دفتری اردو کورس متعارف کرانے کا مطالبہ!

دفتری اردو کورس متعارف کرانے کا مطالبہ!
مارچ 21 08:45 2017 Print This Article

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیرِ اہتمام کراچی میں اردو کے نفاذ کے لئے ایک روزہ اجلاس

کراچی (منگل،۲۱ مارچ ۲۰۱۷) قومی یک جہتی کے لیے اردو کا نفاذ ناگزیر ہے، اردو زبان کا نفاذ آئینی تقاضا ہے اور اردو زبان کے نفاذ کے لیے فضا سازگار ہو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام کراچی میں اردو کے نفاذ کے ضمن میں ایک روزہ خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ہائر ایجوکیشن کمیشن، اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل (اکیڈمکس) جناب محمد رضا چوہان نے کی، اجلاس میں صوبہ پنجاب کی نمائندگی، صدر شعبۂ اردو پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے، صوبہ سندھ کی نمایندگی، چیئرپرسن شعبۂ اردو، جامعہ کراچی پروفسیر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے، صوبہ خیبرپختونخوا کی نمایندگی صدرِ شعبۂ اردو پشاور یونیورسٹی، ڈاکٹر سلمان علی نے، صوبہ بلوچستان کی نمایندگی صدر شعبۂ اردو بلوچستان یونیورسٹی، کوئٹہ ڈاکٹر خالد محمود خٹک نے کی جب کہ وفاقی دارالحکومت سے صدر نشین شعبۂ اردو، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز، ڈاکٹر روبینہ شہناز اجلاس میں شریک ہوئیں۔

جامعات میں  ۱۰۰ نمبر کے لازمی اردو کورس متعارف کرانے پر زور

خصوصی اجلاس میں اردو کے عملی نفاذ کے حوالے سے مختلف امور زیرِ بحث آئے۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اردو زبان کا نفاذ آئینی تقاضا ہے اور اردو زبان کے نفاذ کے لیے فضا سازگار ہو چکی ہے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے قومی دارالترجمہ کے قیام، پاکستانی جامعات میں بی ایس (چار سالہ پروگرام) میں ۱۰۰ نمبر کے لازمی اردو کورس اور سرکاری اداروں میں مختصر دورانیے کے دفتری اردو کورس متعارف کرانے پر زور دیا۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں نفاذِ اردو کے حوالے سے کی جانے والی کے حوالے سے کو ششوں پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی خصوصی دلچسپی کا ذکر کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں منعقد کرانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے قیامِ پاکستان سے اب تک اردو کے نفاذ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں علمی، ادبی، دفتری، سائنسی اور سماجی علوم کے حوالے سے قابلِ قدر ذخیرہ موجود ہے۔ اس لیے اردو کے نفاذ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ڈاکٹر سلمان علی اور ڈاکٹر خالد محمود خٹک نے اس موقع پر اردو کے نفاذ کو قومی یک جہتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل (اکیڈمکس) جناب محمد رضا چوہان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہائرایجوکیشن کمیشن اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے نفاذِ اردو کے لیے تمام وسائل فراہم کرے گا اور اجلاس کے شرکا کی تجاویز متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی جائیں گی۔

Comments

comments