غیر معیاری تحقیقی مجّلات کو مسترد کرنا اچھا اقدام ہے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری

غیر معیاری تحقیقی مجّلات کو مسترد کرنا اچھا اقدام ہے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری
ستمبر 20 15:42 2017 Print This Article

پاکستانیوں میں قابلیت کی کمی نہیں،میرٹ پر کام کیا جائے تو عالمی سطح پراعلیٰ رینکنگ حاصل ہو سکتی ہے ۔ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف سرگودھا لاہورکیمپس 
یونیورسٹیوں میں ہرصورت مستقل وائس چانسلرلگنے چاہیں اور جب کسی کی مدت ختم ہونے والی ہوتو اس سے پہلے ہی نئے وائس چانسلر کاانتخاب ہوجاناچاہیے

ایک بڑی مادرِ علمی کا سربراہ غیریقینی کیفیت میں کام کرے یہ سراسرزیادتی ہے

ٓانٹرویو پینل : شبیرسرور، عبداللہ قریشی

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے غیر معیاری تحقیقی مجّلات کو مسترد کرناایک اچھا اقدام ہے۔ اس مسئلے پر بہت سے اجلاس ہوئے، جرنلز کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ بالکل ٹھیک ا قدام ہے۔ہمارے سائنس دان ،ماہرمعاشیات اورماہرمعاشرت باہر جا کر اتنازیادہ کام کرتے ہیں کہ پاکستان کا نام روشن ہو تا ہے۔یہاں قابلیت کی کمی نہیں، اگر میرٹ پر اور بر وقت کام کیا جائے تو ہمارے ادارے بھی عالمی سطح پراعلیٰ رینکنگ میں شمار ہوسکتے ہیں۔تعلیم کے لئے بجٹ میں زیادہ رقم مختص ہونی چاہیے مگر گورنمنٹ بہت کم ترجیح دیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہارڈائریکٹر یونیورسٹی آف سرگودھا لاہورکیمپس ڈاکٹراکرم چوہدری نے دی ایجو کیشنسٹ سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ تفصیلات درجِ ذیل ہیں:۔

دی ایجوکیشنسٹ: اپنی ابتدائی زندگی اورتعلیم کے بارے میں بتائیے؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: میرا تعلق ۱۱۳ مراد گاؤں(ضلع بہاول نگر )سے ہے۔میراسکول گاؤں سے بہت دور تھا۔میٹرک میں نے تحصیل چشتیاں سے کیا، اس کے بعد بی اے کیا اور لاہور آگیا۔اسلامیہ کالج سے اکنامکس (معاشیات)میں ماسٹرز کیا۔ اس دور میں چند طلباء ہی فرسٹ ڈیژن میں پاس ہوتے تھے۔اللہ کاشکر ہے میں بھی انہی چند طلباء میں شامل تھا۔ماسٹرزکرنے کے بعد میں نے لاء کالج پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا، ایل ایل بی کی تعلیم مکمل ہونے والی تھی کہ میری دو تین جگہ سلیکشن ہوگئی ۔ والدصاحب کو لیکچرار کی نوکری پسند تھی اس لیے میں نے گورنمٹ کالج اُچ شریف سے بطور لیکچرار اپنی عملی زندگی کاآغازکیا۔کچھ عرصے بعد میری پوسٹنگ وہاڑی ہو گئی اس کے بعدمیراتبادلہ گورنمنٹ کالج لاہور ہوگیا۔اسی دوران میں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور اسسٹنٹ پروفیسر ہو گیا۔پھر مجھے کنٹرولرامتحانات بہاولپور بورڈلگا دیاگیا۔ بعد میں مجھے چیف ایڈمن آفیسر گورنمنٹ کالج لاہور تعینات کردیاگیا۔میں کنٹرولر امتحانات لاہوربورڈبھی رہا۔اس کے بعدمجھے اسسٹنٹ پروفیسرآف اکنامکس جی سی یونیورسٹی تعینات کردیاگیا۔اسی دوران تھوڑے عرصے کے لیے میں ڈپٹی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب بھی رہا۔ مجھے بہت فخر ہے کہ میں ۲۰۰۲ ؁ء میں پنجاب کا پہلا جی -او -ڈی تعینات ہوا۔ اس کے بعد میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن بھی رہا۔ اسی دوران میں ۲ سال چیئر مین گوجرانوالہ بورڈبھی رہا۔دسمبر۲۰۱۱ ؁ء میں پروفیسر آف اکنامکس کے طورپرگورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کوجوائن کیا۔ ۲۰۱۴ ؁ ء میں گورنمنٹ سروس سے ریٹائرمنٹ لے لی اوریونیورسٹی آف سرگودھالاہورکیمپس کومستقل طورپرجوائن کرلیا۔اس تمام عرصے میں نے بہت دیانت داری اور محنت سے کام کیا جس پرمجھے وزیرِاعلیٰ پنجاب کی جانب سے بہترین کارکردگی کا سرٹیفیکیٹ بھی ملا۔

دی ایجوکیشنسٹ : ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بہت سے مقامی تحقیقی مجّلات مسترد کر دیے ہیں اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: میں تو کہوں گا کہ یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ اس مسئلے پر بہت سے اجلا س ہوئے۔ جرنلز کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ بالکل ٹھیک اقدام ہے۔
دی ایجوکیشنسٹ : آپ کی یونیورسٹی میں ایم فل اورپی ایچ ڈی پروگرام نہیں پڑھائے جاتے۔ کیا آپ ان کو شروع کروانے کا ادارہ رکھتے ہیں؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: انشااللہ اس سلسلے میں ہم ہائیرایجوکیشن کمیشن سے رابطہ کریں گے۔ اس حوالے سے ان کے معیار کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے ، ہائیرایجوکیشن کمیشن ہمارا معیار ، انتظامیہ اور باقی معاملات کو دیکھ کر اگر مناسب سمجھے گا اور ہمیں اجازت دے گا تو ہم ضرور شروع کریں گے۔ پہلے یہاں ۹ پروگرامز میں ایم فل ہوتا رہا ہے۔ہم نے طلبا ء کوفزکس، ریاضی، سائیکالوجی اور اکنامکس میں ایم فل کروائے ہیں۔لیکن اب ہم اپنے معیار کو مزید بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے سب کیمپس ایسے ہیں جنھیں ایم فل کرانے کی اجازت نہیں ملی۔ہمارا یہ پہلا کیمپس ہے جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اجازت دی ہے۔ ؒ ٓمیں ایم فل کروایا ہے۔ لیکن اب ہم اپنے معیار کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے sub-campusایسے ہیں جنہیں ایم فل کرانے کی اجازت نہیں ملی۔ہمارا یہ پہلا کیمپس ہے جسے ہائرایجوکیشن کمیشن نے اجازت دی۔
دی ایجوکیشنسٹ : اٹھارویں ترمیم کے تحت وائس چانسلر سرچ کمیٹی کے اختیارات ہائیرایجوکیشن کمیشن کے پاس ہونے چاہیں یا پھر پنجاب ہائیرایجوکیشن کمیشن کے پاس؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: جس و قت پنجاب ہائیرایجوکیشن کمیشن کوشروع کرنے کاارادہ کیاگیا میں اس وقت ایڈیشنل سیکرٹری تھا۔ ہم نے اس کی بہت زیادہ مخالفت بھی کی تھی کہ معیاری تعلیم کا کام ہائیرایجوکیشن کمیشن کو ہی کرنا چاہیے،لیکن یہ ترمیم کر دی گئی۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایچ ای سی اور پی ایچ ای سی کو معیاری تعلیم کے لیے پراثر کام کرنا چاہیے۔ایچ ای سی کو انتظامی امورکی طرف توجہ دینی ہو گی۔ ایچ ای سی اور پی ایچ ای سی کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ میں خود وائس چانسلر سلیکشن کمیٹی کا حصہ رہا ہوں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آرڈر آیا ہو کہ فلاں شخص کو منتخب کرنا ہے۔ اُس وقت سلیکشن کمیٹی میں بابر علی ، سرتاج عزیز ، جنرل اکرم بھی شامل تھے ، ہم میرٹ پر اپنا کام کرتے تھے۔اب سرچ کمیٹی میں پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین کو ضرور شامل ہونا چاہیے۔
دی ایجوکیشنسٹ : پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی سلیکشن میں تاخیرکو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس طرح کے اہم معاملات میں اتنی تاخیرکرتے ہیں۔میرا خیال ہے یہ سیاست کی نذرہوجاتے ہیں۔ہمارے ملک میں ایسے معاملات سیاسی دباؤ کی وجہ سے تاخیرکاشکارہوجاتے ہیں۔اتنی بڑی مادرِ علمی کا سربراہ غیریقینی کیفیت میں کام کرے یہ سراسرزیادتی ہے۔یونیورسٹیوں میں ہرصورت ریگولروائس چانسلرلگنے چاہیں اور جب کسی کی مدت ختم ہونے والی ہوتو اس سے پہلے ہی نئے وائس چانسلر کاانتخاب ہوجاناچاہیے۔
دی ایجوکیشنسٹ : وائس چانسلر کے انتخاب میں عمر کی حد اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری ختم کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: ۶۵ سال سے زائدعمرانسان میں اتنی زیادہ توانائی نہیں رہتی۔ کم عمر انسان اچھا اور چستی سے کام کر سکتا ہے۔اس لئے ۶۰ سال سے زائدعمر کاوائس چانسلرلگانا زیادتی ہے۔VCاگر PhDنہیں ہو گا تو اسے کیا پتہ کہ تحقیق کیسے ہوتی ہے اور کیسے کروانی ہے؟کسی نان پی ایچ ڈی کووائس چانسلرلگانازیادتی ہے،میں دونوں کے خلاف ہوں۔
دی ایجوکیشنسٹ : آپ کے خیال میں کیاطلباء کو اپنی تعلیم کے دوران سیاست سے تعلق رکھنا چاہیے؟پاکستان کے تعلیمی معیار کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: طلباء کو سیاست سے دور رکھنے کا یہ ایک واحد حل ہے کہ تعلیمی اداروں سے سیاست بالکل ختم ہوجانی چاہیے۔ہمارے سائنس دان ،ماہرمعاشیات اورماہرمعاشرت باہر جا کر اتنا کام کرتے ہیں کہ پاکستان کا نام روشن ہو تا ہے۔یہاں قابلیت کی کمی نہیں، اگر میرٹ پر اور بروقت کام کیا جائے تو یہاں کے ادارے بھی عالمی سطح پراعلیٰ رینکنگ میں شمار ہوسکتے ہیں۔تعلیم کے لئے بجٹ میں زیادہ رقم مختص ہونی چاہیے مگر گورنمنٹ بہت کم ترجیح دیتی ہے۔

دی ایجوکیشنسٹ : اساتذہ اور طلباء کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ڈاکٹراکرم چوہدری: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایاہے کہ انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے اللہ اس کو کامیابی ضرور عطا کرتا ہے۔ طلباء کو اپنا ایک ہدف متعین کرنا چاہیے، کوشش اور محنت میں دل لگائیں۔ اساتذہ کو تحقیق پرزیادہ توجہ دینی چاہیے۔

Comments

comments