دو سالہ بی اے اور ایم اے پروگرام ختم کرنے پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار کی وضاحت

دو سالہ بی اے اور ایم اے پروگرام ختم کرنے پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار کی وضاحت
مارچ 18 21:27 2017 Print This Article

فیصلہ ۲۰۱۵میں ہی کرلیا گیا تھا، ایچ ای سی کا حالیہ نوٹیفیکیشن محض ایک یاد دہانی ہے

لاہور (ہفتہ ، ۱۸ مارچ ،۲۰۱۷ ) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی تعلیمی اسناد کو دُنیا کے برابر بنانے اورمعیاری تعلیم کے فروغ کیلئے دو سالہ بی اے، بی ایس سی اور ایم اے ، ایم ایس سی پروگرام کو بتدریج چار سالہ بی ایس پروگرام میں ضم کرنے کا کام۲۰۰۴سے ہو رہاہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں، ایچ ای سی کا حالیہ نوٹیفیکیشن محض ایک یاد دہانی ہے تاکہ تعلیمی ادارے اسے لاگو کریں ۔

 

ہائر ایجوکیشن کمیشن ریجنل سنٹر لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے اُنھوں نے کہا کہ ۲۰۰۲ میں ریفارمز کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کام تھا کہ وہ دُنیا بھر میں پاکستان کی ڈگریوں کی ساکھ بہتر بنائے۔ ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ دو سالہ بی اے اور ایم اے کی ڈگری ختم کرنے کا فیصلہ ۲۰۱۵میں کیا گیا تھا تاہم اس تجویز پر کام ۲۰۰۳ شروع کیا گیا۔اُنھوں نے کہاکہ کمیشن کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے دو سالہ ڈگری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کیلئے کمیٹی میں چاروں صوبوں کے نمائندوں کو شامل کیا۔
ڈاکٹر مختار احمد نے کہاکہ۲۰۱۵ء میں تمام سرکاری جامعات کو خط لکھا گیا تھا جس میں بتایا گیا کہ وہ انتظامات مکمل کریں تاکہ فیصلہ لاگو کیا جاسکے۔

ایسوسی ایٹ ڈگری کیا ہے؟

ایک کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ چار سالہ پروگرام میں اگر کوئی طالبعلم دو سال بعد تعلیم چھوڑنا چاہے گا تو اُسے ایسوسی ایٹ ڈگری دی جائے گی تاہم اگر وہ اس کے بعد دوبارہ تعلیم شروع کرنا چاہے تو اُس کی بھی اجازت ہوگی۔ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ ایچ ای سی نے صوبوں سے مشاورت کیے بغیریہ فیصلہ کیا ۔

پرائیویٹ اُمیدوار ریگولر کے برابر کیونکر؟

اُنہوں نے کہ پرائیویٹ اُمیدوار متحان سے دو، تین ہفتے قبل فارم جمع کرواکے امتحان میں بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ریگولر اُمیدواروں کیطرح باقاعدہ تعلیم اور تربیت حاصل نہیں کرتے۔ تین تین چار چار ایم اے کر کے لوگ نوکری حاصل نہیں کر پاتے ۔ لہذا نظام میں تبدیلی ناگزیر تھی۔ یونیورسٹیوں نے پرائیویٹ پروگرام کو آمدن کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔

نئے لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسروں کی بھرتی کے لئے کم از کم تعلیم کیا؟ پرانوں کا کیا ہو گا؟

نئے لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسروں کی بھرتی کے لئے کم از کم تعلیم ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مختار احمد نے بتایا کہ پاکستان کی سرکاری ونجی جامعات میں اساتذہ کی تعداد ۴۱۰۰۰ ہے جس میں سے صرف ۱۱۸۰۰ پی ایچ ڈی ہیں،  پاکستان میں اس وقت ۳۰،۰۰۰ پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی ہے۔ انھوں نے کہا کی رینکنگ کو بہتر کرنے کیلئے پی ایچ ڈی اساتذہ کی اشد ضرورت ہے۔ ۲۰۱۵سے اس پالیسی کو لاگو کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس ڈیڈ لائن میں تو سیع کر دی تھی۔

اب ایچ ای سی نے دوبارہ اعلان کردیا ہے ۔ نئی بھرتیاں نئی پالیسی کے مطابق ہوں گی، پرانی بھرتیوں پر اس پالیسی سے کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ اس وقت ۶۰۰۰ سے زائد ایم فل موجود ہیں اور ۲۶۰۰۰ ایم فل کر رہے ہیں، یہ ایک بڑی تعداد ہے۔

صحافیوں کے دورے

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں بہت کام ہو رہا ہے ، وہ صحافیوں کے ساتھ بلوچستان، گلگت سمیت ملک بھر کی جامعات کا دورہ کریں گے اور بیروں ملک وفود کے ساتھ بھی ایک ایک صحافی کو بھیجا جائے گا۔

Back to Conversion Tool

Comments

comments