پی ایس ایل 2 کا فائنل لاہور میں

پی ایس ایل 2 کا فائنل لاہور میں
مارچ 04 19:27 2017 Print This Article

تحریر: نبیل احمد ورک


اتوار کو پاکستان سپر لیگ 2 کا فائنل لاہور کے قذافی سٹیدیم میں ہونے جا رہا ہے۔ فائنل کی تیاریاں انتہائی زور و شور سے جاری ہیں، سیکیورٹی کے سخت سے سخت اور بہترین انتظامات کو یقینی بنایا گیاہے۔ میچ کی ٹکٹس کے حصول کیلیے تو شائقین کا جم غفیر امڈ آیا ملک بھر سے شائقین لاہور ٹکٹیں خریدنے آ گئے اور کچھ ہی گھنٹوں میں ٹکٹیں فروخت ہو گئیں۔ پاکستانیوں کا جذبہ اور انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات قابل ستائش ہے اور ہو بھی کیوں نہ، آخر کرکٹ ہماری رگ رگ میں دوڑتا ہے اور ایک لمبے عرصے بعد کرکٹ کی واپسی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ بھی آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کی جانب سے حملے کے بعد پاکستان کے میدان ویران ہوگئے، پاکستان میں کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے۔ 7 برس کے بعد جب پاکستان سپر لیگ کے فائنل کا انعقاد لاہور میں کروانے کا اعلان ہوا تو ملک دشمن عناصر سرگرم ہوئے اور انہوں نے لاہور،کوئٹہ،پشاور، سیہون اور پھر لاہور میں دھماکے کئے۔ ملک کی سیکیورٹی اور پاکستان کے امن پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔ ملک میں جاری اس دھشتگردی کے باوجود پاکستان سپر لیگ 2 کا فائنل لاہور میں ہی کروانے کا فیصلہ ہوا۔ وطن عزیز میں امن و امان کی صورتحال اور فائنل لاہور میں ہونے کے پیش نظر کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود پاکستان سپر لیگ 2 کا فائنل لاہور میں ہی ہونا طے پایا۔ 2 فائنلسٹ ٹیموں میں سے کوئٹہ گلیڈیٹرز کے غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور آنے سے معذرت کرلی جبکہ پشاور زلمی کے کھلاڑی لاہور پہنچ گئے۔ ہم بلاشبہ اپنے میدانوں کی آبادکاری کے ذریعے دنیا کو اپنے پر امن ہونے کا پیغام دینا چاہتے ہیں جس کیلیے ہم ہر ممکن کاوش کر رہے ہیں لیکن آپ خود سوچیے کہ کیا پاکستان ایک پر امن ملک ہے۔ جہاں ہفتے دس دن میں 5 دھماکے اور درجنوں جنازے اٹھ چکے ہوں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر دھشتگرد پکڑے جاتے ہوں، جہاں مائیں حصول علم کیلیے اپنے بچے سکول بھیجتی ہوں اور واپس صرف خون آلود لاشے آتے ہوں، جہاں بازار، سڑکیں کھیت کھلیان محفوظ نہ ہوں، جس دیس کی عدالتیں اور ہسپتال خوف کے عالم میں ہوں اور جس دیس میں مساجد، درباروں، گرجاگھروں اور امام بارگاہوں مین موت رقص کرے اس ملک سے آپ کس طرح امن کا پیغام بھیج سکتے ہیں۔ جس ملک کے اپنے باسیوں کو باہر نکلتے وقت زندگی اور موت کا خدشہ ستاتا ہو اس سرزمین سے امن کا پیغام دینا دیوانے کا خواب ہے۔ آپ 5 مارچ کو پورے پاکستان کا لاہور سے رابطہ منقطع کر دیں گے، لاہور میں ایک قسم کا کرفیو نافذ رہے گا، ذندہ دلان اپنے اپنے گھروں میں مقید رہے گے۔ ٹیموں کے روٹ پر چڑیا بھی پر نہیں مار سکے گی۔ قذافی اسٹیڈیم کے اطراف کو مقبوضہ کشمیر بنا دیا جائے گا۔ 84 ایس ایچ اوز ، پورے ملک کی تمام ایجنسیز، فوج اور رینجرز تعینات کرکے، شہر بھر کے ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کرکے، دنیا کو امن کا پیغام دے رہے ہیں۔ معذرت کے ساتھ لوگ ایسے امن کے پیغام کو واپس آپ کے منہ پر مارے گی۔ آپ نے دبئی میں پورا ٹورنامنٹ کروایا تو کیا وہاں کسی نے کرفیو لگایا، موبائل فون بند کئے، ملک کی سیکیورٹی نافذ کی؟ نہیں ناں!
ایسے دیا جاتا ہے امن کا پیغام۔ اللہ کرے کہ دنیا کے سامنے آپ جو باور کروانا چاہتے ہیں اس میں آپ کامیاب ہوں جائیں اور اگلے ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان کے حصہ میں آ جائے تو تب بھی کیا آپ یوں ہے کرفیو نافذ کریں گے؟ آپ اپنے ملک کے حالات واقعی بہتر کیجئے۔ اسی طرح ٹورنامنٹ کروائیے جس طرح آپ برطانیہ، آسٹریلیا ، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دبئی کھیل کر آتے ہیں۔
یہ میری ذاتی رائے ہے آپ اس سے اتفاق اور اختلاف کر سکتے ہیں۔ واضع رہے کہ میں پاکستان میں کرکٹ کا بالکل مخالف نہیں ہوں بلکہ میری خواہش ہے کہ ورلڈکپ کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مد مقابل ہوں، میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہو رہا ہو اور میں اپنے پوتے پوتیوں کیساتھ آفریدی، مصباح اور حفیظ کو کھیلتا دیکھوں۔

Comments

comments

  Categories: