لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا 13 واں سا لانہ کانووکیشن

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا 13 واں سا لانہ کانووکیشن
مئی 11 14:09 2017 Print This Article

لاہور(علی ارشد) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے 13 ویں سا لانہ کانووکیشن کا انعقاد یونیورسٹی کے مرکزی آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ جس میں 3701 طالبات کو ڈگریا جاری کی گئیں۔ تقریب میں مہمان کؤخصوصی کی حیثیت سے صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم سید رضا علی گیلانی ، چےئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر محمد نظام الدین ، قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر رخسانہ کوثر، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر طاہرہ مغل، رجسٹرار، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر صبیحہ منصور، ممبرصوبائی اسمبلی ماجد ظہور، سمیت مختلف شعبہ جات کے ڈینز، سربراہان، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
تقریب میں بہترین تعلیمی کارکردگی پر71طالبات کوگولڈ میڈلزد یے گئے۔ جبکہ ڈے فارمیسی کی 55، پی۔ایچ۔ڈی کی ۹، بی۔ایس آنرز کی 1459، ایم۔ایس کی 442، بیچلرز آف فائن آرٹس کی 96 اور جھنگ کیپمس کی ۹۱ طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں۔
کانووکیشن سے اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر رخسانہ کوثر نے یوینورسٹی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہو کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی خواتین کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ ہے جنوبی ایشیا میں جو کہ بہترین اور اعلی معیار کی تعلیم فرہم کر رہی ہے۔ڈاکٹر رخسانہ کوثر نے اہے خطاب میں ڈگریاں حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد ہئے انکو مستقبل میں بھی ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی ہدایت کی اور والدین کے جذبے کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہااعلی تعلیم کے لیے والدین کا اپنی بچیوں کو یونیورسٹی کی سطح تک بھیجنا لائق تحسین ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں لاہور کالج کے جھنگ سٹی کیمپس کی17 جون سے باقاعدہ تعمیر کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے یونیوورسٹی طالبات کے لیے حکومت سے مزید د و نئی بسوں کے اجراء کی گذارش بھی کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم سید رضا علی گیلانی نے صوبائی کابینہ کی میٹینگ میں شرکت کے باعث دو گھنٹے تاحیر سے آنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا گولڈ میڈلز اور ڈگریاں حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ہماری قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہیں۔ انہوں نے ہی آنے والے دور میں پاکستان کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ رضا علی گیلانی نے مزید کہ دنیا میں اعلی تعلیم کے لیے ضرور جایا جائے مگر واپس اپنے ملک کی خدمت کے لیے آنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔قوم کی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوانا ایک صحت مند اور پڑھے لکھے معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی وائس چانسلر کی جانب سے سووینیر پیش کیا گیا۔

Comments

comments

  Categories: