پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں Women Empowerment کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں Women Empowerment کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد
مارچ 16 20:00 2017 Print This Article

 منیزہ ہاشمی ، تنزیلہ خان ، آمنہ مفتی ، ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ ، سویراشامی کی شرکت

رپورٹ۔ حرا شہباز
 لاہو ر (جمعرات ۔16 مارچ 2017 ) خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں سیمینار منعقد کیا گیا ۔
 اس سیمینار کے لیے ” Women Emopowerment ” کا موضوع مختص کیا گیا اس موضوع پر لب کشائی کے لیے سماجی کارکن منیزہ ہاشمی Motivational Speaker تنزیلہ خان، اردو ادبیہ آمنہ مفتی ، پرنسپل کنیئر ڈ کالج ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ،  انچارج شعبہ ابلاغیات سویر اشامی اور دیگر طلباء وطالبات نے شرکت کی ۔  سیمینار کی صدارت منیزہ ہاشمی نے کی اور انہوں نے ” Women Empowerment ” کو مدنظر رکھتے ہوئے مہمانوں اور حاضرین سے مختلف سوالات کیے۔
 منیزہ ہاشمی کا کہناتھا کہ عورت نے معاشرے میں اپنے لیے بہتر جگہ بنالی ہے 20 کی دہائی میں جب انہیں خواتین کے حوالے سے پی ٹی وی پر پروگرام کرنا تھا تو انہیں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے قبول کرنا شروع کردیا۔
 تنزیلہ خان نے مشرقی معاشرے میں عورت کے باوقار مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جو عزت عورت کو مشرقی معاشرے میں ملتی ہے اس عزت کی خواہش ہر خاتون کرتی ہے ۔جبکہ اپنی جسمانی معذوری کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی وقت میں انہیں اپنے لیے بہت برا محسوس ہوتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کو اندازہ ہو ا کہ اللہ نے انہیں اس دنیا میں بھیجا ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی مقصد ہوگا اور اسی مقصد کی تلاش میں انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ۔
 اردو ادبیہ اور ڈرامہ نگار آمنہ مفتی کا کہنا ہے کہ عورت کا کردار ساس بہو کی لڑائی جھگڑا تک محدود نہیں ہے اور اس سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے وہ جدوجہد کر رہی ہیں۔ اُنہوں نےکہاکہ ہمارے میڈیا نے بھی اب اس حقیقت کو قبول کرنا شروع کردیاہے ۔ ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ نے کہا کہ Women Empowerment کے لیے تعلیم کے علاوہ بھی مزید پہلو ہیں جو ان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں اس لیے کنیئرڈ کالج میں نصابی سرگرمیوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے
 سویرا شامی نے کہا کہ خواتین کو اپنی پہچان بنانے کے لیے مرد حضرات سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔  ان کی معاشرے میں اپنی اہمیت موجود ہے اس کے لیے صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ۔ سیمینار کے اختتام میں سوالاتی سیکشن کابھی وقت رکھا گیا اور طلباء وطالبات نے اس میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا معزز مہمان گرامی نے بھی خوش اسلوبی سے تما م سوالوں کا جواب دیا
منیزہ ہاشمی نے شکریہ کلمات ادا کر کے سیمینار کا اختتام کیا ۔

Comments

comments