مئی کا ادبی منظر نامہ

مئی کا ادبی منظر نامہ
جون 14 21:41 2017 Print This Article

تحریر۔ حافظ جنید رضا

ممجھے ذاتی طور پر ینگ لٹریری سرکل کا اجلاس کروانا ہوتا ہے۔وہ مئی میں مصروفیات کی بنا پر یہ سوچ کر ترک کر دیا گیا۔ جون میں دو اجلاس کروا لئے جائیں گے۔اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں کھیلوں کی سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈکٹر ظفر معین ناصر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے خصوصی شرکت فرمائی۔اس موقعے پر ڈاکٹرمحمد فخرالحق نوری ڈین و پرنسپل اورینٹل کالج اور ڈاکٹر محمد کامران صدر شعبہ اردو موجود تھے۔ان کے ساتھ دوسرے صدور شعبہ جات محفل میں شریک ہوئے۔کھیلوں میں نمایاں رہنے والے طلبا وطالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور ڈاکٹر ضیاء الحسن نے اپنا کلام سنایا اور خوب داد سمیٹی۔نظامت کے فرائض پروفیسر شعیب صاحب نے انجام دئیے۔ اساتذہ اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ حلقہ ارباب ذوق کے پہلے اجلاس میں جو سات۷ مئی بروز اتوار پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے فرمائی۔حسین مجروح ،پروفیسرنجیب جمال اور اظہر حسین نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ ۱۴ مئی کو ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سعید بھٹہ نے کی۔اس میں رائے محمد خاں ناصر اور زاہد حسین نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔

۲۱مئی کو ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے کی ۔ فریحہ نقوی اور شاہد شیدائی نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس ڈاکٹر شاہد محمود ندیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس میں ڈاکٹر ضیاء الحسن نے اپنی شاعری اور حسن جعفر زیدی نتے اپنا مضمون پڑھا۔ دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر مبارک علی نے خصوصی شرکت کی۔اسلم گورداسپوری کی کتاب پر ایک مکالمہ ہوا۔پنجابی ادبی سنگت کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس عابد حسین عابد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں محمداظہر ورک نے خصوصی شرکت کی۔ محمد زوہیب عالم اور وقار سپرا نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ایک اجلاس میں ڈاکٹر امجد طفیل نے صدارت کی۔ عابد حسین کھوکھر اور صابر علی صابر نے اپنی تحریریں پیش کیں۔ یاد رہے، حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری غلام حسین ساجد اور جائنٹ سیکرٹری عقیل اختر ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے صدر ریاظ احمد اور جنرل سیکرٹری حسین شمس رانا ہیں۔ پنجابی ادبی سنگت کے سیکرٹری سرفراز انور صفی اور جائنٹ سیکرٹری حافظ محمد جنید رضاہیں۔

اس کے ساتھ اردو سائنس بورڈ نے سائنسی موضوعات پر لکھنے والوں کی ایک کانفرنس کروائی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے خود کی۔ یہ ایک اپنی نوعیت کی بھرپور کانفرنس تھی۔مجلس اقبال کے تحت ایک اجلاس کی صدارت اسلم سعیدی نے کی۔ جس میں ظاہر محمود نے اپنا مضمون پڑھا۔ ایک اجلاس کی صدارت غلام حسین ساجد نے کی۔جس میں عمر حسیب نے افسانہ پڑھا۔ ایک تقریب نہایت شاندار رہی۔ یہ پریسبیٹیرین انسٹیوٹ کے تحت تھا۔ اس کی ڈائرکٹر مسسز جاوید تھیں۔ وہاں مسسز منیر اور مسسز روبی بڑافعال کردار ادا کر رہی تھیں۔ انھوں نے سکول کی سطح پر ایک تقریر ی مقابلے کا انعقاد کیا۔ جس میں بطور جج مجھے مدعو کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران صدر شعبہ اردو ارینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی نے مجھے یہاں جانے کا حکم دیا۔ استاد محترم کا حکم سر آنکھوں پر۔وہاں فہد محمود سوختہ اور محبہ احمد کے ساتھ شرکت کی۔’’قومی ترقی میں میڈیا کا مثبت کردار‘‘ کے موضوع پر تقاریر ہوئیں۔ طلبا و طالبات نے بے حد عمدہ تقاریر کیں۔ ادارے کی طرف سے شاندار حال سجایا گیا۔ بہترین استقبالیہ پیش کیا گیا۔نظم و ضبط کا پاس رکھا گیا۔ اختتام پر ظہرانہ پیش کیا۔ اتنی شاندار تقریب سجانے پر مسسز منیر جو وہاں نگران کے فرائض نبھا رہی تھیں۔ ان کا شکریہ ادا کیا۔ پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پرآنے والی ٹیموں کو نقد انعامات دئیے گئے۔ ججوں کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔ایک اہم ادبی خبر مجلہ ’’سخن‘‘ کی اشاعت ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو کا مشہور مجلہ ہے۔ یہ صدر شعبہ اردو کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ اس بار دو سالہ مجلہ نکلا۔ جس کے مدیر آغر ندیم سحر اور اعزازی مدیران حافظ محمد جنید رضا اور عاطف خالد بٹ تھے۔نگران ڈاکٹر عارفہ شہزاد تھیں۔ اس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں طلبا و طالبات کی تحریروں کو شائع کیا گیا۔ جب پروفیسر ڈاکٹر قمر علی زیدی صاحب سے ان کے گھر ملنے گیا۔ وہاں ان سے ملنے میر حسام الدین سہروردی آئے تھے۔ انھوں نے ان سے تعارف کروایا۔ ان کے بارے میں بتایا۔ یہ ماہر لسانیات ہیں۔ انھیں بتایا۔ یہ حافظ محمد جنید رضا ہے۔ پڑھنے لکھنے کا شوقین ہے۔ اکثر علمی معاملات پر مکالمہ کرتا ہے۔

ایک دن آغر ندیم ’’اوج ادب ‘‘ کی تقریب میں لے گیا۔ جو ایک ہوٹل میں تھی۔ وہاں جا کر شبیر حسن ملے۔ انھوں نے خوش آمدید کہا۔ اس تنظیم کی محافل میں آنے کی باقاعدہ دعوت دی۔ وہاں امجد اسلام امجد ،نذیر قیصر،سعود وعثمانی،سلیمان گیلانی ،شاہین ، انجم سلیمی سمیت لاہور کے نامور شاعر تشریف لائے ہوئے تھے۔ خواتین شاعروں میں فاخرہ انجم،شاریہ مفتی اور تجدید قیصر کو مدعو کیا گیا۔ اس محفل کی خاص بات یہ تھی۔ اس میں کچھ شاعروں نے کلام سنایا بقایا شاعروں نے سنا۔ سامعین شاعروں کو آئیندہ کی محفل میں مدعو کیا گیا۔ جس میں اب کی بار کے شاعر سامع ہوں گے۔ اس قسم کے فیصلے کو سب شاعروں نے سراہا اور تنظیم کے فیصلے کو قبول کیا۔

ایک بچوں کے ادب پر کانفرنس ہوئی۔ جس میں زاہد حسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔ پرانے دوست رانا عبد الوحید سے ملاقات ہوئی۔ اس بچوں کے مشہور رسالے ’’پھول‘‘ کے مدیر خود شریک تھے۔اس میں حاضرین کو بچوں کے ادب پر ہونے والے کام سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ بہتری کو تجاویز مانگی گئیں۔

مئی میں شائع ہونے والی فلم کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ یہ ’’فاسٹ۸‘‘ کے نام آئی۔ بنیادی طور پر یہ ایکشن فلم تھی۔ اس کے باوجود یہ اتنی مشہور ہوئی۔ ادبی فلم کی ذیل میں وہی فلم آتی ہے۔ جو کسی ناول پر بنی ہو یا کسی تاریخی واقعے پر مبنی ہو۔ فن اداکاری اور اپنی موسیقی کی بنا پر شاہکار ہو۔ اس میں بڑے اداکاروں نے اپنے فن کا جوہر دکھایا ہو۔ اس فلم میں اپنی صلاحتیوں پر بھروسہ کرنا سکھایا گیاہے۔ کیسے منظم ہو کر اپنی منزل تک جانا ہے۔ مل کر کام کرنے کا بہترین سبق ہے۔دراصل اس میں ’’سی آئی اے‘‘ لی مداخلت نے فلم کو زیادہ دل چسپ بنایا۔ عالمی طاقت کو کیسے مسائل در پیش ہیں۔ سائنسی دور میں کیسے جرائم سے نمٹا جاتا ہے۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت کیسی ہے۔یہ سب اس فلم میں ہے۔ ایسی ہی باتیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہ فلم اتنی کامیاب ہوئی۔ اس کے آٹھ حصے آچکے ہیں۔ یہ گاڑیوں کی ریس لگانے والے جرائم پیشہ افراد ہیں۔ لیکن اکثر سیکرٹ سروس کے لئے کام کرتے ہیں۔ ملکی مفاد کے لئے کام کرتے ہیں۔انھیں لوٹتے ہیں۔ جو جرائم پیشہ ہیں۔ ایسے بڑے ڈرامائی انداز میں کہانیاں بنتی ہیں۔ اس لئے فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ مہینہ ادبی طور پر بڑا فعال رہا۔شہر لاہور کے نامور شاعروں ادیبوں سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ ان کا کلام اور ان باتیں سننے کا شرف حاصل ہوا۔ آئندہ ماہ کی کاروائی ، آئندہ ماہ پیش کی جائے گی۔

Comments

comments