دلکش اور مستند تحریر کے اصول

دلکش اور مستند  تحریر کے اصول
جولائی 07 07:45 2017 Print This Article

      (ڈاکٹرقسور عباس خان)

ککسی بھی شعبہ زندگی کے ارتقاء اور پیشرفت کیلئے کچھ اصول، قوائد اور آداب کی ضرورت ہوتی ہے۔  تحقیقی مطالعات پر مبنی تالیف و تصنیف ہو یا اخبار و جرائد کی زینت بننے والی روز مرّہ کی ہلکی پھلکی تحریریں، ان سب کی نگارش کیلئے بھی کچھ آداب کا خیال رکھنا بیحد ضروری ہے اور یہی چیز ایک سنجیدہ اور بالغ نظر قلمکار کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے لکھاری اپنے موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے کسی قسم کے علمی اخلاق و آداب کو ذہن میں رکھتے ہیں  یا نہیں؟ اور اگر کچھ آداب(Authorial Ethics) ملحوظ خاطر رکھتے ہیں تو وہ کیا ہیں اور عملی طور پر کس حد تک ان کی پابندی ممکن بنائی جاتی ہے؟

اس موضوع پر قلم فرسائی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ  میدان تحریر کے نووارد شہسواروں پر واضح کروں کہ وہ کوئی کتاب، تحقیقی مقالہ یااخباری کالم لکھنے سے پہلے اصول اور آدابِ تحریر کے بارے مکمل  آشنائی حاصل کریں تا کہ صحیح معنوں میں اپنےقلم  کا حق ادا کر سکیں۔

آدابِ تحریر میںحقیقت جوئیمہم ترین عنصر ہے،  لہذہ کسی بھی قلمکار اور محقق کا بنیادی ترین مقصد حقائق کی تلاش ہونا چاہیے۔ بنابریں،مصنّف یا لکھاری اپنے آپ سے عہد کرے کہ موضوع اور معاملہ کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے قلم نہیں اٹھائے گا  اور پھرحقیقت آشکار ہونے کی صورت میں پوری صداقت اور جرات کے ساتھ اپنے قلم سے اس کا اظہار کریگا۔ کیونکہ کشف حقیقت  یا حقیقت جوئی کے بعد حق گوئی ہی ایک باضمیر اور آزاد  نویسندہ کی پہچان ہے۔

یاد رہے کہ کسی موضوع کا سطحی پہلو ہر شخص دیکھ سکتا ہے مگر پس پردہ حقائق تک رسائی صرف ان بابصیرت اور نکتہ سنج افراد کے لیے ممکن ہو پاتی ہے جو  دقیق مطالعہ اور مشاہدہ کے ساتھ ساتھ تعقّل اور تدبّر کے ذریعے مسئلے کا تجزیہ کرنے کی صلاحیّت رکھتے ہوں۔  کبھی انسان ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو تلخ ہونے کے علاوہ، اس کا اظہار لکھاری کے ذاتی مفاد کے بھی منافی ہوتا ہے۔  ایسی صورت میں انفرادی مفادات کو نظرانداز کر کے اور مکمل غیرجانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے واقعیّت کو  اپنے قارئین تک پہنچانا  ہی  نویسندگی کے پیشہ سے وفاداری کہلاتا ہے۔

آدابِ تحریر کے حوالے سےغیرجانبداریدوسرا مہم عنصر ہے۔ ایک سچا اور پیشہ ور قلمکارکبھی اپنی خاندانی، قومی، مذہبی، صوبائی اور لسانی وابستگی اور تعصّب کو علمی مسائل میں دخالت نہیں  دیتا۔ بلاشبہ آج کے اخبارات، جرائد اور کتب میں پبلش ہونے والی  بیشترتحریریں مستقبل میں تاریخ نویسی  کیلئے بنیادی مواد  فراہم کریں گی ۔ لہذہ  کسی بھی قسم کی جانبداری اور تعصّب پر مبنی قلمکاری نہ فقط مقدّس علمی پیشے کو داغدار کرنا ہے بلکہ تاریخ کے ساتھ بھی خیانت کا ارتکاب ہوگا۔ بہرحال تاریخی پہلو کے حامل تحقیقی نوشتہ جات ہوں یا میدان صحافت کی  خبریں، رپورٹس اور کالم  ہر جگہ قلمکار  کا غیرجانبدار ہو کر اپنا فریضہ انجام دینا  اس کی تحریر کے موثّق اور مبنی برحقیقت ہونے کی دلیل ہے۔

موجودہ دور میں روش تحقیق(ریسرچ میتھڈولوجی)کے موضوع پر لکھی جانے والی بیشتر کتب اور مقالات میں آدابِ تحریر کی رعایت پر خصوصی تاکید  کی جاتی ہے۔ انہی آدابِ تحریر میں ایک اور بنیادی اصول کسی بھی نویسندہ  کا اپنے دائرہ تخصّص کے اندر رہتے ہوئے علمی فعالیّت انجام دینا ہے۔  وہی تحریر علمی حلقوں میں معتبر سمجھی جاتی ہے جسے قلمکار اپنے تخصّص کی حدود میں رہ کر لکھتا ہے۔ جو نہی کوئی رائیٹر اپنے حیطہ تخصّص سے باہر قدم رکھتا ہے اور غیرمتعلقہ موضوع پر قلم فرسائی کرتا ہے ، وہ نہ فقط اپنے آپ کو مشکل میں ڈالتا ہے بلکہ اپنے قارئین کو بھی  گمراہی میں جھونک دیتا ہے۔اہل مطالعہ اور فہیم قارئین کا علمی فریضہ ہے کہ نقد و تنقید(Healthy Criticism) کی فضا قائم کرکے ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں جو اپنی  علمی اور تخصصی حدود سے تجاوز کریں۔

لکھنے لکھانے کے پیشہ میں ادبی سرقہ سے پرہیزدراصل علمی امانتداری کا ثبوت ہے۔  اس کے برعکس، کسی دوسرے شخص کے خیالات و نظریات کو اصلی ماخذ کا حوالہ دیے بغیر  اپنے نام سے پیش کرنا علمی اور ادبی سرقہ(خیال ، مضمون یاعبارت کی چوری) کہلاتا ہے۔ ادبی سرقہ کا رجحان نہ فقط ہماری بعض معتبرترین دانش گاہوں میں انجام پانے والی تحقیقی سرگرمیوں (تھیسز، مقالات وغیرہ)میں تسلسل کے ساتھ فروغ پا رہا ہے بلکہ  صحافتی حلقوں میں بھی اس حوالے سے شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے نام نہاد دانشوروں کی کمی نہیں جو اپنے بعض مذموم مقاصد کے لیے دوسرے  مولّفین کی تحریروں میں دخل و تصرّف  یا تحریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

نابغہ روزگار مورّخ  مسعودی نے گیارہ سوسال قبل اپنی شاہکار  تصنیف مروج الذہب میں ایسے  ہی پست فطرت افراد کو  ادبی سرقہ سے باز رکھنے کیلئے سخت وعید سنائی تھی:”جو کوئی میری کتاب میں تحریف کرے،  اس کے کسی حصّے میں تبدیلی کرے، کسی نکتہ کو محو کرے،  مفہوم کو مشتبہ کرے، متن میں کمی بیشی کرے یا اسے کسی اور سے منسوب کرے،  ایسا شخص خواہ کسی بھی دین و مسلک سے ہو ، یوں خدا کے غضب اور انتقام کا شکار ہو کہ دنیا کیلئے نشان عبرت بن جائے”۔ مسعودی نے اپنی کتاب کے شروع اور آخر میں اسلئے یہ سخت عبارت شامل کی تا کہ  اپنی کتاب کے معنوی حقوق کو خودغرض اور جعلی دانشوروں کی جانب سے کی جانے والی ممکنہ تحریف اور دستبرد سے محفوظ رکھ سکے۔ شاید چوتھی صدی ہجری میں اہل قلم حضرات  کے مادی اور معنوی حقوق کے تحفّظ کیلئے  “جملہ حقوق بحق نویسندہ یا  ناشر محفوظ ہیں”  جیسا کوئی باقاعدہ قانون موجود  نہیں تھا  اس لیے تو مسعودی نے علمی سارقین کو خدا کے غضب اور انتقام کی وعید سنا‏‏‏ئی۔ میں سمجھتا ہوں یہ وعید ہر دور کے” ادبی چوروں” کو  ان کے گھناؤنے ہتھکنڈوں سے باز رکھنے کیلئے بہترین حربہ ہے۔

ایک اور  اصول جسے ہر  نویسندہ کو لکھنے کے عمل میں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے  وہ   باوثوق مآخذ کا انتخاب ہے۔ قلمکار اپنی تحریر کی تکمیل کیلئے جن منابع و مآخذ سے استفادہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے سب سے پہلے ان کا تنقیدی جائزہ لے۔ ان کے مثبت و منفی نکات سے آگاہی کے بعد معتبر مآخذ کو اپنی تحقیق میں مقدّم رکھے۔کتابوں کے علاوہ باوثوق افراد کی جانب سے فراہم شدہ اطلاعات پر بھروسہ کرے۔ لکھاری کا کام صرف یہ نہیں کہ مختلف مآخذ اور افراد سے مفاہیم و مطالب لیکر  من و عن نقل کردے بلکہ  اسے چاہیے کہ علمی مسائل کا صحیح تجزیہ کرے۔ کسی حادثہ یا واقعہ کے صحیح تجزیہ کیلئے فقط دوسروں کی رپورٹس پر اعتماد کرنا  کافی نہیں بلکہ لکھاری کیلئے مناسب یہ ہے کہ وہ خود مقام حادثہ کا مشاہدہ کرکے واقعہ کے حقیقی عوامل کا جائزہ پیش کرے۔

آدابِ تحریر میں شخصیّت پرستی ایک اور اہم نکتہ ہے  جس کی طرف توجہ کی جانی چاہیے۔ کبھی لکھاری کچھ نامور لوگوں سے اتنا متاثر ہو جاتا ہے کہ  ان کی کہی ہوئی سب باتوں کو عقل و درایت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر اپنی تحریر میں نقل کر دیتا ہے۔ علمی میدان میں بڑی سے بڑی شخصیت کا قول بھی حرف آخر نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی آراء اور نظریات کی از سرنو تحقیق اور تجدید نظر کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔  ایسا ہرگز نہيں ہونا چاہیے کہ متقدم دانشور طبقے کے افکار صرف ان کے تقدم کے باعث صد در صد معتبر  مان لیے جائیں اور متاخّرین کی آراء صرف ان کے تاخّر کے سبب کمزور  سمجھ کر نظرانداز کر دی جائیں۔ تمام علوم مسلسل پیشرفت اور ارتقاء کی جانب حرکت میں ہیں لہذہ  عین ممکن ہے کہ بعد میں آنے والے محققین کے ہاتھ علم کے ایسے گوہر نایاب لگے ہوں جن سے گذشتہ دانشمند طبقہ یکسر محروم رہا ہو۔

کسی بھی رائیٹر کو  اس حدتک علمی اخلاق و آداب کا پابند ہونا چاہیے کہ اگر اپنی تحریر میں خطا  کا مرتکب  ہوا ہو تو بعد میں خود متوجہ ہونے یا کسی اور کی طرف  سے توجہ دلانے کی صورت میں، اپنی غلطی کا برملا اعتراف کرسکے۔ کیونکہ غلطی پر اصرار کرنا کسی صاحب نظر قلمکار یامحقق کے شایان شان نہیں۔ بہرحال اپنے گذشتہ اشتباہات کا اعتراف اور ان کی اصلاح کیلئے اپنی آراء پر تجدید نظر ایک فراخدل مولّف کے اخلاق مدار ہونے کی دلیل ہے۔

بلاشبہ اسلوب اور معنی کا امتزاج ہی علمی و ادبی تحریروں میں حسن و لطف پیدا کرتا ہے۔ اسلوب سے مراد کسی قلمکار کا انفرادی طرز نگارش ہے جس کی بنا پر وہ دوسرے لکھاریوں سے منفرد ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ کسی لکھاری کے ہاں ایک مخصوص حد سے زیادہ مسجّع عبارات، عجیب و غریب الفاظ اور پرتکلّف اصطلاحات بھی اس کی انفرادیت کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ مسجّع عبارت ادبی اور صحافتی تحریروں کو دلکش بناتی ہے مگر تاریخی کتب و مقالات میں زیادہ پسند نہیں کی جاتی۔ بہرحال سادہ اور رواں عبارت کے علاوہ منظّم اور مرتّب جملوں کا استعمال ہر قسم کی تحریروں کا لازمہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ  وہ چند اصول ہیں جن کی روشنی میں لکھی جانے والی تحریر مستند ہونے کے ساتھ ساتھ دلکش بھی ہوگی۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ ہمارے لکھاری خاص طور پر نوجوان طبقہ کس حدتک اس قسم کے اصول و آداب کو مدّنطر رکھ کر معیاری تحریریں اپنے علم دوست قارئین کے سپرد کرتے ہیں۔

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تاریخ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد۔  qaswaralvi@gmail.com

Comments

comments