مولانا رومی اور سلطان باہو کی تعلیمات سے ہم مثبت انقلاب لا سکتے ہیں، ایرانی قونصل جنرل

مولانا رومی اور سلطان باہو کی تعلیمات سے ہم مثبت انقلاب لا سکتے ہیں، ایرانی قونصل جنرل
مئی 11 18:03 2017 Print This Article

لاہور (11مئی ،جمعرات): پنجاب یونیورسٹی شعبہ فارسی اور مسلم انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کے زیر اہتمام الرازی ہال میں مولانا رومی اور سلطان باہو پر ین الاقوامی کانفرنس منعقد ۔کانفرنس میں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین،افغانستان کے سینیٹر عارف اللہ پشتون، تاجکستان کے سفیر شیر علی جاناں،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر،چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ سلطان احمد علی،پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر،ملکی و غیر ملکی ریسرچ سکالرز، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں حسین بنی اسدی نے کہا کہ مولانا رومی اور سلطان باہو دنیا کی عظیم شخصیات ہیں جن کا پیغام قلوب اور روح کو روشن کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے اپنے دور میں خونریزی دیکھی مگر ان کے پیغام سے ہمیں صرف پیار کا درس ملتا ہے اور انتقام کی باتیں نہیں ملتیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی کی تعلیمات لوگوں میں مٹھاس گھولتی ہے اور انہوں نے روشنی کی بات کی اور تاریکیوں کو دور کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے شمس تبریز کی تعلیمات بھی لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں نفرت اور دشمنی بہت پھیل رہی ہیں اور آج کل کے دور میں مولانا رومی کی تعلیمات کو آگے پھیلانے کی ذیادہ ضرورت ہے تاکہ ہم محبت اور دوستی کو فروغ دے سکیں۔ چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہے کہ صوفیاء کے محبت کے پیغام کے باوجود آج عدم برداشت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج امن، اتحاد اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کیلئے مولانا رومی اور سلطان باہو کے پیغام کو پھیلانا چاہئے۔ انہوں نے امن اور اتحاد قائم کرنے کے لئے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے میں مولانا رومی کا کردارناقابل فراموش ہے۔ افغانستان کے سینیٹر عارف اللہ پشتون نے کہا کہ صوفیاء نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا پیغام دیا ہے اورایک دوسرے سے محبت کرنے کا درس دیا ہے۔ لیکن ہم ان کے پیغام بھول چکے ہیں جس کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تشدد کو روکنے اور امن قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں امن ہو گا تو ایشیاء میں امن ہو گا اور اگر افغانستان میں بد امنی ہو گی تو پورے ایشیا میں بدامنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی اور سلطان باہو دونوں امن کو قائم کرنے کا پیغام دیتے ہیں۔ تاجکستان کے سفیر شیر علی جاناں نے کہا کہ آج ہمیں جن خطرات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے ہم صوفیا ء کی تعلیمات سے رہنمائی لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہا کہ مولانا رومی اور سلطان باہو نے ذات کی بجائے انسانیت کے بھلے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرتیں معاشرے کو تباہ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا رومی کی تعلیمات کو مغرب میں بھی پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سلطان باہو کی تصنیفات پر مزید تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی اور سلطان باہو کے افکار میں مماثلت ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے ایسے کئی اقدامات کئے ہیں جس سے معاشرے میں امن کو فروغ مل سکے۔ چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ سلطان احمد علی نے کہا کہ مولانا رومی اور سلطان باہو کے درمیان فکری اشتراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کے پیغام ہر دور میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں اور ان کے افکار سے ہم فکری امراض کا علاج کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیں عجز و انکساری سکھائی ہے ہمیں ان کے پیغام سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

comments