امریکہ مخالف تحقیق ڈاکٹر مجاہد کامران کی تعیناتی میں حائل !

امریکہ مخالف تحقیق ڈاکٹر مجاہد کامران کی تعیناتی میں حائل !
جولائی 20 15:06 2017 Print This Article

علی ارشد

وزیراعلی نے پنجاب یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کی سمری مسترد کردی

للاہور(علی ارشد سے) وزیراعلی نے پنجاب یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کی سمری مسترد کرتے ہوئے وی سی کی آسامی کے لئے نیا اشتہار دینے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ یو۔ای۔ٹی ملتان میں ایک اُمیدوار کے بارے خدشات پر تفصیلات طلب کی ہیں۔ دی ایجوکیشنسٹ ذرائع کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب  ڈاکٹر مجاہد کامران کو وائس چانسلر لگانے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم سرچ کمیٹی کے سربراہ بابر علی، لمز کے ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی اور سیکریٹر ی قانون کی طرف سے ڈاکٹر مجاہد کامران کی مخالفت پر وزیراعلی شہباز شریف نے گزشتہ دو ماہ سے پڑ ی سمری مسترد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران کی مخالفت کی اصل وجہ ان کی امریکہ مخالف تحقیق ، کُتب اور آرٹیکل ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد نے کل چھ کُتب اور سیکڑوں آرٹیکل امریکہ کے خلاف لکھے ہیں اور یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ امریکہ کی سرزمین پر کبھی قدم نہیں رکھیں گے جس کی وجہ امریکہ کی عالمی جارحیت کی پالیسی کا ٹر یک ریکارڈ ہے جو ان کی تحقیق کا مرکز و محور ہے۔ ان کی امریکہ مخالف کُتب میں:
The International Bankers, World War I, II and Beyond,
The Grand Deception
پسِ پردہ
Behind the Curtain – Secrets of Global Politics
9/11 and the New World Order
سانحہ ستمبر اور نیا عالمی نظام
شامل ہیں

اس وقت پنجاب کی کل سترہ جنرل کیڈر سرکاری یونیورسٹیوں میں سے چودہ جامعات قائم مقام وائس چانسلر ز کے ساتھ چل رہی ہیں۔ پندرہ جون کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ذمہ وائس چانسلرز کی تعیناتی کے حوالے سے قابلیت، تجربہ، اہلیت اور دیگر ضروری قوائد کو پرکھنا جیسی ڈیوٹی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب پانامہ جے۔آئی۔ٹی رپورٹ اور دیگر مسائل کے باعث صوبے کی ہائر ایجوکیشن کے سب سے بڑے مسلے کو حل کرنے کے لیے وقت نہیں دے رہے جس سے جامعات میں بیشتر اہم نوعیت کے انتظامی معاملات الجھاو کا شکار ہیں اور اساتذہ و طلباء کی سیاست بھی آئے روز پروان چڑھ رہی ہے۔

صوبے کی سب سے بڑی اور لاہور شہر کے وسط میں واقع پنجاب یونیورسٹی بھی جنوری 2016 سے تاحال مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کی منتظر ہے جس کے لیے وزیر اعلی پنجاب نے سرچ کمیٹی کی جانب سے شارٹ لسٹ کیے گئے حتمی امیدوران ڈاکٹر مجاہد کامران ، ڈاکٹر ظفر معین ناصر اور ڈاکٹر زکریا ذاکر کے انٹرویو بھی کر چکے ہیں۔ اس موقع پر یو ای ٹی ملتان کے اُمیدوار ڈاکٹر شاہد منیر، ڈاکٹر عامر اعجاز اور ڈاکٹر محمد زبیر بھی انٹرویو کے لئے موجود تھے۔ وزیرِ اعلٰی نے دو جامعات کے کل چھ اُمیدواروں کے انٹر ویو کے لئے اپنی گوناں گوں مصروفیات میں سے صرف ۱۰ منٹ کا وقت نکالا جس پر صوبے کے اعلٰی تعلیمی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ کہاں علم دوستی اورتعلیمی ترجیحات کے دعوے اور کہاں ۱۰ منٹ کا ’ کثیر وقت‘ ۔

صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم سید رضاعلی گیلانی کا موقف

جامعات میں جاری مستقل سربراہان کی تقرریوں کے سنگین بحران کے حوالے سے نمائندہ دی ایجوکیشنسٹ سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم سید رضاعلی گیلانی نے کہا کہ ۱۰ رکنی کمیٹی نے اپنا کا م مکمل کر لیا ہے چند تجاویز پر کام جاری ہے جو کہ جلد مکمل لیا جائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی اور یو۔ای۔ٹی ملتان میں وائس چانسلرز کے لیے حکومت نے دوبارہ اشتہار جاری کر نے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم نے کہا کہ دنیا بھر میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد یونیورسٹیز میں درس و تدریس اور انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہیں یہ ضروری نہیں کہ ایک اچھا پی۔ایچ۔ڈی پروفیسر بہترین ایڈمنسٹریٹر بھی ثابت ہو اس اہم عہدے کے لیے تمام پہلووں کو دیکھتے ہوئے تعیناتیاں کی جائیں گی۔مستقبل میں انجئینرنگ، میڈیکل اور جنر ل یونیورسٹیوں کے لیے الگ الگ سرچ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

Comments

comments