پنجاب حکومت نے صوبے میں تعلیم کے لیے345ارب روپے مختص کردیے

پنجاب حکومت نے صوبے میں تعلیم کے لیے345ارب روپے مختص کردیے
جون 04 10:52 2017 Print This Article

لاہور(علی ارشد ) پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 2017-18 میں تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 345 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سکول ایجوکیشن کے لیے 53 ارب 36 کروڑ روپے، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے لیے 230 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پسماندہ علاقوں میں زیورتعلیم پروگرام کے لیے 6 ارب پچاس کروڑ روپے اور مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے تین ارب پچاس کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے لیے 16 ارب ، ہائر ایجوکیشن کے لیے 44 ارب 60 کروڑ روپے اور وزیر اعلی لیپ ٹاپس پروگرام چوتھے فیز کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ آئندہ مالی سال میں کالجوں میں مسسنگ سہولیات کے لیے ایک ارب 62 کروڑ روپے اور وزیراعلی تقریری پروگرام، چائنیز زبان سکالر شپ کے لیے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سرکاری یونیورسٹیوں کے سب کیمپسس کھولنے کی مد میں صرف 62 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی کے لیے 30کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کے لیے صرف 50 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے ۔
حالیہ بجٹ پر بات کرتے ہوئے فیڈریشن آف آل پاکستان اکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب چیپڑ کے صدرڈاکٹر جاوید احمد نے بتایا کہ موجودہ بجٹ میں سکولز اور کالجز پر حکومت نے زیادہ فوکس رکھا ہے اور فکس ٹارگٹ ہیں۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کا بجٹ بہت کم ہے جو کہ زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جامعات کے لیے رکھے گئے بجٹ پر دووبارہ غور کرے۔ پاکستان کی معیشت میں جامعات کا بہت کردار ہے ان کو عالمی معیار کے تقاضوں پر لانے کے لیے ریسرچ اور دیگر معاملات میں خطیر رقم مختص کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی ہائر ایجویشن کمیشن کا کردار محدود ہو کر صرف اسلام آبا دتک رہ گیا ہے۔ اب پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ یونیورسٹیوں کو بہتر بجٹ دلوانے میں بھرپور کردار ادا کرئے جبکہ ان کو خود صرف پچاس ارب روپے دیے گئے ہیں جو کہ صوبے میں ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مذاق کی مانند ہے۔ تنخواہوں میں دس فی صداضافہ سفید پوش طبقے کے ساتھ نااانصافی ہے۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے صدر کاشف محمودمرزا نے بجٹ پرردعمل میں کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ بجٹ بھی صرف اور صرف اعدادوشمار کاگورکھ دھندہ ہے جو کہ پچھلے کئی سالوں سے چلتا آرہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں پرائیویٹ سکولز کے لیے کسی بھی طرح کا ریلیف نہیں دیا گیا۔ زیادہ تر بجٹ نان سیلری پر فوکس کر رہا ہے۔ جس میں لیپ ٹاپس سکیم اور انڈو منٹ فنڈز شامل ہیں ۔ حکومت کی طرف سے دیے جانے والے لیپ ٹاپس طلباء کو مثبت سرگرمیوں کی بجائے منفی سرگرمیوں میں دھکیل رہے ہیں ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن جیسے مردہ گھوڑے کے لیے 16 ارب روپے کی رقم مختص کرنا پیسے کا ضیاع ہے ۔اس ادارے میں بے تحاشہ کرپشن اور کارکردگی صفر ہے۔ دس سالوں سے یہی بجٹ چلتا آرہا ہے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ سکو لوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے تھا 63000 سرکاری سکولوں میں سے صرف 51000سکول رہ گئے ہیں جو کہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جی۔ڈی۔پی کا 5% تعلیم کے لیے مختص کرنا بہت ضروری ہے۔

Comments

comments

  Article "tagged" as:
  Categories: