حسین 

قوموں کی ترقی میں جونقطہ بنیادی محرک کا کردار ادا کرتا ہے وہ ہے علم، جس کی ترسیل کا آغاز ماں کی گود سے ہی شروع ہو جاتا ہے، مگر علم کی رسمی تخلیق کا سب سے بڑا ادارہ یونیورسٹی ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے میں صرف دو یونیورسٹیاں قائم تھیں ،ایک مشرقی بنگال(ڈھاکہ) میں اور دوسری مغربی پنجاب (لاہور) میں۔آج ستر برس گزرنے کے بعد ملک میں تعلیمی مسائل اور جامعات کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے جہاں ایک سو نو(۱۰۹) سرکاری اورپچھتر(۷۵) پرائیویٹ یونیورسٹیاں قائم ہیں، ان سرکاری جامعات کی بڑی تعداد پنجاب سے تعلق رکھتی ہے جہاں چونتیس (۳۴) چھوٹی بڑی سرکاری جامعات ہیں، جن میں سے نصف یونیورسٹیز کا بغیر مستقل وائس چانسلرز کے چلنا حکومت کی گڈ گورنس پر ایک بڑاسوال ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے چھ کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے ہے جن میں سے ایک ملک کی سب سے قدیم اور عظیم درسگاہ جامعہ پنجاب بھی ہے جس کے اڑتیس ہزار طلباء و طالبات، گیارہ سو اساتذہ اور تقریباً چھ ہزار ملازمین گزشتہ ڈیڑھ سال سے مستقل وائس چانسلر کے منتظر ہیں۔
پنجاب کی جامعات میں رئیس الجامعہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ اس کی قابلیت کتنی ہونی چاہیے؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے۱۵ جون کوحکومت پنجاب نے اپنے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے تین ممبرز سیاست دان اور چار بیوروکریٹ ہیں، اس ساخت کے تحت بننے والی کمیٹی نے وائس چانسلرزکی تقرری کا جو معیار طے کرنا ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے مختلف اجلاس منعقد کییجن کی جو روداد اخبارات میں شائع ہوئی ہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیٹی اس دفعہ اچھوتے وائس چانسلرز لانے کا ارادہ رکھتی ہے جو پی ایچ ڈی کے بغیر ہوں اور انکی تقرری میں تحقیقی مقالہ جات کی شرط اور تجربہ کی مقررہ مدت کی بھی ضرورت نہ ہو، ان کا آئیڈیل کسی انتظامی عہدہ پر کام کرنے والا ہے جس کے اسے اضافی نمبردیئے جائیں گے اور اسی طرح کی کچھ اور شرائط ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نان ٹیچرز وائس چانسلر کے لئے راہ ہموار کی جا رہی ہے، جس کی بنیاد شائد اس مفروضہ پر ہے کہ ٹیچرز اچھے منتظم نہیں ہوتے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اچھے منتظمین میں اساتذہ سرفہرست ہیں،درحقیقت اساتذہ سے بہتر کوئی جامعات کے امور نہیں چلا سکتا۔

اگر پنجاب یونیورسٹی کو بطور مثال لیا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس کے تیئس (۲۳) وائس چانسلرز آئے جن میں تین ججز جو کہ ابتدائی دنوں میں تعینات ہوئے، دو جرنیل جبکہ باقی سب ٹیچرز تھے۔ یہ سوچ کہ اساتذہ جامعات نہیں چلا سکتے مارشل لاء دور کی اختراع ہے جب ایسی سوچ کو قابو کرنے کے لیے کسی سخت گیر کی ضرورت تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ جہاں جہاں تدریس سے وابسطہ افراد وائس چانسلر تعینات کئے گئے ہیں وہاں وہ بہت اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ کسی کی انفرادی کارکردگی کو تدریس سے وابسطہ افراد کی اجتماعی کارکردگی سے منسوب کرنا مناسب نہیں ،یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی کرپٹ سیاستدان کی وجہ سے تمام سیاستدانوں کو کرپٹ کہنا ۔ نان ٹیچر وائس چانسلر زکی تعیناتی کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ دنیا کی بعض بڑی یونیورسٹیز کے سربراہ سیاست دان ہیں، ان کے لیے جوابی دلیل یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان، وزراء اور اہم پوسٹوں پر تعینات افراد ٹیچرز بھی تو ہیں۔
پرائیویٹ یونیورسٹیاں جو تعلیم کو کاروبار سمجھتی ہیں ان کی ایسی کمیٹیزمیں نمائندگی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ان کے اپنے مفادات ہیں اوروہ کسی صورت بھی اپنے مقابلے میں پبلک سیکٹر کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہیں گی۔
مثال کے طور پر امریکہ کے سابق صدر اوباما ہاورڈ یونیورسٹی سے لاء کرنے کے بعد بارہ سال تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے، اسی طرح کینڈا کی واحد خاتون وزیراعظم کیمبل تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں۔ چلی کے سابق صدر لاگوس یونیورسٹی پروفیسر تھے، لبیا کے سابق وزیراعظم عبدالرحیم الکیب انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی تھے۔اور ایسی مثالیں تو بے شمار ہیں کہ یونیورسٹی اساتذہ کو وازرت خارجہ،وزارت داخلہ سمیت اہم قلمدان سونپے گئے ہوں، جبکہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ بیوروکریسی کچھ عرصے سے اس تاک میں ہے کہ تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین، کنٹرولر امتحانات، اور یونیورسٹیوں کی وائس چانسلر شپ پر قبضہ کیا جائے جس کے لئے وقفے وقفے سے یہ سُر الاپا جاتا ہے کہ ماسٹروں سے یہ ادارے سنبھالے نہیں جاتے حالانکہ یہ صرف ان کی ذہنی اختراع ہے۔
اب اگر حکومت تعلیم کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرلے تو وائس چانسلر کی تعیناتی میں اس شعبہ سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں لے بلکہ سٹیک ہولڈرزکو معیار طے کرنیوالی کمیٹی میں نمائندگی دی جائے اور رئیس الجامعہ ایسے شخص کو تعینات کیا جائے جوکم از کم پی ایچ ڈی ہو اور کسی یونیورسٹی میں پروفیسر تعینات ہو یا پروفیسر رہ چکا ہو، تدریسی تجربہ اور تحقیقی مقالہ جات کی شرط کو ختم کرنا کسی طور مناسب نہیں، ایک شخص جو تعلیم و تحقیق سے وابسطہ ہی نہیں وہ تعلیم و تحقیق کی ترویج کیسے کر سکتا ہے۔ ویسے بھی لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے میں طے کر دیا گیا ہے کی وائس چانسلرز کی تقرری صوبوں کا اختیار ہے مگر وہ کوئی ضابطہ بنانے کے لیے ایچ ای سی کے طے شدہ معیار سے اوپر تو جا سکتے ہیں مگر اس سے کم نہیں، اس مقصد کے لیے سرچ کمیٹی کے ممبران کو بین الاقوامی ساکھ اور تعلیمی میدان میں خدمات کے اعتراف میں چنا جائے۔
پرائیویٹ یونیورسٹیاں جو تعلیم کو کاروبار سمجھتی ہیں میں سے نمائندگی نہ لی جائے کیونکہ ان کے اپنے مفادات ہیں اوروہ کسی صورت بھی اپنے مقابلے میں پبلک سیکٹر کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ حکومت اس ہیجانی کیفیت کو جلد از جلد ختم کرکے مستقل وائس چانسلرز تعینات کرے تاکہ علم کی ترویج کے ان مراکز میں غیر یقینی کی فضا کا خاتمہ ہو سکے اور علم کی تخلیق کا عمل پر سکون ماحول میں جاری رہ سکے۔

ڈاکٹر محبوب حسین پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ہیں اور فپواسا کے مرکزی جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریسmahboob.history@pu.edu.pkپررابطہ کیاجاسکتاہے۔

 

Comments

comments