ادب دوستی یا ادب شناسی

by Asad Saleem | جون 5, 2017 1:17 شام

تحریر۔ حافظ جنید رضا

اادب شناسی کے لیے کتابیں پڑھی جائیں۔ شاعری اور فکشن پڑھیں۔ ان پر تنقید پڑھیں۔ ادبی تاریخ پڑھیں۔ محققین کا کام پڑھیں۔ اس سے ادبی تفہیم ہوگی۔ ان سب کاموں سے ادب شناسی ممکن ہے۔ یہ بات ممکنات تک ہے۔ آج کا دور تو یقین دہانی کا دور ہے۔ آپ ان سب کاموں کے ساتھ اگر ادبا کی محفل میں شریک ہوں مشاعرے سنیں۔ شاعروں اور ادیبوں سے ملیں جو کچھ پڑھا ہے اسے جس حد تک سمجھے ہیں۔ اسے ادبی محافل میں بیان کریں۔ دوستوں کے ساتھ ادبی موضوعات پر گپ شپ کریں۔ بات چیت کے ماحول کو فروغ دیں۔ اب جا کر آپ ممکنات کی دنیا سے نکل کر یقین کی دنیا میں آ جائیں گے۔ ادب کے قارئین اور لکھاری ادب کے موضوعات پر بات کریں تو ان کی گفتگو ادبی دائرے میں آ جائے گی۔ اگر یہ گفتگو کسی ادبی رسالے میں چھاپ دی جائے تو نئے ادبی قارئین کے لیے مفید ہوگی۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والے نظم نگاری اور غزل گوئی کے مقابلے ادبی دائرہ کار میں شامل ہیں۔ اسی بنا پر اپریل ۲۰۱۷ء میں ہونے والی ادبی محافل کا تذکرہ کرنے لگا ہوں۔ سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر شبیر سرور صاحب کا تذکرہ ضروری ہے۔ انھوں نے فہد شہباز کے ساتھ مل کر شاعری، تقاریر اور ملی نغموں کے مقابلہ جات کروائے۔ اس میں ہائرایجوکیشن کمیشن (HEC) نے خصوصی تعاون کیا۔ مجھے شعری نشست میں بطور منصف دعوت دی۔ یہ حسین اتفاق ہے جب انھوں نے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران صدرِ شعبۂ اردو، اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کو بطور منصف آنے کی دعوت دی تو انھوں نے اپنی مصروفیات کے پیشِ نظر معذرت کی اور اپنے شاگرد کی اہلیت پر گواہی دی۔ جس پر بنا پر وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں عزیز من احمد حماد موجود تھے۔ ہم دونوں کو منصبِ منصفی پر بلایا اور مقابلے کا آغاز ہوا۔ اس میں اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کثیرتعداد میں شریک ہوئے۔ نظم نگاری میں حافظ کاشف ندیم (المعروف آغر ندیم سحر)اوّل قرار پائے۔ احمد حماد صاحب نے مجھ سے کہا یہ لڑکا اول نمبر پر ہے تو اس پر انھیں بتایا مجھے اس کی نظم اچھی لگی۔ آپ کا درست فیصلہ ہے۔ مقابلے کے نتائج سنا کر پروفیسر شبیر سرور اور فہد شہباز کے ساتھ چائے پر ادبی گفتگو ہوئی۔ احمد حماد صاحب کا کہنا تھا۔ انھوں نے حلقہ ارباب ذوق کی محافل میں جانا شروع کیا تو یہ ان کی ادبی پرداخت کے لیے مفید رہا۔ کچھ دیر اساتذہ ادب کی صحبتیں یاد کیں۔ ان میں پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر ضیاء الحسن شامل تھے۔ دورانِ گفتگو اندازہ ہوا یہاں شاعری کے ساتھ ساتھ تقاریر اور ملی نغموں کے مقابلہ جات ہو رہے ہیں۔ اسی وقت “The Educationist” ملا جس پر اس میں ماہانہ ادبی محافل کے تذکرے پر کالم لکھنے کی حامی بھری۔

ینگ لٹریری سرکل اور انجمن اردو اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے اشتراک سے ۲۶؍اپریل بروز بدھ دن ایک بجے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نواسہ اقبالؔ میاں اقبال صلاح الدین نے اظہارِ خیال کیا۔ یہ ۲۱؍اپریل کی مناسبت سے رکھا گیا لیکچر تھا جس میں ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اور ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی سمیت اورینٹل کالج کے کثیر طلبا و طالبات نے شمولیت کی۔ میاں اقبال صلاح الدین صاحب کے نزدیک کلام اقبالؔ ہم سب کو اخلاقیات اور کردار سازی کی جانب بلاتا ہے۔ اس کے ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی تاریخی ادبی مجلس، مجلس اقبالؔ کے اجلاس میں شرکت کی۔ وہاں جا کر صدر مجلس اقبال عمر فاروق نے کرسی صدارت پر بٹھایا۔ ساتھ میں محمد عمر نظامی تھے۔ اس ذمہ داری کو ان کے اصرار پر قبول کیا اور اسے اپنے اساتذہ کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔ ۲۵؍اپریل کو شامِ غزل سجائی گئی۔ یہ مجلس اقبالؔ کے زیر اہتمام جی سی یو بخاری آڈیٹوریم میں سجی جس میں فرحت عباس شاہ، افضل عاجز، سمیر عباس، صفدر کاظمی اور عاتکہ ناصر نے اپنی آوازوں کا جادو جگایا۔ نذیر احمد مجلس موسیقی کے ہونہار طلبا میں سعد فاروق ضیائی، اسامہ بابر اور اسیس ارشد شامل تھے۔ ۲۲؍اپریل کو ایوانِ اقبال میں ایک لیکچر کاانعقاد کیا گیا جس کی صدارت جناب منیب اقبال صاحب نے فرمائی۔ آپ علامہ اقبالؔ کے پوتے ہیں۔ اس میں آپ نے علامہ صاحب کی شاعری کو تعلیمات قرآنی کے تابع قرار دیا اور ان کی شاعری کے بنیادی محرک کی نشان دہی کی۔ عشق رسول ﷺ ان کی شاعری کا بنیادی محرک ہے۔ اس قوت سے وہ ناممکن کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ کالم اتنی ادبی سرگرمیوں کا متحمل ہے جو رہ گئیں ان سے قطع نظر انھیں پر اکتفا کریں۔ آئندہ ماہ کی سرگرمیاں آئندہ ماہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔

Comments

comments

Source URL: http://urdu.educationist.com.pk/?p=1523