جون کا ادبی منظر نامہ

 جون کا ادبی منظر نامہ
جولائی 03 08:14 2017 Print This Article

تحریر۔ حافظ جنید رضا

۱۳١ جون کو ینگ لٹریری سرکل کا ماہانہ جلسہ ہوا۔ جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔ ڈاکٹر صائمہ ارم کی کتاب’’شاہ موش‘‘ پر مکالمہ ہوا۔ غلام حسین ساجد اور حافظ محمد جنید رضا نے مضامین پڑھے۔ شرکا میں محمد عباس، عقیل اختر، اظہر حسین، ازور شیرازی، عمر فاروق، حافظ عدیل،میاں شہزاداور ارسطو اسکندر اعظم کے نام نمایاں ہیں۔ حافظ محمد جنید رضا نے اپنا مضمون پڑھا۔ اس میں ان کے افسانے ’’داغ دار‘‘ کا تجزیہ کیا۔ مضمون میں اس بات کو واضح کیا گیا۔ افسانہ نگار نے معاشرتی پستی کو بیان کیا۔ کس طرح کام کرنے والی خواتین کے کردار پر شک کیا جاتا ہے۔جب اس خاتون کا دامن داغ دار ہوتا ہے تو مشرقی تہذیب کا دامن داغ دار ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ اردو افسانے کا سفر ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔اس نے پریم چند سے لے کر انتظار حسین تک بہت سے اسالیب دیکھے۔ اس نے عالمی افسانے سے استفادہ کیا۔مختلف تکنیک کے تحت افسانے لکھے گئے۔ اس میں ’’شاہ موش ‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے ، جس میں اس کا تذکرہ پورے تخلیقی وفور کے ساتھ آیا ۔ اس کے بعد غلام حسین ساجد نے اپنا مضمون پڑھا۔ جس میں افسانوں کو مجموعی طور پر عمدہ قرار دیاگیا۔ اختتام پر جناب صدر نے افسانہ نگار کی صلاحتیوں کے پیش نظر انھیں تجویز دی۔جس طرح عالمی افسانے میں صورتحال کا ایک تجزیہ نظر آتا ہے۔اسی طرح ان افسانوں میں عمیق تجزیہ ہو جاتا تو یہ مزید ابھر کر سامنے آتے۔ تجزیہ موجود ہے۔ اس میں مزید علمی مباحث کی گنجائش ہے۔اس تجویز کی روشنی میں محفل اختتام پذیر ہوئی۔ ڈاکٹر صائمہ ارم کہانی کہنے کر فن پر مکمل دسترس رکھتی ہیں۔ اپنی آئیندہ کہانیاں ان تجاویز کی روشنی میں لائیں گی۔ اس بات کی قوی امید ہے۔پنجابی ادبی سنگت کے اجلاس ماہ رمضان میں جاری رہے۔ اس ماہ کا پہلا اجلاس سید آفاق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں احمد شہزاد نے مضمون اور ہیتم تنویر اکرم نے شاعری پڑھی۔اجلاس کے شرکا میں عدل منہاس لاہوری، پروفیسر عاشق رحیل، سکندر مجید، فہد محمود،ظاہر محمود،رانا کفیل،محمد عمر اور ارسطو خان تھے۔ سیکرٹری سرفراز صفی کی طرف سے افطاری کا اہتمام کیا گیا جو تمام رمضان ہر اجلاس میں جاری رہا۔دوسرا اجلاس عبدالوحید کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں حفیظ طاہر نے اپنا ڈرامہ اور ڈیوڈ پرسی نے اپنی شاعری پڑھی۔شرکا میں ایم آر مرزا، زاہد ہما شاہ، اعجاز اللہ ناز،ہمایوں پرویز شاہد، آفتاب جاوید ، وجاہت تبسم اور امجد طفیل شامل تھے۔تیسرا اجلاس معروف شاعر پروفیسر ناصر بشیر کی صدارت مین منعقد ہوا۔ جس میں حافظ محمد جنید رضا کا مضمون اور میاں شہزاد کی شاعری تھی۔شرکا میں عابد حسین عابد ، عدنان باجوہ،ڈاکٹر عباد نبیل،غضنفر عباس، ماہر کمال اور ناصر کمال کے نام نمایاں تھے۔چوتھا اجلاس پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید کی صدارت میں منعقد ہوا۔جس میں غلام عباس فراست نے اپنی شاعری اور اکرم شیخ نے اپنا مضمون پڑھا۔حاضرین میں شبیر حسن ، شہلا خان،ڈاکٹر عباد نبیل شاد اور رحمت مسیح نمایاں تھے۔
حلقہ ارباب ذوق کے پہلے اجلاس میں صدارت معروف شاعر لطیف ساحل نے صدارت کی۔ جاوید قاسم نے غزل اور صبا ممتاز نے اپنا افسانہ پڑھا۔دوسرے اجلاس کی صدارت نذیر قیصر نے کی۔اس میں ہمایوں خان نے شاعری اور آغا سلمان باقر نے اپنا سفرنامہ پڑھا۔ تیسرے اجلاس کی صدارت معروف نقاد ڈاکٹر امجد طفیل نے کی۔ افسانہ محمد عباس اور مضمون حافظ محمد جنید رضا نے پڑھا۔جبکہ چوتھا اجلاس چاند رات مشاعرہ تھا۔جس کی صدارت معروف دانشور ڈاکٹر اجمل نیازی نے کی۔ مہمانان خصوصی لطیف ساحل اور آفتاب جاوید تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس ماہ رمضان میں نہیں ہوئے۔دبستان اقبال میں سہیل عمر، اوریا مقبول جان اور برگیڈئیر وحید الزماں خاں کے لیکچرز ہوئے۔یاد رہے دبستان اقبال کے صدر میاں اقبال صلاح الدین ہیں اوراس کی نگران جسٹس ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ ہیں۔ اس سے پہلے اس کے نگران جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب تھے۔یہ ادارہ اپنے تئیں اقبالیات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔اقبال ڈے کی چھٹی بند ہونا ایک قابل مذمت عمل ہے۔ بلا شبہ علامہ اقبال مصور پاکستان ہیں ۔پاکستان کے قومی شاعر ہوتے ہوئے وہ پوری دنیا میں پاکستانیوں کے لئے باعث صد افتخار ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر خادم اعلٰی جناب شہباز شریف صاحب انھیں اپنا مرشد کامل مان چکے ہیں۔ہر صاحب فہم مفکر اس بات پر متذبذب ہے۔ علمی وادبی حلقے سراپا احتجاج ہیں۔ہر قوم اپنے قومی ہیرو سے پہچانی جاتی ہے۔علامہ صاحب ایک ایسے قومی ہیرو تھے۔ جنھیں قائد اعظم جیسے قومی راہبر اپنا فکری راہنما قرار دیتے تھے۔ اگر چھٹی ہی بند کرنی ہے۔ کسی اور دن کی کر لو۔اپنے عظیم مفکر کے دن کو پوری شان و شوکت کے ساتھ سرکاری طور پر مناؤ۔اپنے اس کالم میں اقبالیات کے طالب علم ہونے کی غرض سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے درخواست ہے۔ وہ اس بات کا جلد نو ٹس لیں اور اس سازش کو ناکام بنائیں۔ جس کے تحت پاکستانی قوم کے ایک عظیم فکری راہبر کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایسے مسلم راہبر صدیوں بعد نصیب ہوتے ہیں۔اس لئے انھیں جس حد تک خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ اس لئے یہ ایک ایسا فیصلہ ہے۔ جسے فوری طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پوری قوم اس پر سراپا احتجاج ہے اور ہر دانشور ماتم کنعاں ہے۔ اگر یہ ہو جائے تو قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہو گا۔
محمد سلیم الرحمٰن عہد حاضر کے بہت بڑے لکھاری ہیں۔ ’’سویرا ‘‘ کے عنوان سے ایک ادبی رسالہ نکال رہے ہیں۔جس میں معیاری تخلیقات کا اہتمام کرتے کرتے ہیں۔نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ خود با کمال مترجم،افسانہ نگار، شاعر اور کالم نگار ہیں۔ہفتے میں ایک دن اپنے مداحوں سے ملتے ہیں۔مختلف ادبی ، قومی و عالمی موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ ایک دو گھنٹے پر مشتمل اس محفل میں اکثر ظریفانہ انداز میں محو کلام ہوتے ہیں۔یاد رہے مرزا غالب اور علامہ اقبال کمال کی حس مزاح رکھتے ہیں۔بڑے لوگوں میں کچھ باتیں مماثلت رکھتی ہیں۔حاضرین میں ڈاکٹر ضیا ء الحسن ، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر رفاقت علی شاہد، زاہد حسن اور سلیم سہیل ہوتے ہیں۔ اکثر مافات رضا اور ابو ذر آتے ہیں۔ یہ ہفتہ وار ملاقات بڑی مفید رہتی ہے۔ ان کے علم سے سب مستفید ہوتے ہیں۔وہ پاکستان کے ادبی منظر نامے کے ساتھ ساتھ عالمی ادبی منظر نامے پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔اس زمیں کے ماحولیاتی مسائل سمیت سائنسی انکشافات کو اہمیت دیتے ہیں۔بڑے بڑے لکھاری اپنی تحریریں دکھا کر اس پر رائے لیتے ہیں۔ایک ایسے ادیب سے ملنا ۔ جس نے تمام عمر ادب کی خدمت میں گزاری ہو۔ اپنے معیاری کام کی وجہ سے ملک بھر کے علمی و ادبی حلقوں میں اپنی اعلٰی تخلیقات کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتا ہو۔ کسی بھی لحاظ سے دل چسپی سے خالی نہیں۔
یوں تو ادبی سرگرمیاں پورا سال ہی جاری رہتی ہیں۔شاعر ، ادیب اور استاد ان سے منسلک رہتے ہیں۔ ادب کے طالب علم اس سے منسلک رہتے ہیں۔ماہ رمضان میں روزوں کی وجہ سے اکثر حضرات سہل پسندی کی جانب راغب ہوتے ہیں۔لیکن اس بار ماہ رمضان میں بڑی شد و مد کے ساتھ ادبی سر گرمیاں جاری رہیں۔ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں گو کہ چھٹیاں تھیں۔ لیکن ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے طلبا و طالبات اپنا تحقیقی کام کرتے رہے۔مجھے وہاں جا کرپروفیسر ڈاکٹر محمد کامران ، صدر شعبہ اردو،پروفیسر ڈاکٹرزاہد منیر عامر اور ڈاکٹر ضیا ء الحسن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اپنے تعلیمی معاملات میں راہنمائی لی۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر آخری عشرے کے اعتکاف میں بیٹھے تھے۔ ان سے مسجد میں ملاقات رہی۔ وہاں جاکر ان سے دعائیں لیتا رہا۔ پی ایچ ڈی اسکالر مجاہد حسین ساتھ تھے۔ اس ملاقات میں کافی دیر مسجد ہی میں علمی وادبی معاملات پر گفتگو ہوئی جس میں اکثر مذہبی حوالے آئے۔عید منانے گھر گیا تو وہاں بھتیجے ، بھتیجیاں اور بھانجے، بھانجیاں آکر اپنی جماعت کے اردو نصاب پر راہنمائی کا کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو ایک اچھی ادبی سر گرمی ہے۔ کچھ دوست اور ان کر ساتھ گھر والے جب لاہور کے حالات پوچھتے ہیں تو انھیں سارا ادبی منظر نامہ بتاتا ہوں۔ یہ کام بھی ایک
ادبی تجربہ ہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ یہ مہینہ ادبی سر گرمیوں سے بھرپور تھا۔ اس میں جہاں ادبی مطالعہ کام آیا۔ وہاں اساتذہ ادب سے یہ راہنمائی ملی۔ اب آئندہ کن موضوعات کو پڑھنا مفید ہو گا۔ان تمام باتوں کے ساتھ اجازت، آئندہ ماہ کی کاروائی آئندہ ماہ پیش کی جائے گی.

Comments

comments