کامیابی کی تین لکیریں

کامیابی کی تین لکیریں
مارچ 08 20:42 2017 Print This Article

انتخاب: اے آرساجد

وہ جھونپڑ ی سے تعلق رکھتا تھا‘ باپ شراب پی پی کر مر گیا‘ ماں نے اسے دوسروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھو کر پالا‘ وہ پندرہ سال کا تھا تو اس نے چائے کا چھوٹا سا کھوکھا بنا لیا‘ وہ کھوکھے کا مالک بھی تھا‘ کک بھی اور ویٹر بھی‘ وہ روز سو ڈیڑھ سو روپے کمالیتا تھا‘ گھر میں خوش حالی آ گئی مگر وہ مزید ترقی کرنا چاہتا تھا‘
پنجاب یونیورسٹی کا ایک پروفیسر صبح کے وقت اس کے کھوکھے سے چائے پیتا تھا‘ وہ بچے کی محنت پر خوش تھا‘ وہ اسے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سکھاتا تھا‘ عظیم نے ایک دن پروفیسر سے پوچھا ’’ماسٹر کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘ عظیم کا اگلا سوال تھا ’’کیسے؟‘‘
پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘ عظیم کے کھوکھے کے پاس پہنچا‘ دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (سکل) لکھا۔

عظیم پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد عظیم کی طرف مڑا اور بولا ’’ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘ پہلا زینہ محنت ہے‘ آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے‘ آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہیے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہیے‘ آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘پروفیسر نے کہا’’ ہمارے گرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘
آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصدسست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں‘ اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے‘ ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے‘ وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اوراپنی غلطی کا اعتراف کرنا‘ آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘تم ایماندار ہو جاؤ گے اور کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے‘ آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں‘ آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے اور پیچھے رہ گیا 20فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے‘آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 200 فیصد بھی دے دے گا‘ آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘ پروفیسر نے عظیم کو بتایا ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں‘ آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘ آپ کو ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا اور آپ کو آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘ پروفیسر نے عظیم کو بتایا‘ میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘ کیوں؟
’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘ تم آکاش تک پہنچ جاؤ گے‘‘ عظیم نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’میں نے چاک سے بنی ان تین لکیروں کو اپنا مذہب بنا لیااور میں 45 سال کی عمر میں ارب پتی ہو گیا.

Comments

comments