پنجاب یونیورسٹی۔پابندی کے باوجود، جمعیت کی ریلی ، انتظامیہ ناکام

پنجاب یونیورسٹی۔پابندی کے باوجود، جمعیت کی ریلی ، انتظامیہ ناکام
مارچ 31 12:00 2017 Print This Article

لاہور (سٹاف رپورٹر) : پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبا تنظیموں پر پابندی کا نوٹیفکییشن جاری ہونے کے 48 گھنٹے بعد ہی اسلامی جمعیت طلبا نے بعد از نمازِ جمعہ جامعہ مسجد سے فیصل آڈیٹوریم تک ریلی نکال کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
اسلامی جمعیت طلبا کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے ریلی میں شرکت کی۔ ۔ریلی کے باعث یونیورسٹی کے داخلی راستے بند کردئیے گئے جس کے باعث یونیورسٹی میں آنے اور باہر جانے والے طلبا کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔میڈیا کے نمائندوں کو بھی یونیورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی ۔
] پشتون طلبا کے جاری کردہ ویڈیو بیان کے مطابق پابندی کی اس سنگین خلاف ورزی پر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ غیر قانونی ریلی میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی گئی اور ہاسٹل نمبر ۱ میں ابھی تک جمیعت کے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر کارکنان موجود ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ پشتون طلبا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے پابندی صرف پشتون طلبا کو روکنے کے لئے لگائی ہے۔

دوسری جانب بارہا رابطہ کی کوشش کرنے پر بھی یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد نے فون نہیں اٹھایا ۔اور انتطامیہ کی جانب سے بھی تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

 


یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی میں تمام شعبہ جات کے سربراہان کے اجلاس کے بعدمراسلہ جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں سیاسی،مذہبی اور لسانی بنیادوں پر قائم تمام تنظیموں پر مکمل طور پر پابندی عائدکی گئی تھی ۔ یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں کے اشتہارات، پوسٹرز اور بینرز کو بھی مکمل طور پر اُتار دیا جائے گا اور کسی بھی تنظیم کو یہ بینرز لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ داخلوں کے دوران طلباء تنظٰیموں کیداخلہ سٹال لگانے پر بھی پابندی ہوگی اور یونیورسٹی میں کسی بھی تقریب کے دوران لاؤڈ سپیکر میں طلبا تنظیموں کے ترانے لگانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔تمام سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں کے لیڈروں کو طلباء تنظیموں کے پروگرام میں بھی مدعو کرنے پر پاپندی ہوگی۔

Comments

comments

  Categories: