مُلکی امن میں تعلیمی اداروں کا کردار

مُلکی امن میں تعلیمی اداروں کا کردار
جولائی 07 08:15 2017 Print This Article

پروفیسر ڈاکٹر ضیاءا لقیوم
وائس چانسلر
یونیورسٹی آف گجرات

پپاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو راہنما حیثیت حاصل ہے اور ملکی امن کو قائم کرنے میں یہ تمام ادارے اپنی مخلصانہ کاوشوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک عظیم قومی خدمت سر انجام دے سکتے ہیں۔ طلبہ کی بہترین تعلیمی راہنمائی کے ساتھ ان کی کردار سازی بھی اعلیٰ تعلیم کے اہداف کا ماحصل ہے۔ انسانی ذہن کو اگر اوائل عمری میں تعلیم و تہذیب کی اعلیٰ روایات کے احیاء و تشکیل کی جانب مائل کر دیا جائے تو میرے خیال میں معاشرتی و سماجی امن و استحکام کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔ جس طرح فطرت خود لالہ کے پھول کی حنا بندی کرتے ہوئے اسے چشم انسانی کے لیے خوبصورت بنانے کا سامان کرتی ہے اسی طرح جامعات کی بھی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ نونہالان قوم کو امن و آشتی کے اعلیٰ آدرشوں سے روشناس کرواتے ہوئے قومی سطح پر امن و امان کے قیام کی ذمہ داری کا فریضہ سنبھالیں اور اپنے فارغ التحصیل اور زیر تعلیم طلبہ میں امن و برداشت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اپنا بہترین کردار نبھائیں۔
انسانی طبائع میں جو تضاد ومنافرت بوجہ شخصی پائی جاتی ہے، تعلیمی تربیت کا مقصد اس تضاد و منافرت کو دور کرتے ہوئے انسانی ذہن کو اصل حقائق سے روشناس کرواتے ہوئے ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہوتا ہے جہاں مختلف الطبع لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر رہنے کا سلیقہ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ڈھنگ سیکھ سکیں۔ کتاب زندہ میں علم کو نور کہہ کر پکار گیا ہے اور نور کو مختلف تہذیبی دائروں میں امن و سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی جامعات کو ابھی تک اس سطح پر لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جہاں وہ پورے معاشرہ کے لیے راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔ نفسیات دانوں کے مطابق اوائل عمری میں انسانی ذہن کو جس دھارے کیساتھ منسلک کر دیا جائے اس کے اثرات عمر بھر انسانی دماغ و ذہن پر حاوی رہتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنی تعلیم و تربیت کے نظام میں کوئی ایسی کوتاہی چھوڑے چلے جا رہے ہیں جس کی بنا پر ہمارے ملک عزیز سے دہشت گردی اور فتنہ و فساد کا آسیب دور ہونے میں نہیں آ رہا۔
دورحاضر میں تعلیم و تدریس کے زاویۂ نظر میں اگرچہ جدت آ چکی ہے مگر انسانی ذہن کی ایک متوازن تشکیل جو کہ روز اوّل سے ہی تعلیم و تربیت کا خاصہ رہی ہے، جامعات کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ طلبہ کی نسل نو کو جدید علوم سے آراستہ کرتے ہوئے جب تک جامعات انکی ذہنی و کرداری پر ورش میں خاطر خواہ حصہ نہیں لیتیں، ایک بہترین قوم کی تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا ناممکن ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دورحاضر میں ملکی جامعات کی ذمہ داریاں پہلے سے کافی بڑھ چکی ہیں۔ ہمیں نہ صرف ملک و قوم کی ترقی کے لیے جدید سائنسی علوم پر مبنی ایک متوازن نظا م تعلیم کی تشکیل میں حصہ لینا ہے بلکہ قومی کردار کو نبھاہتے ہوئے طلبہ کی کردار سازی اور شخصیت سازی کا فریضہ بھی بدرجۂ اتم نبھاہنا ہے۔ ایک حالیہ جائزہ کے مطابق پاکستان بھر میں اس وقت تقریباً 183یونیورسٹیاں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے 2ملین کے قریب طلبا و طالبات کو علم و آگہی کے شعور سے مزین کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ تعلیم و تربیت اصلاً اصلاح معاشرہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے معاشرہ میں اجتماعی امن و برداشت کا سلیقہ پید اکرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی کردارسازی کے ذریعے ہی ہم مختلف شعبہ ہائے حیات میں اعلیٰ قیادت کی تشکیل و فروغ کا فریضہ دیانتداری سے نبھاہنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ معاشرہ میں امن، برداشت، استحکام جیسے رویوں کو فروغ دینے کے لیے اگر یونیورسٹی سطح پر ہی بہتر اقدامات کا سہارا لیا جائے اور نوجوان طلبہ کے نوخیزذہنوں کو توازن و برداشت کی اعلیٰ اقدار کا سبق سکھا دیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یونیورسٹی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبا و طالبات معاشرتی و سماجی سفیروں کا کردار ادا کرتے ہوئے وطن عزیز کے مختلف طبقات کے مابین ہم آہنگی کا وسیع تر وسیلہ بن جائیں۔
وطن عزیز پاکستان کو اس وقت کئی سطحوں پر سیاسی، نسلی، سماجی ،مذہبی اور فرقہ وارانہ کشمکش کا سامناکرتے ہوئے اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گذرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں جامعات اپنی بہترین خدمات کو پیش کرتے ہوئے تحقیقی و تدریسی لحاظ سے کئی مسائل کا حل تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے بھی امن و استحکام کی ازحد ضرورت ہے کیونکہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے لیے جہاں بہت سی شرائط کی ضرورت ہوتی ہے وہاں پر ایک بنیادی شرط ملکی امن بھی ہے۔
دورحاضر کی دنیا تضاد اور کشمکش کے گہرے بھنور میں ڈوبی ہوئی ہے۔ سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اتھل پتھل کی سی کیفیت ہے۔ تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں انسانیت کا کوئی دور سنہری دور نظر نہیں آتا مگر انسان نے جب سے اس کرۂ ارض پر بسیرا کیا ہے وہ ہمیشہ سے ہی کسی سنہری دور کا منتظر ضرور رہا ہے جہاں ہر طرف امن و آشتی کا ڈیرا ہو اور تمام انسانیت ایک دوسرے کے دکھ درد میں سانجھی شریک ہو۔جنگ و جدل اور طبقاتی کشمکش روز ازل سے ہی تاریخ انسانیت کا مقدر رہی ہے۔ امن کے دشمنوں نے ہمیشہ سے ہی عوام الناس کے باہمی جذبات کو تہہ بالا کرتے ہوئے حکمرانی کے نشہ میں سرشار ہو کر معاشرتی و سماجی استحکام کو زک پہنچائی ہے۔ آج کا پاکستانی معاشرہ بھی کئی بھنوروں میں گھرا ہوا ہے اور ابھی تک ہمیں ان سے نکلنے کی کوئی پائیدار راہ دکھائی نہیں دے رہی۔ ہاں البتہ انسانی ذہن کی بہتر تربیت کے ذریعے ہم ان مشکلوں سے نکلنے کا کوئی حل تلاش کرنے میں ضرورکامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور ایسے میں علم کی پرنور راہیں اندھیرے راستوں میں روشنی پھیلا سکتی ہیں۔

جامعات کا فریضہ صرف اور صرف اعلیٰ تعلیم کی فراہمی ہی نہیں بلکہ علمی وسماجی راہنمائی کے ذریعے طلبہ کی ایسی ذہن سازی ہے جو انہیں سماجی و معاشرتی شعور سے بہرہ ورکرتے ہوئے انہیں انسانیت کی خدمت کی جانب مائل کر دے۔مختلف موضوعات پر مکالمہ ومباحثہ کا احیاء طبقاتی جنگ کو ختم کرنے اور دہشت گردی جیسے ناسورسے چھٹکارا حاصل کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ طلبہ کے نوخیز ذہنوں کو انسانیت کی بنیادی اقدار سے روشناس کرواتے ہوئے ہم ایک بہترین قومی خدمت سرانجام دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ہم آہنگی، برداشت، توازن ، طبقاتی مساوات، بہتر روزگار ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی معاشرہ کو جنت نظیر بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمارے دانشوروں اور اساتذہ کا اوّلین فریضہ یہی ہے کہ وہ اپنے زیر تربیت متلاشیان علم یعنی طلبہ کو ان اعلیٰ سماجی اقدار سے روشناس کروانے کی از حد سعی کریں جو مستقبل میں ایک متوازن معاشرہ کی تشکیل کی خشت اول ثابت ہو۔ تشدد پسندی بیمار ذہنوں کی علامت ہے۔ ایک متوازن ذہن ہمیشہ امن واستحکام کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے اور انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے مامور ہوتا ہے۔ نوجوان طلبہ کے لیے مختلف علوم کی تحصیل تعلیم و تربیت کا ایک اہم حصہ ہے مگر ان سب سے بڑھ کر ان میں انسانیت کے احترام کے شعور کو اجاگر کرنا تدریسی عمل کا لازمی جزہے۔ اساتذہ اپنے طلبا و طالبات کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ صرف اساتذہ ہی ہیں جو طلبہ کے لیے احترام انسانیت کا عملی نمونہ بن کر ان کردار وشخصیت میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
کسی بھی قوم کا ادب، انداز زندگی، طریقۂ معاشرت اور تعلیمی حالت اقوام عالم میں اس کی درجہ بندی کا سبب بنتے ہیں۔جامعات کا سماجی فریضہ ہے کہ وہ اپنے نونہالان قوم کو بہتر معیار زندگی کے لوازمات سے فیض یاب کرے۔ اس مقصد کے لیے سیمینار، کانفرنسیں، مختلف موضوعات پر مباحثات اور ورکشاپیں طلبہ کو نئے نظریات و تصورات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان کی ذہنی و علمی تربیت کا بھی باعث بنتی ہیں۔ جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے ملک عزیز کی معاصر سماجی و معاشرتی فضا کے پیش نظر اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوان طلبہ کی از سرنو ذہنی تشکیل کے لیے یونیورسٹی کورسز میں امن و استحکام اور سماجی و معاشرتی شعور بارے پروگراموں کو بھی سلیبس کا حصہ بناتے ہوئے قومی مسائل کا حل تلاش کرنے میں معاونت کریں۔ جامعات اصلاً کسی بھی سماج کے وہ اہنما ادارے ہیں جن میں ملک کی آئندہ قیادت کی تربیت کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔
جامعہ گجرات بھی اپنے ہونہار و ذہین طلبہ میں قیادت کے بہترین عزم کو اجاگر کرنے میں کوشاں ہے ۔ ایک مخلص اور امن پسند معاشرہ کی تشکیل کے لیے اعلیٰ انسانی کوششیں ہی بہترین زندگی کے سلیقہ کے جوہر کو اجاگر کرتے ہوئے کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ بحیثیت استاد میرا فریضہ ہے کہ میں اپنے طالب علموں کے ذہنوں میں معاشرتی امن اور سماجی استحکام جیسے اعلیٰ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مثالی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کروں تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگیاں سنوارنے کے قابل ہو سکیں بلکہ سماجی سفیر کی حیثیت سے اپنے ساتھی انسانوں کی زندگیوں کو بھی آسان بنانے کی کوشش کریں۔
                                                        پروفیسر ڈاکٹر ضیاءا لقیوم وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات

Comments

comments