پنجاب یونیورسٹی اسلامی جمیعت طلبا کا پشتون کلچر ڈے کی تقریب پر حملہ

by Asad Saleem | مارچ 21, 2017 6:25 شام

 ۔700 پشتون طلبا کی یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی

صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) پنجاب یونوسٹی میں پشتون طلبا کی جانب سے پشتون کلچرل ڈے کے حوالے سے  تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب رضا علی گیلانی تھے ۔ اس جائے تقریب سے کچھ ہی فاصلے پر اسلامی جمیعت طلبا کی جانب سے سٹال لگایا گیا تھا وزیر کی موجودگی کے باوجود اسلامی جمیعت طلبا کے کارکنان جمیعت کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے ۔

وزیر کے جانے کے کچھ دیر بعدجمیعت کے ڈنڈا  بردار کارکنوں نے پولیس کی بھاڑی نفری کی موجودگی کے باوجود  پشتون طلبا کی تقریب پر دھاوا بول دیا ۔ حملہ سے پہلے پولیس نے پشتون طلبا کو تقریب ختم کرنے کو بھی کہا۔ دونوں گروپوں کے تصادم میں جمیعت کے کارکنان، پشتون طلبا،پولیس اہلکار جبکہ4 طالبات بھی زخمی ہوئیں ۔ طلبا نے میڈیا کے نمائندوں کو بھی نہ بخشا،کیمرا مین پر تشدد کیا اوررپورٹرز کے موبائل فون بھی چھیننے کی کوششس کی گئی۔ پولیس کی جانب سے طلبا پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی جس کا فائدہ اتھاتے ہوئے اسلامی جمیعت طلبا کے کارکن یونیورسٹی سے باہر بھاگ گئے۔ واقعہ میں 20 سے زائد طلبہ زخمی ہوگئے جن کو فوری طورپرقریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ۔

مزیدبرآں پولیس کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سرچ آپریشن بھی کیا گیا جس کےکچھ دیر بعد ہی پشتون طلبا دوبارہ پنجاب یونیورسٹی فیصل آڈیٹوریم کے سامنے جمع ہوگئے جبکہ وزیر ہائر ایجوکیشن بھی مزاکرات کے لئے پنجاب یونیورسٹی واپس آگئے ۔مذاکرات3 گھنٹے تک جاری رہے ۔

پشتون طلبا نے مزاکرات کو ناکام قرار دیتے  ہوئے  پنجاب یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی دے دی ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پشتون طلبا کا کہنا تھا کہ  اگرپرتشددواقعاتمیں ملوث طلبا کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی تو ہم احتجاجاً یونیورسٹی چھوڑ کر کر چلے جائیں گے اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے احتجاج کریں گے ۔ طلبا کا مزید کہنا تھا کہ پچھلی دفعہ بھی جمیعت نے لڑائی کی تھی مگر اس پر بھی ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔  یونیورسٹی انتظامیہ نے جان بوجھ کر اسلامی جمیعت طلبا کے کارکنوں کو ہماری تقریب کے قریب سٹالز لگانےکی اجازت دی۔ ایک نجی ٹی وی کو دئیےگئے انٹر ویو میں یونورسٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انتظامہ کی طرف سے جمیعت کو سٹال لگانے اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ دوسری طرف لڑائی سے قبل یونیورسٹی کے چیف سیکورٹی آفیسر کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ جمیعت نے سٹال لگانے کی اجازت لے رکھی تھی۔

درس گاہ میں اسطرح کی ہنگامہ ٓارائی افسوسناک ہے:وزیرِ اعلی پنجاب

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جاب سے فوری طوز پر واقعہ کا نوٹس لیا گیا ۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کوئی قانون سے بالاتر نہیں ۔ہنگامہ ٓارائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے تحت بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔درس گاہ میں اسطرح کی ہنگامہ ٓارائی افسوسناک ہے ۔ وزیر اعلی نے سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا۔

دوسری طرف صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پنجاب یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں کے درمیان ہونے والی ہنگامی آرائی کی تحقیقات،ذمہ داران کے تعین اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی سربراہی میں کام کرے گی۔ کمیٹی میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افئیرز ،چئیرمین ہال کونسل، ایس پی اقبال ٹاوٗن، اقامتی آفیسراول، ایس ایچ او مسلم ٹاوٗن اور دو دو طلباء نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی دس روز میں واقعے کی تحقیقات کر کے سفارشات پیش کرے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ ہم کیمپس میں پر امن ماحول قائم کریں گے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں گے

جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کا کہنا تھا  واقعہ میں ملوث  افراد کے خلاف  بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایس پی عمر کے مطابق پولیس نے موقع سے22 طلبا کو حراست میں لیا گیا  ۔جبکہ وزیر قانون رانا ثنااللہ  نے  آج کے واقعہ کا ذمہ دار اسلامی جمیعت طلبا کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ  گرفتار طلبا میں سے 18 کا تعلق اسلامی جمیعت طلبا سے ہے ۔

جبکہ اسلامی جمیعت نے موقف اختار کیا  کہ  اسلامی جمیعت طالبات کی ایک تقریب ہورہی تھی جس پر پہلے پختون طالب علموں نے حملہ کیا ۔

زخمی طلبا کے ناموں کی فہرست

Comments

comments

Source URL: http://urdu.educationist.com.pk/?p=1131