یونیورسٹی کا منشور تعلیم،تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ ڈاکٹر عظمی قریشی

یونیورسٹی کا منشور تعلیم،تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ ڈاکٹر عظمی قریشی
جولائی 03 08:30 2017 Print This Article

(علی ارشد)

تتحقیق کو فروغ دینے کے لیے ایک کروڑ روپے سے ریسرچ پرموشن فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جس میں مزید اضافے کیلئے میری انتظامیہ ہائر ایجوکیشن کمشن اور پنجاب حکومت سے مکمل رابطے میں ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے ملنے والی معمول کی سالانہ ریسرچ گرانٹ بھی اس فنڈ میں ضم کر دی جائے گی تاکہ یونیورسٹی میں مثالی ریسرچ کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ فنڈ سے ریسرچ پراجیکٹس، کانفرنس، ورکشاپس، سیمنیار، ٹریول گرانٹ،ریسرچ جرنلز کی طباعت کے اخراجات کیلئے رقوم جاری ہوں گی۔ اس کے علاوہ اعلیٰ درجے کی تحقیق پر سکالرز کو انعامات اور مراعات دی جائیں گی۔ وائس چانسلر کی سربراہی میں کمیٹی اس فنڈ کے ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لے کر گرانٹ جاری کرے گی۔وائس چانسلر نے کہا کہ ریسرچ پرموشن فنڈ کے قیام سے سکالرز کو مختلف مد میں درکار رقوم بلا تاخیر دستیاب ہونگی۔
لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی سوشل سائنسز پر انٹر نیشنل کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔ رواں سال دسمبر میں ہونیوالی کانفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین شریک ہونگے۔ دونوں جامعات نے اس بارے میں ویب سائٹ بھی لانچ کردیْ۔ سوشل سائنسز پر انٹر نیشنل کانفرنس ایک منفرد آئیڈیا ہے جس میں آرتس اورسوشل سائنسز کی دور جدید میں اہمیت اور درپیش چیلنجز پر ملکی اور غیر ملکی ماہرین اپنی تحقیق پیش کریں گے۔دو یونیورسٹیوں کی میزبانی سے جہاں مقالہ جات کی کوالٹی یقینی ہوگی وہاں فیکلٹی اور طالبات کی تربیت بھی ممکن ہوگی۔ معاہدے کے تحت جامعات کی فیکلٹی ،سٹوڈنٹس اور سٹاف تعلیمی اور انتظامی ٹریننگ ورکشاپ میں حصہ لیں گے۔ہیومن ریسورس، انفراسٹرکچر،ریسرچ اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لئے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ایک دوسرے کی ریسرچ لیبارٹریز اور دیگرسہولتوں تک رسائی سے سکالرز مستفید ہونگے۔ ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی نوید اے ملک نے کہا کہ لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی 42مضامین میں بی ایس آنرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی آفر کر رہی ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی اپنے تعلیمی پروگرام کو وسعت دینے کیلئے لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی سے معاونت حاصل کرے گی۔
ایک معیاری درسگاہ بنانے کیلئے اپنے وژن اور روڈمیپ کا اظہار اوراس کی رینکنگ میں بہتری کے لئے جامع پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے دی ایجوکیشنسٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ چار سال میں یونیورسٹی کا منشور تعلیم،تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔انتظامیہ نے ریسرچ گرانٹ کے فوری اجراء اور قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں ماہ مینجمنٹ سائنسز پر انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوگی جس میں سی پیک کو بھی زیر بحث لایا جائے گا اور اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے حکومت کو دی جائیں گی تاکہ پاکستان اور چین اس منفرد منصوبے کو مزید موثر اور شاندار بنا سکیں۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی یونیسکو سے مل کرشہر کے پسماندہ علاقوں میں غذائی خود کفالت اورواٹر منجمنٹ کی آگاہی مہم شروع کرے گی۔اس مقصد کیلئے یونیسکو کی فوکل پرسن برائے بہبود آبادی شائستہ پرویز ملک ایم این اے سے اشتراک کار کیا جائے گا۔ غذائی خود کفالت پروگرام کے تحت عوام کوصحتمند طریقوں سے اپنی غذا خود پیدا کرنے پر مائل کیا جائے گاجس میں کچن گارڈننگ اور نباتیات کے دیگر طریقے شامل ہیں۔کچن گارڈننگ کے لئے محلہ اور گھر کی فالتو اراضی اور چھتوں کو استعمال کر کے وہاں گملوں اورکیاریوں میں صاف ستھری اور بیماریوں سے پاک سبزیاں اور پھل پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ یونیسکو کی فوکل پرسن شائستہ پرویز ملک نے اس پراجیکٹ کیلئے اراضی فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ا انہوں نے مزید بتایا کہ میری کوشش ہو گی کہ اس ادارے کو ایسی مثالی تربیت گاہ میں تبدیل کر دیا جائے جہاں اعلیٰ درجے کی تدریس و تحقیق ہو اورشاندار تربیت سے طالبات معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا وژن لے کر نکلیں اور ریسرچ کے لئے سکالرز کو ہر ممکن سہولت اور مراعات کا اعلان کرتی ہوں ۔ یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری کو جد ید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جائے گا اور آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش مکمل ہوگئی ہے اب اسے ائیر کنڈیشنڈ بنایا جائے گا۔ لاہورکالج ایک قیمتی پتھر ہے جسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ سٹاف کے لئے سروس سٹرکچر بہتر بنانے، عارضی ملازمین کو مستقل کرنے اور دیگر جامعات میں رائج الاؤنس کی ادائیگی ممکن بنانے کیلئے کمیٹی کو ذمہ داری سونپ دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی جو علم تخلیق کرتی ہے کالج اس علم کی تدریس کرتا ہے۔میرا عزم ہے کہ اس ادارے کو ایک مثالی یونیورسٹی بناؤں جہاں ملکی اور غیر ملکی طالبات داخلہ لینا فخر سمجھیں اور اس کی رینکنگ اعلیٰ درجے کی ہو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے میں حکومت کا وژن ہمیشہ میرے پیش نظر رہتاہے۔ ہماری طالبات نے ہر شعبہ زندگی اور خصوصا تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم، پروفیشنل ڈگریوں اور نمایاں تر منازل کے حصول کے باوجود عملی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع نہیں دئیے جارہے اور ڈاکٹرز انجئینرزاور پی ایچ ڈی بچیوں کو گھرگرہستی تک محدود کردیا جاتا ہے جس سے ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ہم لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی میں 14ہزار طالبات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب پڑھارہے ہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ پینے کا صاف پانی تمام آبادیوں اور بالعموم کچی آبادیوں کا بالخصوص اہم مسئلہ ہے۔لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی طالبات اور فیکلٹی کچی آبادیوں کو فوکس کریں گی اور وہاں واٹر منجمنٹ کیلئے عوام کی رہنمائی کریں گی۔واٹر منجمنٹ کے تحت پانی کے ضیاع کو روکنا، اس کو ذخیرہ کرنے اور نکاسی کے محفوظ طریقے اپنانا،آلودہ پانی کو مختلف طریقوں سے پینے کے قابل بنانا اوررہائش کی جگہ کو نمی سے پاک بنانا شامل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عظمی قریشی کا کہنا تھا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پیپر فری کلچرپر عملدرآمد کرتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ رولنمبر کے اجراء اورطالبات کو سمارٹ کارڈ جاری کرے گی۔ اس نئے نظام سے جہاں طالبات کی حاضری، فیس کی ادائیگی اور امتحانات کے انعقاد کا کام تیزی سے مکمل ہوگاوہاں والدین کو بذریعہ ایس ایم ایس طالبات کی حاضری سے باخبر رکھا جا سکے گا۔ ٹیکنالوجی کے استعمال میں جامعات کو رول ماڈل ہونا چاہیے۔ کاغذ کے کم سے کم استعمال سے وسائل کی بچت ہوگی۔ کمپیوٹرائزڈ رولنمبر کے اجراء سے کلیریکل کام میں وقت کی 60فیصد بچت ہوگی اور طالبات کا امتحانی ریکارڈ باآسانی مہیا ہو سکے گا۔ نتائج بر وقت مرتب ہوگا اور والدین کو امتحان میں طالبات کی کارکردگی آن لائن دستیاب ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سمارٹ کارڈ کیلئے قابل اعتماد کمپنیوں سے پیش کش حاصل کررہے ہیں۔ سمارٹ کارڈ سے حاضری کا خود کار ڈیٹا مرتب ہوگا جس کی اطلاع والدین کو بھی ہوگی۔فیس واؤچر گھر بیٹھے حاصل کئے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ ناگہانی صورت حال سے نبٹنے کیلئے طالبات کا بلڈ گروپ، گھر کا پتہ اور والدین کا رابطہ نمبر بھی سمارٹ کارڈ میں موجود ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کالج اور یونیورسٹی میں فرق ریسرچ کا ہوتا ہے۔ طالبات اور اساتذہ کو اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہجوم اور قوم میں محض نظم و ضبط کا فرق ہوتا ہے۔ ہم باصلاحیت افراد ہیں،بصیرت رکھنے والی قیادت مل گئی تو ہم اقوام عالم کے سردار ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی از حد ضروری ہے جس کے لئے اساتذہ کے ساتھ والدین اور دیگر معاشرتی عناصر کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ طالبات کی تربیت کیلئے مذاکرے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

Comments

comments